داسو ڈیم پر ترقیاتی کام جاری

داسو ڈیم پر ترقیاتی کام جاری
 داسو ڈیم پر ترقیاتی کام جاری

  


قدرت نے پاکستان کو جہاں وافر پانی سے نوازا ہے وہیں اسے ذخیرہ کرنے اور بجلی پیدا کرنے کیلئے مواقع اور جگہیں بھی فراہم کی ہیں۔ یہ ہماری نالائقی ہے کہ ابھی تک ہم صرف دو ڈیم بنا پائے۔ کالاباغ ڈیم سیاست کی نذر ہوگیا۔ بھاشا ڈیم پر آغاز ہورہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ داسو ڈیم کی تعمیر شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ داسو ڈیم کے حوالے سے کافی حد تک تیاری مکمل ہے۔

قراقرم ہائی وے کے کچھ حصہ کو درست کرنے کے فوری بعد داسو ڈیم کی سائیٹ تک آمدو رفت اور سامان کی ترسیل آسان ہو جائے گی۔ داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کا پہلا مرحلے تقریباً 5 سال کے اندر مکمل ہوگا، جس کے بعد یہ منصوبہ نیشنل گرڈ کو سالانہ 12 ارب یونٹس بجلی فراہم کر پائے گا، جب کہ منصوبے کا دوسرا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد یہ سالانہ مزید 9 ارب یونٹ نیشنل گرڈ کو فراہم کرے گا۔

داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کو نہایت اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے بتایا گیا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے کی لاگت کا کل تخمینہ 4 ارب 20 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے، جس سے 4 سے 5 سال کے دوران 2160 میگا واٹ بجلی پیدا ہونا شروع ہوجائے گی۔ پہلے مرحلے میں ڈیم کی تعمیر سمیت پاور ہاؤس کے 6 یونٹس کی تعمیر کی جائے گی۔4 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے ساتھ یہ 21 ارب سے زائد یونٹ بجلی پیدا کر سکے گا جب کہ اس کی پیداواری صلاحیت تربیلا ڈیم کی موجودہ صلاحیت سے 7 سے 8 ارب یونٹس زیادہ ہوگی۔

منصوبہ دوسرے مرحلے میں بھی 2160 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے قابل ہوگا اور مرکزی ڈیم تعمیر ہوجانے اور پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد دوسرا مرحلہ زیادہ وقت نہیں لے گا، جب کہ دوسرے مرحلے میں صرف پاور ہاؤس کی تعمیر کی جائے گی، جس کا تخمینہ 2 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

منصوبے کی افادیت کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ معاہدوں میں شامل منصوبے کے سول ورکس مقررہ مدّت اور تعمیراتی معیار کے مطابق مکمل کریں۔یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ واپڈا چار ہزار 320 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کا حامل داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ دریائے سندھ پر صوبہ خیبرپختونخواکے ضلع کوہستان میں داسو ٹاؤن سے بالائی جانب تعمیر کر رہا ہے۔ یہ ترقیاتی منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ صوبہ خیبرپختونخوا کیلئے بھی کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ کیونکہ اس منصوبے کی تکمیل سے ملکی اقتصادیات مستحکم ہوگی اور خیبرپختونخوا کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں سماجی اور اقتصادی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

خیبر پختونخوا حکومت نے داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر جلد از جلد کام شروع کرنے اور منصوبے کے لئے اراضی کے حصول کے لئے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو خیبر پختونخوا کو ٹاسک دے دیا ہے جو داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے متاثرین کو تعمیرات کے معاوضہ کی ادائیگی کے لئے قوانین اور روایات کا جائزہ لے کر منصوبے کے لئے قائم پراجیکٹ سٹیئرنگ کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں گے۔

منصوبے کے لئے اراضی کی خریداری اور متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کے اخراجات 36 ارب 91کروڑ روپے تک پہنچ گئے ہیں اس سلسلے میں متاثرین کے ساتھ مذاکرات کے لئے قائم کمیٹی اور متاثرین کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد سالانہ دس فیصد اضافہ کے ساتھ ان کے مطالبات تسلیم کر لئے گئے ہیں، جس کے بعد حکومت نے منصوبے کے لئے اراضی کی خریداری اور متاثرین کو معاوضے کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وفاقی وزیر برائے آبی منصوبہ بندی فیصل واوڈا کہتے ہیں کہ داسو ڈیم منصوبے کی تعمیر ایکنک سے منظور ہوگئی ہے اب بہت جلد داسو پاور پلانٹ کی تعمیر شروع ہو جائے گی،کیونکہ داسو پلانٹ کی تعمیر میں تاخیر سے یومیہ 36 کروڑ تک کا نقصان ہو رہا ہے۔

حکومت کم لاگت والے پن بجلی گھروں کے ذرائع کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کے حوالے سے کام کر رہی ہے، جب کہ لوڈ شیڈنگ کو ختم کرنے اورعوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے داسو منصوبہ حکومتی عزم کا مظہر ہے۔حکومت پاکستان کی ضمانت پر تیار ہونے والے اس منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے لیے کچھ فنڈز عالمی بینک نے فراہم کیے ہیں، جب کہ منصوبے کی تکمیل کے لیے زیادہ تر رقم واپڈا کی جانب سے ادا کی جائے گی، جو اس نے اپنے ذرائع سے حاصل کی ہے۔

مزید : رائے /کالم