اڈیالہ جیل میں نواز شریف کو فوج کے ساتھ ڈیل کا مشورہ دیا گیا تو آگے سے کیا جواب ملا؟ جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہاءنہ رہے گی

اڈیالہ جیل میں نواز شریف کو فوج کے ساتھ ڈیل کا مشورہ دیا گیا تو آگے سے کیا ...
اڈیالہ جیل میں نواز شریف کو فوج کے ساتھ ڈیل کا مشورہ دیا گیا تو آگے سے کیا جواب ملا؟ جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہاءنہ رہے گی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ملک کے سیاسی و صحافتی حلقوں میں افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ ممکنہ طور پر میاں نواز شریف کو جیل سے نکالنے کے لیے طاقت کے مراکز کے ساتھ این آر او کی طرز پر کسی طرح کے معاہدے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اب اس حوالے سے ایک حیران کن خبر سامنے آ گئی ہے۔ ایکسپریس ٹربیون کے مطابق مسلم لیگ ن کے ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ جمعرات کے روز اڈیالہ جیل میں میاں نواز شریف اور شہباز شریف کی ملاقات میں سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی تاہم میاں نواز شریف نے ڈیل کے امکان کو یکسر رد کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ تو اپنا راستہ اور بیانیہ تبدیل کریں گے اور نہ ہی ملک چھوڑ کر جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل میں میاں نواز شریف سے ملاقات کے بعد جب شہباز شریف باہر نکلے تو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے ساتھ کسی طرح کا این آر او کی تردید کی اور اس حوالے سے آنے والی تمام رپورٹس کو افواہ قرار دیا تاہم انہوں نے طاقت کے حقیقی مراکز کے ساتھ مذاکرات کی تردید بھی نہیں کی۔ اس معاملے میں ان کا کہنا تھا کہ ”دنیا مذاکرات کے بعد نہیں چل سکتی لیکن نہ کوئی این آر او جیسی ڈیل مانگ رہا ہے اور نہ ہی کسی نے اس کی آفر کی ہے۔“

رپورٹ کے مطابق میاں نواز شریف کے قریبی ن لیگی حلقوں کا کہنا ہے کہ ”اگر میاں نواز شریف ایسی کوئی ڈیل کر لیتے ہیں تو ان کا سیاسی کیریئر فنا ہو جائے گا اور ان کے حصے میں صرف رسوائی آئے گی۔ اس وقت سیاسی طور پر ان کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے لہٰذا پسپائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔“دوسری طرف شہباز شریف کیمپ کے لیگی رہنماءطاقت کے مراکز کے ساتھ ڈیل کرنے کے حامی ہیں تاکہ مسلم لیگ ن کو ملکی سیاست میں جگہ مل سکے۔اس حلقے کا خیال ہے کہ شہباز شریف میاں نواز شریف کا خلاءپُر کر لیں گے۔تاہم میاں نواز شریف کیمپ کے رہنماﺅں کا خیال اس کے برعکس ہے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد