ایبٹ آباد یونیورسٹی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے متاثرین کا احتجاجی مظاہرہ

ایبٹ آباد یونیورسٹی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے متاثرین کا احتجاجی مظاہرہ

ایبٹ آباد( نامہ نگار)ایبٹ آباد یونیورسٹی سائنس اینڈ ٹیکنا لوجی کے متاثرین کا احتجاجی مظاہرہ،یونیورسٹی انتظامیہ کا مطالبات سننے سے انکار،متاثرین نے زبردستی کام بند کروا کر احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کر دیا ،اپنی زمین کوڑیوں کے بھاؤ کسی صورت نہیں دیں گے مجبور کیا گیا تو شاہراہِ ریشم پر بچوں سمیت دھرنا دیں گے،بھوک ہڑتال اور خودسوزیاں کرنے سے دریغ نہیں کریں گے متاثرین کا میڈیا سے خطاب ، تفصیلات کے مطابق حویلیاں میں قائم ایبٹ آباد یونیورسٹی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے زمین مالکان نے اپنے مطالبات کے سلسے میں وائس چانسلر سے ملاقات کے لئے یونیورسٹی گئے تو یونیورسٹی انتظامیہ نے انہیں ہال میں بٹھا کر VCکو اطلاع دی ایک گھنٹہ گزرنے کے بعد جب انتظامیہ نے کہا کہ صرف چار آدمی رجسٹرار سے مل سکتے ہیں جس پر ملاقات کے لئے آنے والے لوگ مشتعل ہو گئے اور احتجاجاَِ مین گیٹ پر آکر یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف احتجاج اور نعرے بازی کی مظاہرے کی قیادت کرتے ہوئے ہیومن رائٹس ہزارہ کے چیئرمین ڈاکٹرعثمان خان،اکثرخان،طاہرخان،احمدنواز خان،عبدالجبارخان،مقبول خان اورخورشیدخان نے کہا کہ ایبٹ آباد یونیورسٹی کی تعمیر میں 1400کنال اراضی مقامی لوگوں سے کوڑیوں کے بھاؤ خریدی گئی جس کے ابھی تک معاوضے بھی نہیں دئیے گے جبکہ اب دوبارہ یونیورسٹی سے ملحقہ زمینوں پر بھی سیکشن فور لگا کر قبضہ کی جا رہی ہے جس پر ہم شدید احتجاج کرتے ہیں مظاہرین نے بتایا کہ ہمارے پڑھے لکھے بچے بے روزگار ہیں جبکہ یونیورسٹی میں ہمیں چپڑاسی تک کی نوکری نہیں دی جا رہی ڈاکٹر عثمان خان نے کہا کہ ایبٹ آباد یونیورسٹی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونین کونسل لنگرہ کی آبادی کو بے دخل کر کے بنائی گئی اور لوگوں کو مناسب معاوضہ بھی نہیں دیا گیا جبکہ یونیورسٹی کی کلاس فور کی نوکریاں مقامی آبادی اور متاثرین کا حق تھا وہ بھی نہیں دیا گیا ہمارے گاؤں کے Mscنوجوان جن میں ایک لڑکا محمدیاسین خان ہے جس نے آفس اسسٹنٹ کے لئے اپلائی کیا لیکن اس کو انٹرویو کے لئے بھی نہیں بلایا گیا اور باہر سے لوگ بھرتی کر لئے گئے ڈاکٹر عثمان خان نے کہا کہ ہم نے متعددمرتبہ یونیورسٹی انتظامیہ اور حکومتی اداروں کو اپنے مطالبات پیش کئے لیکن ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھ کر ہمیں نطرانداز کر دیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ اب ہم نے اپنے حقوق لینے کا تہیہ کر لیا ہے ہم اپنی قیمتی زمینیں کسی صورت یونیورسٹی کو نہیں دیں گے چائیے ہمیں کوئی بھی قربانی دینی پڑے انہوں نے کہا کہ آج یونیورسٹی کے VCنے ایک گھنٹہ ہمیں بٹھا کر ملنے سے انکار کر دیا کیا ہم کوئی کیڑے مکوڑے ہیں ہم نے اپنے بچوں کا مستقبل تباہ کر کے اپنے آباواجداد کی زمینیں دیں اور آج ہماری آواز سننے والا کوئی نہیں ڈاکٹر عثمان خان نے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات سنے بغیر کوئی قدم اُٹھایا گیا تو شدید احتجاج کریں گے جس کی تمام ذمہ داری یونیورسٹی انتظامیہ پر ہو گی احتجاج کے بعد متاثرین نے یونیورسٹی کے قریب ہونے والے کام کو بھی زبردستی بند کروا دیا ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر