ہزاروں مسلمان چینی حکومت کے خلاف دھرنا دے کر بیٹھ گئے کیونکہ۔۔۔ چینی حکومت نے کیا کیا تھا؟ جان کر ہر مسلمان کا دل ٹوٹ جائے

ہزاروں مسلمان چینی حکومت کے خلاف دھرنا دے کر بیٹھ گئے کیونکہ۔۔۔ چینی حکومت ...
ہزاروں مسلمان چینی حکومت کے خلاف دھرنا دے کر بیٹھ گئے کیونکہ۔۔۔ چینی حکومت نے کیا کیا تھا؟ جان کر ہر مسلمان کا دل ٹوٹ جائے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بیجنگ (نیوز ڈیسک) ایک جانب تو چین اور پاکستان دوست ممالک ہیں لیکن دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ زیادہ مذہبی لوگوں کو چین والے بالکل پسند نہیں کرتے۔ اسی لئے تو چینی حکومت نے معاشرے سے مذہب کے اثرو رسوخ کو کم کرنے کیلئے ایک بڑی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ دنوں عیسائی کمیونٹی نے احتجاج کیا کہ ان کی عبادت گاہوں کو مسمار کیا جا رہا ہے اور اب مسلمان بھی احتجاج پر مجبور ہو گئے ہیں کیونکہ ان کی مساجد کو بھی یہی خطرہ لاحق ہے۔

مغربی صوبی ننگشیا میں حال ہی میں تعمیر کی جانے والی ایک عظیم الشان مسجد کے سامنے جو ہزاروں مسلمان دھرنا دے کر بیٹھے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ انہیں حکام کی جانب سے ایک نوٹس بھیج کر بتایا گیا ہے کہ مسجد کی تعمیر غیر قانونی طور پر کی گئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس نوٹس کا مطلب یہ ہے کہ مسجد کو، یا کم از کم اس کے کچھ حصے کو، شہید کیا جا سکتا ہے۔

ویب سائٹ dawn.comکے مطابق وائیزو شہر کی انتظامیہ کی جانب سے 3اگست کے روز جاری کیے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وائیزو گرینڈ مسجد کی تعمیر کیلئے سرکاری اجازت نامہ حاصل نہیں کیا گیا۔ نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ مسجد کی غیر قانونی تعمیر کی بناءپر کاروائی ہو سکتی ہے۔

وائیزو گرینڈ مسجد مشرق وسطٰی کے طرزِ تعمیر کا ایک خوبصورت نمونہ ہے، مگر رپورٹس کے مطابق چینی حکام نے تجویز دی ہے کہ اگر مسجد کے گنبدوں کی جگہ چینی ثقافت کے آئینہ دار پگوڈے بنادیئے جائیں تو یہ قابل قبول ہو سکتی ہے، تاہم مسلمانوں نے اس تجویز کو سختی سے رد کر دیا ہے۔ کل صبح سے مسجد کے سامنے مسلمان بڑی تعداد میں جمع ہیں۔ مسلم رہنماﺅں اور چینی حکام کے درمیان مزاکرات جاری ہیں لیکن تاحال صورتحال بہتری کی جانب جاتی نظر نہیں آ رہی۔

مزید : بین الاقوامی