آن لائن محبت کی تلاش، خاتون نے انٹرنیٹ پر آدمی سے دوستی کی تو یہ کام سب سے بھیانک خواب بن گیا، اگلے 14 سال اس کے ساتھ کیا شرمناک ترین کام کرتا رہا؟ ایسا واقعہ جس کی دنیا میں کوئی اور مثال نہیں

آن لائن محبت کی تلاش، خاتون نے انٹرنیٹ پر آدمی سے دوستی کی تو یہ کام سب سے ...
آن لائن محبت کی تلاش، خاتون نے انٹرنیٹ پر آدمی سے دوستی کی تو یہ کام سب سے بھیانک خواب بن گیا، اگلے 14 سال اس کے ساتھ کیا شرمناک ترین کام کرتا رہا؟ ایسا واقعہ جس کی دنیا میں کوئی اور مثال نہیں

  

سمرسیٹ(نیوز ڈیسک)پرانے وقتوں میں حقیقی میل جول عشق و محبت کا راستہ ہموار کرتا تھا مگر جدید زمانے میں لوگ انٹرنیٹ کے ذریعے بھی محبت میں گرفتار ہونے لگے ہیں۔بدقسمتی سے محبت کی تلاش کا یہ نیا طریقہ کچھ زیادہ قابل اعتبار ثابت نہیں ہو رہا، بلکہ بعض اوقات تو اس کا نتیجہ کسی دردناک سانحے کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ برطانوی خاتون لنڈسے گولڈرک کی المناک محبت کو ہی دیکھ لیجئے جو 14 سال پر پھیلے ڈراﺅنے خواب کی صور ت اختیار کر گئی۔

سمرسیٹ شہر سے تعلق رکھنے والی لنڈسے کی 2004 میں ایک ڈیٹنگ ویب سائٹ کے ذریعے پال کیورن نامی بزنس مین سے ملاقات ہوئی۔ جلد ہی لنڈسے کو احساس ہو گیا کہ ان کے مزاج نہیں ملتے اور انہوں نے پال سے معذرت کرتے ہوئے یہ تعلق ختم کر دیا، مگر پال تعلق ختم کرنے کو تیار نہیں تھا۔

لنڈسے سے تو اپنی جانب سے فیصلہ کر کے بے فکر ہو گئی مگر پال نے اس کی زندگی جہنم بنانے کے منصوبے پر کام شروع کر دیا۔ لنڈسے کو سبق سکھانے کے لئے پال نے ان کے نام سے درجنوں جعلی سوشل میڈیا اکاﺅنٹس قائم کئے اور ان پر فحش فلمیں اور تصاویر پوسٹ کرنا شروع کر دیں۔ پھر اس نے لنڈسے کے اہلخانہ، دوستوں عزیزوں اور حتٰی کہ دفتر میں اس کے ساتھ کام کرنے والوں کے ای میل ایڈریس حاصل کر کے لنڈسے کی جعلی ویب سائٹوں کے لنک انہیں بھیجنا شروع کر دئیے۔

لنڈسے کہتی ہیں کہ چند بعد انہیں ہر کسی کی جانب سے کال آ رہی تھی اور وہ بتا رہے تھے کہ میرے نام سے بنے اکاﺅنٹس پر بیہودہ مواد پوسٹ کیا جا رہا ہے اور ہر کسی کو یہ اکاﺅنٹس دیکھنے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ وہ ہر کسی کے سامنے شرمندگی کا سامنا کر رہی تھیں لیکن جعلی ویب پیجز کے متعلق کچھ بھی کرنے سے قاصر تھیں۔ انہوں نے پولیس کو بھی شکایت کی لیکن پال اکثر ملک سے باہر رہتا تھا اور اپنے وکلاءکے ذریعے ان کی ہر کوشش کو ناکام بنا رہا تھا۔

لنڈسے کا کہنا ہے کہ 14 سال انہوں نے اس عذاب میں گزارے ہیں اور اب بالآخر ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے نتیجے میں پال کے خلاف کاروائی ممکن ہو سکی ہے۔ دو سال قبل انہیں سرکاری خرچے پر وکیل ملنے کے بعد یہ ممکن ہو سکا ورنہ وہ خود تو قانونی کاروائی کے چکر میں تقریباً کنگال ہو چکی تھیں اوراپنے خرچ پر شاید یہ جنگ مزید جاری نا رکھ پاتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قانونی جنگ تو وہ جیت چکی ہیں مگر 14 سال کی بھیانک یادیں تمام عمر اُن کے ذہن سے محو نہیں ہو سکیں گی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس