ترکی کو سب سے زوردارجھٹکا، ایک ہی دن میں کرنسی زمین سے آلگی، لیکن پھر طیب اردگان نے کیا اعلان کردیا؟ جان کر کانوں پر یقین نہ آئے

ترکی کو سب سے زوردارجھٹکا، ایک ہی دن میں کرنسی زمین سے آلگی، لیکن پھر طیب ...
ترکی کو سب سے زوردارجھٹکا، ایک ہی دن میں کرنسی زمین سے آلگی، لیکن پھر طیب اردگان نے کیا اعلان کردیا؟ جان کر کانوں پر یقین نہ آئے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ترکی پر پابندیوں کی دھمکی نے پہلے سے ڈگمگاتی ترک کرنسی کو بری طرح غیر مستحکم کر دیا ہے، ایک دن میں ہی اس کی قدر میں 9 فیصد کی غیر معمولی کمی ہو گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز ترک کرنسی کی قدر میں یورو اور ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 9فیصد کی کمی ہوئی جبکہ رواں سال ترک کرنسی ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر تقریباً ایک تہائی سے زائد کھو چکی ہے۔

اقتصادی بحران اور خصوصاً کرنسی کی تیزی سے گرتی قدر کو ترک صدر رجب طیب اردوان نے ترکی کے اقتصادی دشمنوں کی سازش قرار دے دیا ہے اور امریکا ان اقتصادی دشمنوں میں سر فہرست ہے۔ اس جنگ میں وہ دشمن کا مقابلہ کیسے کریں گے، اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کاکہنا تھا ” اگر ان کے پاس ڈالر ہے تو ہمارے پاس لوگ ہیں ، ہمارے ساتھ اللہ ہے۔“ ترک حکومت کی جانب سے مزید کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آ رہی کہ ملک کو بحرانی کیفیت سے کیسے نکالا جائے گا۔

ترک صدر نے عوام پرزور دیا ہے کہ وہ سونے اور ہارڈ کرنسی کا ”لیرا“ سے تبادلہ کریں تاکہ معیشت مستحکم ہوسکے، البتہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی نے مالی بحران کو اتنا سنگین کر دیاہے کہ ماہرین کے خیال میں اس نوعیت کے اقدامات ناکافی ہیں ۔ امریکی صدر نے ترکی کے خلاف سخت اقدامات کے متعلق جاری کئے گئے تازہ ترین بیان میں کہا ہے کہ ” میں نے ابھی ترکی کے حوالے سے سٹیل اور ایلومینیم پر ٹیرف دو گنا کرنے کی منظوری دی ہے کیونکہ ان کی کرنسی ، ترک لیرا ، ہمارے بہت مضبوط ڈالر کے مقابلے میں تیزی سے نیچے جا رہی ہے۔“ امریکی صدر کے بیان سے واضح ہے کہ ترکی کے مسائل مزید بڑھنے جا رہے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی