پرشکوہ و شاہانہ عمارتیں خواص کی بجائے عام آدمی کیلئے وقف

پرشکوہ و شاہانہ عمارتیں خواص کی بجائے عام آدمی کیلئے وقف
پرشکوہ و شاہانہ عمارتیں خواص کی بجائے عام آدمی کیلئے وقف

  


وطن عزیز کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ دیدہ زیب فلک شگاف پہاڑ، آسمانوں سے باتیں کرتے درخت، نیلے پانیوں کی خوبصورت جھیلیں، پہاڑوں کے دامن سے بہتے جھرنے و آبشاریں، لہلاہاتے کھیت، دل کو موہ لینے والے جزیرے، سمندر، زیرزمین نباتات، آنکھوں کو خیرہ کرنے والے ریگستان، گلیشئر، جنت نظیر وادیاں اور دل کے تاروں کو چھو لینے والی پرندوں کی مدھر آوازیں حتیٰ کہ یہاں کے چار موسم پاکستان اہلیان پاکستان کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی انمول تحفوں سے کم نہیں۔ اس کے علاوہ آزادکشمیر، شمالی علاقہ جات سمیت چاروں صوبوں کی صدیوں پرانی ثقافت اور روایات ہمارے آباؤ اجداد کی امین ہیں۔ بدقسمتی سے ہم رب کریم کی طرف سے عطاکردہ ان نعمتوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ ہونا تو چاہیے تھے کہ ہم مذہبی، ثقافتی و علاقائی ٹورازم کو فروغ دے کر اربوں روپے کا زرمبادلہ کما سکتے تھے۔

اگر ہم دوسرے ملکوں پر نظر دوڑائیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ انہوں نے اپنے تاریخی مقامات، خوبصورت وادیوں کو پروموٹ کرکے اور ان علاقوں میں بنیادی سہولیات بہم پہنچاکر غیرملکی سیاحوں کو اپنے ملک لائے جس سے نہ صرف ملکی معیشت کو استحکام ملابلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔مقام افسوس ہے کہ ماضی میں حکمرانوں نے ملک کی ترقی و خوشحالی اور عوام کی زندگیوں کو آرام دہ بنانے کی بجائے اپنے کاروبار کو بڑھاوا دینے اور ملکی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر بیرون ملک منتقل کرنے کے سوا کوئی کام نہیں کیا۔

عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف نے مسند اقتدار سنبھالا تو انہوں نے جہاں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کا آغاز کیا وہاں سیاحت کے فروغ کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھا۔ انہوں نے عوام کے ٹیکسوں سے بننے والی شاہانہ عمارات جن میں عام شہری داخل ہونا تو کجا اس کے پاس سے گزرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کو شہریوں کیلئے کھول دیا۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کو اس بات کا مکمل ادراک ہے کہ ٹورازم کو فروغ دے کر کثیرزرمبادلہ کمایاجاسکتا ہے۔

وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کی زیرقیادت میں حکومت پنجاب نے اپنے قائدعمران خان کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کیلئے جامع اصلاحات کی ہیں اور ٹورازم پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ سیاحت کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کیلئے پنجاب ٹورازم اتھارٹی کا قیام عمل میں لایاگیا ہے۔

محکمہ آثارقدیمہ کے زیراہتمام 410مقامات میں سے لوک ورثہ سیاحت کی ترقی کیلئے 44مقامات کو لوک ورثہ کا درجہ دینے کا فیصلہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔گزشتہ دنوں مری کی سرکاری رہائش گاہوں کے اندر کے شاہانہ انداز کو لوگوں نے کیمرے کی آنکھ سے دیکھا۔ وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار نے مری کے اس شاہی محل کو جس کے اندر جانا تو کجا اس کے نزدیک بھی عام آدمی نہیں جاسکتا تھا کو عوام کیلئے کھول دیا ہے۔

اس سے قبل گورنر ہاؤس لاہور کو عام آدمی کیلئے کھول دیاگیا ہے اور ہر اتوار کو عام شہری اور ان کی فیملیاں دیکھتی ہیں۔ پنجاب کے ریسٹ ہاؤس اب خواص کی بجائے عام آدمی کیلئے وقف کر دیئے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے گورنمنٹ ہاؤس مری کوعوام کیلئے کھولنے کاافتتاح کردیاہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدا رنے گورنمنٹ ہاؤس مری کی عمارت کو عوام کیلئے کھولنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادائیگی کرکے گورنمنٹ ہاؤس مری میں قیام و طعام کی سہولت حاصل کی جاسکیں گی۔ گورنمنٹ ہاؤس مری کا ”بوتیک ہیریٹج ریزارٹ“ کی حیثیت سے ا فتتاح ایک شاندار موقع ہے۔ سرکاری عمارتوں کو ریسٹ ہاؤس میں بدلنا دراصل وی آئی پی کلچر کے خاتمے کا آغاز ہے۔ سیاحت کا فروغ تحریک انصاف کی حکومت کی ترجیحات میں اولین ہے جبکہ ماضی میں اس شعبے کو بری طرح نظرانداز کیا گیا، حکومت نے مربوط ٹورازم پالیسی کے ذریعے پنجاب میں سیاحت کے فروغ کیلئے عملی اقدامات کئے ہیں اورحکومت کے مالی وسائل میں اضافے کیلئے سرکاری اثاثوں کا بہترین استعمال بھی پالیسی میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی نوعیت کی حامل سرکاری عمارتوں کو سیاحتی مقاصد کے فروغ کیلئے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے اورگورنمنٹ ہاؤس مری کی عمارت کو بھی تاریخ میں پہلی مرتبہ غیر سرکاری استعمال کیلئے پیش کیا جا رہا ہے۔

اس شاندار عمارت کی گولڈن جوبلی ہوئے بھی 15 سال گزر چکے ہیں اور اس پرشکوہ عمارت کو ملکہ برطانیہ، امریکی صدر، شاہ افغانستان سمیت متعدد عالمی شخصیات کی میزبانی کا شرف حاصل رہا ہے۔ ایسی تاریخی عمارت میں قیام کسی اعزاز سے کم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اب یہ اعزاز اپنے زعما تک محدود نہیں رکھنا چاہتی بلکہ عام لوگ بھی اس سے مستفید ہوں گے اور قیام و طعام کی بہترین سہولتوں سے محظوظ ہوں گے۔

حکومت پنجاب وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق صوبہ میں 177 ریسٹ ہاؤسز اور گیسٹ ہاؤسز کو عوام کیلئے اوپن کر چکی ہے۔ حکومت پنجاب صوبہ میں سیاحت کو صنعت کے طور پر فروغ دینے کے تمام تر مواقع استعمال کرنا چاہتی ہے اور جامع حکمت عملی کے تحت دور دراز علاقوں خاص طور پر جنوبی پنجاب کے سیاحتی مقامات کو ڈویلپ کیا جا رہا ہے۔ جنوبی پنجاب کے علاقے فورٹ منرو،مبارکی ٹاپ، فاضلہ کچھ، بارتھی اور دیگر علاقوں کا سہانا موسم اور دلکش مناظر سیاحوں کی توجہ کے منتظر ہیں۔

ڈیرہ غازی خان میں ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے ریزارٹس کی تزئین و آرائش کر رہے ہیں اورسیاحت کو پروموٹ کرنے کیلئے کیمپنگ سائٹس، سفاری، پیرا گلائیڈنگ ہوگی اور مقامی ثقافت کے فروغ کیلئے ہیرٹیج بازار بھی قائم کئے جائیں گے۔ ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں لاہور کی طرز پر جلد ڈبل ڈیکر بسیں چلائی جائیں گی۔ کلچرل ٹورازم کے فروغ سے نہ صرف ملکی بلکہ غیرملکی سیاح بھی متوجہ ہوں گے جبکہ غیرملکی سیاحوں کی آمد سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا بلکہ مقامی آبادی کیلئے روزگار کے مواقع بھی میسر ہوں گے۔ پنجاب میں فوڈ/ فروٹ ٹورازم کا آغاز بھی ہو چکا ہے اورصوبہ کے 8 مختلف شہروں میں نئے سیاحتی مقامات کی تزئین و آرائش کی جا رہی ہے۔

سیاحتی مقامات پر قیام کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کیلئے فائبر گلاس اور سٹیل کے بنے بنائے کمرے لا رہے ہیں۔ کوٹلی ستیاں اور کوہ سلیمان کے علاقے میں پارک وے پراجیکٹ لایا جائے گا۔ کالاباغ اور نمل جھیل کے گرد و نواح میں سیاحت کے فروغ کیلئے قیام کی بہترین سہولتیں مہیا کریں گے۔ وادی سون میں ”اوچھالی جھیل“ ہر سال ہزاروں غیرملکی خوبصورت پرندوں کا میزبان مقام ہے۔ اوچھالی جھیل کو ”ایکو ٹورازم“ کے فروغ کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ دھرابی جھیل پر بھی ریزارٹ ڈویلپ کیا جائے گا۔

ٹلہ جوگیاں میں ”مذہبی ٹورازم“ کے فروغ کیلئے روہتاس فورٹ پارک وے بنائیں گے۔ تھل اور چولستان میں نئی کیمپنگ سائٹس اور ڈیزرت سفاری منعقد کی جا رہی ہیں اور ان علاقوں میں ڈیزرٹ ریلی کو مزید بہتر اور پرکشش بنا نے کیلئے ثقافتی شوز کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔

حکومت پنجاب ”مذہبی سیاحت“ کو فروغ دے رہی ہے۔ننکانہ صاحب میں ٹی ڈی سی پی کے پہلے موٹل کا افتتاح کیا گیا ہے جہاں سکھ زائرین اور دیگر سیاحوں کو قیام و طعام کی بہترین سہولتیں فراہم کی جائیں گی اور جلد پنجاب سیاحت کے حوالے سے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں پہچانا جائے گا۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدارنے گورنمنٹ ہاؤس مری میں ”بوتیک ہیریٹج ریزارٹ“ کا افتتا ح کرنے کے بعد تقریب کے شرکاء سے فردا ً فرداً ملاقاتیں کیں۔ وزیراعلیٰ نے شرکاء سے ہاتھ ملایا اور ان کی خواہش پر تصاویر بنوائیں۔

وزیراعلیٰ جب گورنمنٹ ہاؤس کے ڈرائنگ روم میں آئے تو انہوں نے دروازے سے باہر کھڑے لوگوں کو دیکھ کر سکیورٹی حکام کو ہدایت کی کہ انہیں اندر آنے دیں، سب کو اندر آنے دیں، اب ہم نے اس عالی شان اور تاریخی عمارت کے دروازے ہر خاص و عام کے لئے کھول دیئے ہیں۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر دروازہ کھول دیا گیا اور نوجوانوں نے بڑی تعداد میں اندر آکر وزیراعلیٰ کے ساتھ سیلفیاں بنائیں۔ حکومت کے ایسے اقدامات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جوں جوں وقت گزر رہا ہے سابق حکمرانوں اور موجودہ حکومت کے طرز حکمرانی کا فرق نمایاں ہوتا جا رہا ہے یعنی شاہی مقابلہ سادگی، سابق حکمران عوام کی خدمت کا پروپیگنڈہ بہت کرتے رہے مگر یہ حقیقت سامنے آ رہی ہے کہ وہ عوام کے ٹیکس کے پیسے سے اپنی دنیا کو جنت بناتے رہے۔

اب وہی ملک ہے، وہی مقامات ہیں لیکن حکومت کی سوچ نے ان کو نہ صرف عوام کیلئے وقف کرکے نئے طرز حکمرانی کو متعارف کرایا ہے بلکہ سیاحت کے فروغ کی بنیاد رکھ کر حکومتی وسائل میں اور آمدنی میں بھی بے پناہ اضافے کو ممکن بنادیا ہے۔

مزید : رائے /کالم