اللہ تعالیٰ نے پانی آئینی ذمہ داری کی احسن ادائیگی میں سرخرو کیا:دوست محمد خان

اللہ تعالیٰ نے پانی آئینی ذمہ داری کی احسن ادائیگی میں سرخرو کیا:دوست محمد ...

پشاور( سٹاف رپورٹر)نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سابق جسٹس دوست محمد خان نے کہا ہے کہ ا پنی آئینی ذمہ داری کی احسن ادائیگی میں اللہ تعالیٰ نے سرخرو کیا۔ عوام، فورسز اور سرکاری افسران کے تعاون پر مشکور ہوں،ہر ممبر کو میرٹ پر کابینہ میں شامل کیا۔ الیکشن کا پرامن اور کامیاب انعقاد ایک چیلنج تھا، ٹیم ورک کی طرح کا م کیا۔آنے والی حکومتوں کو تمام شعبوں میں اچھی حکمرانی کیلئے روڈ میپ دیا۔ ابتدا میں تکلیف دہ واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔ تھریٹ الرٹ کی ایوالویشن اور پوٹنیشلیٹی کیلئے نئی گائیڈلائن دی۔ سیاسی لیڈر شپ ، جلسے اور جلوسوں کیلئے نہ ٹوٹنے والے حفاظتی حصار قائم کرکے سب سیاسی قوتوں کو یکساں playing field دی، وفاق سے 68 ایف سی پلاٹون اورآزاد کشمیر کے 500 تربیتی یافتہ پولیس منگوائی, غیر محفوظ علاقوں میں پولیس کی اضافی تعیناتی کی۔ صوبے کی تاریخ میں پرامن ترین پولنگ دن کا موقع فرہم کیا ۔ تمام پراسس کی خود نگرانی کی، تمام field افسران کے ساتھ رابطہ رکھا۔ حالات کو کنٹرول کرنے کیلئے فورسز اور انتظامیہ کو الرٹ رکھا۔ اپنی غیر جانب داری سے لوگوں کے اندازے غلط ثابت کئے جس کی وجہ سے صاف، شفاف اور غیر جانبدار الیکشن کا انعقاد ممکن ہوا ۔ اس صوبے کے عوام، فوج ، پولیس اور معاشرے کے تمام طبقوں نے بیش بہا قربانیاں دیں۔ دہشت گردی کی جنگ سے نکلنا ہماری کامیابی ہے جس کیلئے سفارتی اور بات چیت کا راستہ اپناناضروری ہے۔ صوبے میں چھ نئے شامل ہونے والے اضلاع کو قومی دھارے میں شامل کرنا ملک و قوم کے مفاد میں ہے۔ حکومتی اختیار کے قیام کیلئے تمام وسائل بروئے کار لانے ہونگے یہی دائمی عمل ہے اور ملک کی سلامتی کی طرف ایک سفر ہے۔دہشت گردی کی جنگ میں ملک کو4500ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان اٹھانا پڑا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سول سیکڑٹریٹ کے کیبٹ روم میں نگران صوبائی کابینہ کے آخری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں تمام صوبائی وزراء، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور انتظامی سیکٹریوں نے شرکت کی۔نگران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمارے وسائل لامحدود ہیں ، ان سے استفادہ کر کے ہم ملک و قوم کے لئے خوشحالی ، نوجوانوں کیلئے روزگار اور معیشت کو مستحکم کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ملکی وسائل سے استفادہ کرنا، غذائی اجناس میں خود کفالت، سستی بجلی پیدا کرنا، پانی کو زرعی مقاصد کیلئے استعمال کرنااور صنعت کاری کیلئے راہ ہموار کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ہم اگلی حکومت کیلئے گائیڈ لائن چھوڑرہے ہیں۔ انہوں نے نئے اضلاع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ان اضلاع میں ایڈمنسٹریشن اور سیکیورٹی کے حالات تسلی بخش نہیں رہے ہیں ان علاقوں کے لوگوں نے بہت قربانیا ں دی ہیں ۔ چونکہ یہ علاقے پہلے اسلام آباد سے کنٹرول ہوتے تھے اس لئے ایک خلاء سا رہ گیا۔نگران وزیر اعلیٰ نے صوبائی سیکرٹریوں کو ہدایت کی کہ آپ نے اس خلاء کو پر کرنا ہے اور وہاں کے عوام کو ریلیف پہنچانا ہے ،انہوں نے کہا کہ ہر سرکاری افسر کو سرکاری خزانے کا زیادہ سے زیادہ امین ہونا چاہئے، ہمیں ہر سطح پرسادگی کے اقدامات کو اختیار کرنا چاہئے۔ انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس کا 19 لاکھ کا بجلی کا بل 6 لاکھ تک لے آیا۔ میں نے وزیراعلیٰ ہاؤس کی تمام اضافی لائٹس اور ACs کو بند کرایا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ہمیں اپنے لائف سٹائل کو بدلنا ہوگا اور سادگی اپنانی ہو گی۔دوست محمد خان نے کہا کہ مختلف اقدامات کر کے حلال فوڈ اتھارٹی میں کافی بہتری لائی، مارکیٹ میں اشیاء خوردونوش کی قیمتیں مستحکم کیں ۔ زراعت پر خاص توجہ دی، ہر قسم بیماریوں سے پاک اور 100 فیصد خالص دودھ بمعہ فریزر پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا ۔ عنقریب صوبے کے تمام شہروں میں مذکورہ دودھ کے ڈسپلے سنٹر قائم کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ کسان یا زمیندار وسائل اور افرادی قوت کی کمی کی وجہ سے جو زمین قابل کاشت نہیں بنا سکتے ان کو حکومت 50 فیصد پارٹنرشپ پر لیکر زراعت کے طلباء اور سکالرز کو25 فیصد شیئر کے ساتھ زمین رہن پر دے کرقابل کاشت بنایا جا سکتا ہے۔اس طرح سے ہمارے بیروزگار نوجوان نوکریاں ڈھونڈنے کی بجائے نوکریاں دینے والے بن جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نئی بننے والی تمام سرکاری عمارتوں کو فوری طورپر استعمال میں لایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کیلئے بنائے گئی کئی عمارات ایسی ہیں جوکئی مہینے پہلے مکمل ہو چکی ہیں مگر بد قسمتی سے وہاں یہ سٹاف اور سرجیکل آلات نہ ہونے کی وجہ سے بیکار پڑے ہیں ان کو فوری طور پر بحال کرنا ہے انہوں نے ہدایت کہ کہ پانی کے ضیائع کو روکنے کے لئے ڈرپ ایریگیشن سسٹم اور لا تعداد چھوٹے ڈیم بنانے ہونگے۔انہوں نے کہا کہ شمالی علاقاجات میں تین قسم کے گلیشئرز ہیں ان گلیشئرز کو سائنسی طریقہ کار کے ذریعے محفوظ کرنا ہے۔نگران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم پہاڑی علاقوں میں چھوٹے ڈیم بنا کر ڈھائی ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کر سکتے ہیں، نئے شامل ہونے والے اضلاع تمام قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں جہاں ہر قسم خشک اور تازہ پھلوں کے باغات اور جنگلات کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ہم نے ان پھلوں کو محفوظ کرکے باہر ملکوں کو بر آمد کرنا ہے،اس کے علاوہ بانڈہ داؤد شاہ سے لیکر پاڑہ چنار تک پورابیلٹ تیز ہواؤں کی پٹی ہے، جہاں پر ہوائی چکیاں بنا کر تین ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کے پی او جی ڈی سی ایل نے خیبر پختونخوا میں تیل اور گیس کے نئے کنویں دریافت کئے، اسکے علاوہ نئے شامل ہونے والے اضلاع میں چھ ایسے مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہا ں تیل و گیس دریافت کی جا سکتی ہے، اگر ہم انکو دریافت کرنے میں کامیاب ہو گئے تو پاکستان کو دنیا کے کسی ملک سے بھی تیل یا گیس درآمد نہیں کرنی پڑے گی بلکہ لوگ باہر سے ہمارے ملک آ کر سرمایہ کاری کریں گے۔انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ سڑکوں کیلئے بھی پالیسی بنائی گئی ہے جس میں جنوبی اضلاع میں موٹروے، ریلوے لائن بچھا کر وسطی ایشیاء کے ممالک کو اپنے ساتھ ملایا جا سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ اب یہ آنے والی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ ان پالیسیوں سے کتنا فائدہ اٹھاتی ہے ، نگران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم نے صحت کیلئے بڑی اچھی حکمت عملی بنائی ہے جس کے مطابق ہر سپیشلٹی کے لئے الگ الگ ہسپتا ل اور آپریشن تھیٹر کا قیام شامل ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول