’اپوزیشن تحریک کے روح رواں مولانا فضل الرحمان لیکن حلف نہ اٹھانے کی شہبازشریف کی تجویز بلاول نے اس لیے مسترد کردی کیونکہ ۔ ۔ ۔‘ سینئر صحافی کا ایسا دعویٰ کہ ہرپاکستانی حیران پریشان رہ جائے

’اپوزیشن تحریک کے روح رواں مولانا فضل الرحمان لیکن حلف نہ اٹھانے کی ...
’اپوزیشن تحریک کے روح رواں مولانا فضل الرحمان لیکن حلف نہ اٹھانے کی شہبازشریف کی تجویز بلاول نے اس لیے مسترد کردی کیونکہ ۔ ۔ ۔‘ سینئر صحافی کا ایسا دعویٰ کہ ہرپاکستانی حیران پریشان رہ جائے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک اںصاف کچھ جماعتوں اورآزاد امیدواروں کو اپنے ساتھ ملا کر حکومت بنانےجارہی ہے جبکہ اپوزیشن جماعتیں دھاندلی کا الزام لگا کراحتجاج کررہی ہیں تاہم حلف نہ اٹھانے کے معاملے پر اتفاق نہیں ہوسکا اور اب سینئر صحافی نے اس معاملے پر روشنی ڈالی ہے ۔ 

اعزازسید نے روزنامہ جنگ میں لکھا کہ ’’ اپوزیشن جماعتیں بھی کسی سنجیدہ احتجاج پر متفق نہیں ہوسکی۔ مجھے کسی ذمہ دار نے بتایا کہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے بلاول بھٹو کو پیغام بھجوایا تھا کہ اپوزیشن کےارکان قومی اسمبلی کا حلف نہیں لیں گے اگر پیپلزپارٹی کے ارکان بھی قومی اسمبلی کا حلف نہ اٹھا ئیں تو اپوزیشن مل کر تحریک انصاف کی حکومت کے لئے مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ بلاول نے یہ تجویز مسترد کردی۔ کرتے بھی کیوں نہ والد آصف علی زرداری اور پھوپھی فریال کو مزید مصیبت میں کیسے ڈالتے۔ وہ پہلے ہی جعلی اکائونٹس کے کیس میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں۔ کیس میں خود بلاول کا نام بھی موجود ہے کیونکہ کیس میں زیرتفتیش ایک کمپنی کے مبینہ سربراہ وہ خود بھی ہیں۔

اس سارے معاملے کے بعد جب مولانا فضل الرحمان کی کوششوں سے اپوزیشن جماعتیں آٹھ اگست کو شاہراہ دستور پر اکٹھی ہوئیں تو حسب توقع موقع پر مسلم لیگ ن کے سربراہ شہباز شریف بھی غائب تھے اورآصف علی زرداری بھی کہیں نظر نہ آئے۔دراصل اس ساری تحریک کے اصل روح رواں مولانا فضل الرحمان ہیں جو اپوزیشن جماعتوں کو دھاندلی کے ایجنڈے پر متفق کرنا چاہتے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی اور پشتونخواملی عوامی پارٹی جیسی جماعتیں بھی ان کے ساتھ شامل ہیں مگر بڑی جماعتوں کے بڑے مسائل ہیں اور فی الحال اپوزیشن کا اتحاد بنتا نظر نہیں آرہا‘‘۔

مزید : قومی