قیام پاکستان کے مقاصد پورے نہیں ہوئے

قیام پاکستان کے مقاصد پورے نہیں ہوئے

ملتان (سٹی رپورٹر) قیام پاکستان سے قبل ہندوستا ن کے ضلع روہتک کی تحصیل ہریانہ کے گاؤ ں دودانہ کے رہائشی 86سالہ صوفی فضل دین نے کہاہے کہ ملک پاکستان ایک خدادادنعمت ہے ، جو کہ لازوال قربانیوں کا نتیجہ ہے ،ہمیں آزادی کی قدر کرنی چاہئے مگر ہم آزادی کی قدر نہیں کر رہے ،ملک میں انتشار کی سیاست ، انارگی کی فضا دیکھ کر دل افسردہ ہوجاتا ہے ، ہمارے اکابرین کی قربانیوں کے ساتھ پہلو تہی کی جارہی ہے جو کہ افسوناک ہے تاہم ہم اب بھی ناامید (بقیہ نمبر25صفحہ12پر )

نہیں، نسل نو سے بہت سی توقعات رکھتے ہیں ،جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس وقت میرا لڑکپن تھا اورمیں کھیتوں میں کام کرتا تھامسلمان تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے اور جلسوں میں جذبوں کے ساتھ نعرے لگاتے ہوئے شریک ہوتے تھے جب 14اگست 1947کو پاکستان بننے کا اعلان ہوا تو ہمارے پڑوس میں آباد سکھوں نے مسلمانوں کے لئے جگہ تنگ کر دی ایسا لگتا تھا کہ پاکستان بننے کا سب سے زیادہ دکھ سکھوں کو ہوا ہے سکھوں نے مسلمان آبادی کے گاؤں پر حملے شروع کر دےئے جب ہمارے آباؤ اجداد کو معلوم ہوا حالات خراب ہیں تو سب قافلے کی صورت میں پیدل پاکستان کی طرف روانہ ہوئے راستے میں جگہ جگہ مسلمانوں کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں، جن کو بے دردی سے قتل کیا گیا تھا ان لاشوں میں زیادہ تر خواتین اور نوجوانوں کی تھی جن کویکھ کر دل خون کے آنسوو رو رہا تھا آج 70سال گذرنے کے باوجود بھی وہ درد ناک لمحے ہمارے آنکھوں کے سامنے ہیں جن کو کبھی نہیں بھلا سکتے ،روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے بابا صوفی فضل دین نے بتایا کہ جب ہم بٹالہ سے نکلے تو ہمارے سامنے سکھ نوجوان مسلمان لڑکیوں کو اٹھا کر لے جا رہے تھے تو میں نے ساتھ ہی کھڑی ڈوگرا ملٹری کے سپاہی کو جا کر شکایت کی تو اس نے میری بات سنی ان سنی کر دی اور میں خاموشی سے واپس آ گیا جبکہ راستے میں جگہ جگہ سکھوں کے ٹولے کھڑے ہو ئے تھے جو پاکستان کی طرف جانے والے مہاجرین سے لوٹ مار کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ جب ہم اپنے گاؤں سے نکلے تھے تو سارا سامان ویسے کا ویسا چھوڑ آئے تھا اگر کسی کے پاس کوئی سامان تھا تو وہ کھانے کے کچھ چیزیں یا پھر کسی کے پاس تھوڑا بہت زیور جس کو راستے میں سکھوں نے چھین لیا تھا بابا صوفی فضل دین نے کہاہے کہ آج کا پاکستان دیکھ کر دل خون کے آنسو ؤ ں روتا ہے کہ اس کے قیام کے مقاصد پورے نہیں کیئے گئے آج کے پاکستان کے لئے 20لاکھ سے زائد افراد نے قربانیاں دیں اور جانوں کے نذرانے پیش کئے ، آج جب 1947کی ہجرت کو یاد کرتے ہیں تو راتوں کی نیندیں اڑ جاتی ہیں کہ ہم پاکستان بنتے وقت کئی خواب دیکھے تھے آج کا پاکستا ن ہمارے خوابوں خیالوں میں بھی نہیں تھا۔

صوفی فضل دین

مزید : ملتان صفحہ آخر