پاکستان، ہماری محبت کا مرکز ہے۔ محمد اظہار الحق

پاکستان، ہماری محبت کا مرکز ہے۔ محمد اظہار الحق

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)ہمارے لکھاریوں نے وطن کی محبت میں لازوال ادب تخلیق کیا ۔ان خیالات کا اظہارمحمد اظہار الحق نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام ’’پاکستان کے 71ویں جشنِ آزادی ‘‘ کے سلسلے میں منعقدہ خصوصی تقریب میں صدار ت کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر ناہید قمر نے ’’تحریک آزادی میں ادب کا کردار‘‘ کے موضوع پر لیکچر دیا ۔ ڈاکٹر راشد حمید، ڈائریکٹر جنرل ، اکادمی ادبیات پاکستان ،نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا۔ بعدازاں قومی اور پاکستانی زبانوں کا مشاعرہ منعقد ہوا،جس میں میں معروف شعرانے وطن عزیز کے حضور نذران�ۂ عقیدت پیش کیا۔ نظامت علی یاسر نے کی۔محمد اظہار الحق نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان کے تحت منعقدہ تقریب میں دو اہم پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ آزادی کے حصول کے لیے اردو ادب کا کردار اور قومی زبانوں کا مشاعرہ۔ اکادمی کی طرف سے بلا شبہ یہ انتہائی احسن اقدام ہے جس کے تحت اکادمی ادیبوں اور شاعروں کو مدعو کر تی ہے ، یقیناًاکادمی کی اس خدمت کو سراہا جانا چاہیے اور اس سلسلے میں اس کے ساتھ تعاون کرناچا ہیے۔ڈاکٹر ناہید قمر نے کہا کہ آزادی نسل انسانی کا مشترک ورثہ ہے لیکن دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ اقوامِ عالم کے لیے آزادی کے خدوخال صدیوں کی جدوجہد کے بعد ہی واضح ہوتے ہیں، اسی باعث آزادی کی قدروقیمت کا ادراک ان اقوام کو ہوتا ہے جو غلامی کے جہنم سے گزر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادب نے آزادی اور جمہوریت کی جدو جہد میں اپنی آواز ہمیشہ بلند رکھی ہے اور یہ جدوجہد ہمارے ادیبوں نے صرف پاکستان کی تحریکِ آزادی کے حوالے سے ہی نہیں کی بلکہ فلسطین، کشمیر، افریقہ، چلی، عراق، بوسنیا، ویتنام، الجزائر اور افغانستان کی تحریکِ آزادی کے ساتھ بھی جذب�ۂ خیر سگالی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ادیب نے اپنے عہد کے ضمیر کی حفاظت کرتے اور اپنے تجربوں کو دوسروں کے لیے بامعنی بنانے کی ذمہ داری بخوبی نبھائی ہے اور آج کا ادیب یہ سمجھتا ہے کہ سر سید تحریک کے افادی منشور سے لے کر ترقی پسند تحریک کی شعریات تک بیرونی احکامات کا جو سلسلہ چلا آرہا تھا ، اسے اب ختم ہونا چاہیے کیونکہ اب مسئلہ کتاب یا ادب کی بقاء کا نہیں بلکہ ادب کے واسطے سے انسان کی ذہنی اور تخلیقی آزادی کا ہے۔ ڈاکٹر راشد حمید نے کہا کہ ہمارے شعرا ء نے ملی جذبے سے سرشار ہو کر لکھا اور قومی یک جہتی کی سوچ کو پروان چڑھانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریکِ پاکستان میں ادیبوں اور شاعروں کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اکادمی ادبیات پاکستان قومی دنوں کی مناسبت سے تقریبات کا اہتمام کرتی رہی ہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ محمد اظہار الحق، ڈاکٹر ناہید قمر،علی یاسر، حسن عباس رضا، محمد عاطر اعجاز، ہاشم ابڑو، زارا بتول زارا، سحر امین، فرخندہ شمیم،خالد عمانویل، اکرام نازی، نصرت یاب، بابرہ رضوی، رخسانہ نازی، صغیر انور، علی احمد قمر،محسن شیخ، اختر عثمان، عتیق چشتی، سائل نظامی، نسیم سحر، ضیاء الدین نعیم اور دیگر نے وطن عزیز کے حضور نذران�ۂ عقیدت پیش کیا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر