بلوچستان میں سیندک منصوبے پر کام کرنیوالے غیرملکیوں پر خود کش حملہ، پہلی مرتبہ ایک ایسی تنظیم نے ذمہ داری قبول کرلی کہ ہنگامہ برپا ہوگیا، یہ کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ ۔ ۔ ۔  

بلوچستان میں سیندک منصوبے پر کام کرنیوالے غیرملکیوں پر خود کش حملہ، پہلی ...
بلوچستان میں سیندک منصوبے پر کام کرنیوالے غیرملکیوں پر خود کش حملہ، پہلی مرتبہ ایک ایسی تنظیم نے ذمہ داری قبول کرلی کہ ہنگامہ برپا ہوگیا، یہ کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ ۔ ۔ ۔  

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کوئٹہ (ویب ڈیسک) ضلع چاغی کے شہر دالبندین میں سیندک منصوبے کے غیرملکی ملازمین کی بس کے قریب ہونے والے خودکش  حملے کی ذمہ داری ایک فراری گروپ نے قبول کرتے ہوئے بمبار کی تصویر بھی جاری کردی۔

سیکیورٹی صورتحال پر نظر رکھنے والے ادارے غیرسرکاری عالمی ادارے انٹیلی جنٹیسا کے مطابق ’ بلوچستان کے علاقے دالبدین میں غیرملکی کارکنان سے بھری بس پر خود کش حملہ ایک فراری گروپ نے کیا، یہ پہلی مرتبہ  ہے کہ خود کش حملہ بھی دہشتگردی فراری گروپ کی طرف سے کیا گیا‘‘۔

دوسری طرف بی ایل اے نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی کے ’مجید‘ بریگیڈ  کی طرف سےریحان بلوچ نے آج چینی انجینئرز کی بس پر خود کش حملہ کیا۔ یادرہے کہ  دالبندین میں سیندک منصوبے کے ملازمین کی بس کے قریب ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں 6 افراد زخمی ہوگئے تھے ۔

 کمشنر کوئٹہ ہاشم غلزئی کے مطابق دھماکے کا نشانہ بننے والی بس سیندک منصوبے کے ملازمین کو لے کر دالبندین ایئرپورٹ کی طرف جارہی تھی کہ دالبندین سے 5 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، دھماکا بس سے کچھ فاصلے پر ہونے کی وجہ سے زیادہ نقصان نہیں ہوا، تاہم کھڑکیوں کے شیشے لگنے سے ملازمین زخمی ہوئے۔

کمشنر کوئٹہ کے مطابق دھماکے کے زخمیوں میں منصوبے کے 3 غیر ملکی ملازمین  اور 3 ایف سی اہلکار شامل ہیں،دھماکے کے زخمیوں کو طبی امداد کے لیے شیخ زید اسپتال منتقل کردیا گیا، جن کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

مزید : قومی /علاقائی /بلوچستان /کوئٹہ