پارلیمنٹ کی سپیکر کا عہدہ ملکی ترقی اور خوشحالی کے علاوہ نئے پاکستان کی بنیاد رکھے گا:اسد قیصر

پارلیمنٹ کی سپیکر کا عہدہ ملکی ترقی اور خوشحالی کے علاوہ نئے پاکستان کی ...

صوابی(بیورورپورٹ)پاکستان کے نامزد وزیر اعظم ا ور پاکستان تحریک انصاف کے چیر مین عمران خان کی جانب سے قومی اسمبلی کے لئے صوابی کے حلقہ این اے 18صوابی1سے نو منتخب رکن قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی کے بانی رہنما اسد قیصر نے واضح کر دیا ہے کہ میرا سپیکر شپ کا یہ عہدہ ضلع صوابی کی ترقی اور خوشحالی کے علاوہ ایک نئے پاکستان کی بنیاد رکھے گا۔ صوابی کے عوام نے مجھ سے جو امیدیں وابستہ رکھی تھی اس پر بحیثیت سپیکر قومی اسمبلی پورا پورا اُترنے کی کوشش کرونگا۔پارلیمنٹ کا سپیکر نامزد ہونے کے بعد مقامی صحافیوں سے گفتگو کر تے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ میں اپنے چیر مین عمران خان کا بہت زیادہ شکریہ ادا کر تا ہوں جنہوں نے مجھ پر اعتماد کر کے پاکستان کا سب سے بڑا عہدہ سونپا۔پارلیمنٹ کی سپیکر شپ کا عہدہ سب سے بڑا عہدہ ہے اور ضلع صوابی کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا عہدہ پہلی بار صوابی کو ملا ہے انہوں نے کہا کہ میں خصوصاً پی ٹی آئی کے ورکران اور صوابی کے عوام کا شکریہ ادا کر تاہوں جنہوں نے مجھ سے محبت کر کے دن رات خلوص اور محنت سے جدوجہد کر کے مجھے قومی اور صوبائی اسمبلی کے دونوں نشستوں سے بھاری مینڈیٹ سے نوازا۔انہوں نے کہا کہ حکومتی عہدے آنی جانی چیز ہے میرا سپیکر شپ کا جو عہدہ ہے اس لئے اپنے علاقے کے عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ جو امیدیں الیکشن کے دوران آپ نے وابستہ کی تھی کہ پی ٹی آئی کی کامیابی کے بعد صوابی کو ایک بڑا عہدہ آئیگا۔اور جو وعدے آپ سے کئے تھے اللہ تعالی مجھے توفیق دیں کہ تما م وعدوں کو پورا کر کے اپنے علاقے کے لئے ترقی اور خوشحالی لا سکوں۔ انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ دو رکعات نوافل پڑھ کر اللہ تعالی کا شکریہ ادا کر کے میرے لئے دُعا کریں۔ کہ میں عوام کے اعتماد پر پورا اُتر سکوں بلکہ تمام وعدوں کو پورا کر سکوں۔یاد رہے کہ اسد قیصر نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز اسلامی جمعیت طلبہ سے کیا تھا جماعت اسلامی کی پلیٹ فارم سے اس جدوجہد کو جاری رکھتے ہوئے شباب ملی کے صدر منتخب ہوئے بعد ازاں عمران خان نے 1996میں جب پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد ڈالی تو اس وقت اسد قیصر صوبہ خیبرپختونخوا میں واحد کارکن تھے جنہوں نے 1996میں ہی پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی اور اس وقت سے ضلع صوابی کے صدر چلے آرہے تھے بعد میں ان کو دو بار صوبائی صدرمنتخب کیا گیا 2013کے انتخابات میں بھی وہ قومی اور صوبائی اسمبلی کی دونوں حلقوں سے کامیاب ہوئے تھے اور بحیثیت صوبائی صدر پی ٹی آئی صوبے کے وزارت اعلی کا حق ان کا بنتا تھا لیکن ان کو یہ عہدہ نہیں دیا گیا اسی طرح 2018کے انتخابات میں ان کی قیادت میں ضلع صوابی میں پی ٹی آئی نے کلین سوئپ کر دی اور دوبارہ صوبے کے وزارت اعلی کا حق ان کا بن رہا تھا لیکن اس بار بھی ان کو نظر انداز کر دیا گیا ۔پی ٹی آئی کے چیر مین عمران خان ان کو اور پرویز خٹک کو حکومت سازی کے لئے مرکز میں لے جاتے اس لئے اسد قیصر کو صوبے کی وزارت اعلی کا عہدہ نہیں دیا گیا اور انہوں نے اپنے چیر مین عمران خان کے فیصلے کو ترجیح دی اور چیر مین عمران خان نے ان کو پاکستان کا سب سے بڑا عہدہ پارلیمنٹ کی سپیکر شپ کا دیا۔

مزید : کراچی صفحہ اول