فیصل آباد میں پولیس فائرنگ سےجاں بحق لڑکے ڈاکو نہیں، بے گناہ تھے: سی پی او

فیصل آباد میں پولیس فائرنگ سےجاں بحق لڑکے ڈاکو نہیں، بے گناہ تھے: سی پی او
فیصل آباد میں پولیس فائرنگ سےجاں بحق لڑکے ڈاکو نہیں، بے گناہ تھے: سی پی او

  

فیصل آباد(ویب ڈیسک) سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) اشفاق خان نے کہا ہے کہ گزشتہ روز مبینہ طور پر پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے دونوں لڑکے ڈاکو نہیں تھے، دونوں کی جانب سے پولیس پر فائرنگ کےبھی شواہد نہیں ملے۔

میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ جاں بحق ہونے والے لڑکوں ارسلان اور عثمان کا کرمنل رکارڈ بھی نہیں ہے، دونوں بے گناہ تھے، سارا واقعہ ناکے پر پیش آیا۔

اشفاق خان نے کہا کہ انکوائری ٹیم آج ابتدائی رپورٹ پیش کرےگی جبکہ مکمل رپورٹ آنے میں کچھ دن لگیں گے، ملوث پولیس اہلکاروں کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہےہیں، جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔

خیال رہے کہ دو روز قبل فیصل آباد کے علاقے ملت ٹاؤن میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کردیا گیا تھا، پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ناکے پر موٹرسائیکل سواروں کو روکا تو انہوں نے فائرنگ کردی اور جوابی کارروائی میں مارے گئے، اور تو اور ڈرامے کو اصلی دکھانے اور معصوم کو مجرم ثابت کرنے کیلئے مشہور پنجاب پولیس کے شیر دل جوانوں نے پستول بھی لاشوں کے پاس پھینک دیا تاکہ یہ ثابت ہوسکے کہ واقعی ڈاکو ہی تھے ۔

گزشتہ روز نوجوانوں کے ورثاء نے الائیڈ اسپتال کے باہر احتجاج کیا، اس دوران مظاہرین نے پولیس کے خلاف نعرے بازی کی، ٹائر نذر آتش کیے اور سڑک ٹریفک کے لیے بند کردی۔ورثاء کے مطابق مبینہ مقابلے میں مارے گئے دونوں نوجوان میٹرک کے طالب علم اور دوست تھے، جو رات کو کھانا کھانے باہر گئے تھے۔ورثاء نے الزام عائد کیا کہ باغ والی پلی کے قریب پولیس اہلکاروں نے دونوں کو رکنے کا اشارہ کیا تھا اور نہ رکنے پر فائرنگ کردی۔

فائرنگ کے نتیجے میں ایک نوجوان جاں بحق ہوگیا جبکہ دوسرے کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جو گزشتہ روز دوران علاج دم توڑ گیا۔

مزید : جرم و انصاف /علاقائی /پنجاب /فیصل آباد