سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں کیلئے اچھی خبر، دکانوں میں 30فیصد غیرملکی رکھنے کی اجازت

سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں کیلئے اچھی خبر، دکانوں میں 30فیصد غیرملکی رکھنے ...
سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں کیلئے اچھی خبر، دکانوں میں 30فیصد غیرملکی رکھنے کی اجازت

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جدہ (محمد اکرم اسد) سعودی وزارت محنت و سماجی بہبود نے سعودائزیشن کے لئے مختص 12شعبوں کی ملازمتوں سے صفائی اور سامان اتارنے والے کارکنان کو استثنیٰ دیدیا۔ وزارت نے مستثنیٰ ملازمتوں کی فہرست جاری کردی۔ سعودائزیشن کیلئے مختص تجارتی مرکز و دکان کی 70فیصد سعودائزیشن کا لائحہ عمل بھی جاری کردیاگیا۔ وزارت نے استثنیٰ کی شرائط سے بھی آجروں اور اجیروں کو آگاہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق کسی تجارتی مرکز کی ایک شاخ کے غیر ملکی مدیر کو سعودائزیشن کے فیصلے پر عملدرآمد کی تاریخ سے ایک سال تک کا استثنیٰ حاصل ہوگا۔ بشرطیکہ وہ شاخ کے مدیر کے طور پر کام کررہا ہو اور وہاں ایک سے زیادہ مدیر نہ ہوں۔ اس حوالے سے ایک شرط یہ ہے کہ اس شاخ میں کم ا ز کم 10 سعودی ملازم ہوں اوروہ سب ڈیوٹی کے ایک دورانیہ ہی میں کام کررہے ہوں۔ وزارت نے متعلقہ ادارے پر یہ پابندی بھی عائد کی ہے کہ غیر ملکی مدیر کے ساتھ شو روم کا معاون مدیر کسی سعودی کو تعینات کیا جائے تاکہ استثنیٰ کی مدت ختم ہونے کے بعد غیر ملکی مدیر کی جگہ سعودی مدیر خدمات انجام دے سکے۔

وزارت محنت نے سعودائزیشن والی ملازمتوں سے صفائی اور سامان چڑھانے اتارنے والے کارکنان کو بھی استثنیٰ دیا ہے بشرطیکہ ادارہ 5کارکنان پر مشتمل ہو اور وہاں صفائی کارکن اور سامان چڑھانے اور اتارنے والے ایک سے زیادہ نہ ہوں۔ جہاں تک ایسے اداروں کا تعلق ہے جہاں کارکنان کی تعداد 5سے زیادہ ہو تو ایسی صورت میں غیر ملکی کارکنوں کا تناسب 20فیصد سے زیادہ نہ ہو۔کسی بھی ادارے کے صدر دفتر میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کو صبح کو دکان کھولنے سے قبل اور رات کو بند کرنے کے بعد دکان میں آنے کی اجازت ہوگی۔دکان کے اوقات کار کے دوران انہیں کسی بھی حالت میں وہاں آمد ورفت کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ خلاف ورزی پر جرمانہ ہوگا ۔

وزارت صحت کے ماتحت اداروں سے اجازت یافتہ صحت عملے کو اجازت یافتہ عملے کو دکان پر ڈیوٹی کی اجازت ہے مثال کے طور پر چشموں کے امور کا ماہر اور ٹیکنیشن شو روم میں بیٹھ سکتے ہیں۔ ایسا کوئی بھی پیشہ جس کے لئے مخصوص پیشہ ورانہ تکنیکی مہارت یا خاص قسم کی ہنر مندی ضروری ہو انہیں بھی استثنیٰ دیا جائیگا۔ ان میں گاڑیو ںکے مکینک ، گھڑیوں کے ٹیکنیشن ، مشینوں کی اصلاح و مرمت کرنے والے، درزی، باورچی اور مٹھائیاں تیار کرنےوالے شامل ہونگے۔ بشرطیکہ وہ 4عمومی شرائط پوری کررہے ہوں۔ وزارت محنت نے ریٹیل کے جن 12شعبوں کی سعودائزیشن کا فیصلہ کیا ہے ان میں 70فیصد کام کرنے والے سعودی ہونگے بشرطیکہ شو روم تجارتی مرکز یا دکان پر کام کرنے والوں میں کم از کم ایک سعودی شامل ہو۔ وزارت محنت نے ایک چارٹ جاری کرکے واضح کیا ہے کہ سعودائزیشن کیلئے مخصوص دکان ، تجارتی مرکز یا شو روم میں صرف اگر ایک ہی کارکن ہو تووہاں ایک سعودی ملازم رکھنا ہوگا۔اگر کل کارکن 2ہوں تب بھی ایک سعودی رکھنا ہوگا۔ 3ہوں تو 2سعودی ، 4ہوں تو 2سعودی، 5ہوں تو 3سعودی، 6ہوں تو 4سعودی، 7ہوں تو 4سعودی، 8ہوں تو 5سعودی، 9ہوں تو 6سعودی، 10ہوں تو 7سعودی، 11ہوں تو 7سعودی، 12ہوں تو 8،اسی طرح 30ہوں تو 21اور اگر 100تو 70سعودی ملازم رکھنا ہونگے۔ وزارت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ شو روم یا تجارتی مرکز یا دکان کے مدیرکو اس 30 فیصدمیں شمار نہیں کیا جائیگا جس کے تحت ادارے کو غیر ملکی کارکن سے مدد لینے کی اجازت دی گئی ہے۔

وزارت نے یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ اگر ڈیوٹی اوقات کے دوران کوئی غیر ملکی کارکن دکان یا شو روم یا تجارتی مرکز میں پایا گیا یا وہاں غیر ملکیوں کا تناسب 30فیصد سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا تویہ خلاف ورزی شمار کیا جائیگا۔ سعودائزیشن کیلئے مخصوص 12پیشوں میں سے کسی ایک میں بھی کسی بھی حالت میں ایک سعودی ملازم نہ رکھنا خلا ف ورزی مانا جائیگا۔مستثنیٰ ملازمین کو مشترکہ وردی کی پابندی کرنا ہوگی۔ کارڈ ساتھ رکھنا ہوگا جس پر اسکا نام، تصویر، پیشہ ، ادارے کا نام اور مہر لگی ہوئی ہوگی۔ کارڈ پر تحریر ہوگا کہ اس غیر ملکی کارکن کو سیلز مین کے طور پر کام کی اجازت نہیں۔سعودی خواتین کیلئے مختص ملازمتوں سے متعلقہ قراردادوں کی پابندی لازمی ہوگی۔ اگر کسی ادارے نے سجل تجاری سے مختلف کاروبار کیا او ریہ بات ریکارڈ پر آئی تو ایسی صورت میں اس پر جرمانے ہونگے۔

مزید : عرب دنیا