ٹرمپ کے ترکی مخالف اعلان کے بعد ترک کرنسی ’’ لیرا ‘‘ کی قدر میں ریکارڈ کمی

ٹرمپ کے ترکی مخالف اعلان کے بعد ترک کرنسی ’’ لیرا ‘‘ کی قدر میں ریکارڈ کمی
ٹرمپ کے ترکی مخالف اعلان کے بعد ترک کرنسی ’’ لیرا ‘‘ کی قدر میں ریکارڈ کمی

  

انقرہ(این این آئی)ترک صدر ایردوآن نے ملکی عوام سے کہا ہے کہ وہ ترکی کے اقتصادی دشمنوں کے خلاف قومی جنگ کے لیے خود ٹرکش لیرا خریدیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایردوآن نے یہ بات امریکی صدر ٹرمپ کے ایک اعلان کے بعد کہی، جس نے ملکی کرنسی لیرا کو بری طرح متاثر کیا۔ترکی کے سب سے بڑے شہر اور اقتصادی مرکز استنبول سے ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق ترکی اور امریکا کے درمیان کئی دنوں سے ایک ایسا تنازعہ کافی شدت اختیار کر چکا ہے، جس کی وجہ ماضی قریب میں ترکی میں ایک امریکی پادری کی گرفتاری بنی تھی۔اس امریکی پادری کو ترکی میں دہشت گردی کے الزامات میں اپنے خلاف عدالتی کارروائی کا سامنا ہے اورترک حکومت نے اسے چند روز قبل جیل سے رہا کر کے اس کی رہائش گاہ پر نظر بند کر دیا تھا۔ امریکا اس کلیسائی شخصیت کی رہائی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ترک لیرا کی قدر میں اس سال کے آغاز سے اب تک قریب 40 فیصد کمی ہو چکی ہے۔ لیکن ترک معیشت اور انقرہ کی مالیاتی سیاست کے لیے بہت تشویش کی بات یہ تھی کہ ٹرمپ کے ترکی کے خلاف اعلان کے بعد ملکی کرنسی کی قدر میں صرف ایک دن میں قریب 20 فیصد کمی دیکھی گئی۔یہی نہیں بلکہ اس دوران یہ بھی ہوا کہ ایک امریکی ڈالر سات ترک لیرا کے برابر ہو گیا، جو ترک کرنسی کے لیے اس کی کم قدر کے لحاظ سے ایک نیا ریکارڈ تھا۔ کرنسی مارکیٹوں میں یہی قیمت کچھ بہتری کے بعد 6.36 لیرا فی امریکی ڈالر ہو گئی ۔

ترک کرنسی کو پہنچنے والے اس نقصان پر صدر رجب طیب ایردوآن نے کوئی مصالحتی موقف اپنانے کے بجائے ملک کے ایک شمال مشرقی شہر میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عوام کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ امریکی ڈالر ہمارا راستہ نہیں روک سکتا۔ساتھ ہی صدر ایردوآن نے امریکی صدر ٹرمپ کا براہ راست نام لیے بغیر یہ بھی کہا کہ ترکی کے اقتصادی دشمنوں نے انقرہ کے ساتھ اپنے تعلقات کوناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ایردوآن نے مزید کہاکہ ترکی کو اس وقت اپنے اقتصادی دشمنوں کے خلاف ایک قومی جنگ کا سامنا ہے اور ترک عوام کو اپنے پاس موجود سونے اور زرمبادلہ کو فروخت کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ترک لیرا خریدنا چاہیے تاکہ ملکی کرنسی کو مضبوط بنایا جا سکے۔

مزید : بین الاقوامی