سلامتی کونسل میں حمایت کی چینی یقینی دہانی

سلامتی کونسل میں حمایت کی چینی یقینی دہانی

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غیرقانونی اور یکطرفہ اقدام کے خلاف سلامتی کونسل میں جانیکا جو فیصلہ کیا ہے۔ چین نے اس کی حمایت اور تعاون کا اعلان کیا ہے، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی سے طویل ملاقات کے بعد میڈیا کو بتایا کہ پاکستان نے بھارت کے اقدامات کے متعلق اپنے تحفظات چینی وزیر خارجہ کے سامنے رکھے تو انہوں نے ہمارے موقف کی تائید کی، چین نے ایک بار پھرثابت کیا ہے کہ وہ پاکستان کا بااعتماد دوست ہے اور یہ دوستی لازوال ہے۔ چین نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ بھارتی اقدام یکطرفہ ہے جس سے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت اور ہیت تبدیل ہوئی ہے۔ انہوں نے اتفاق کیا کہ بھارتی اقدامات سے خطے کے امن و استحکام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، مسئلہ کشمیر متنازع ہے۔ اقوام متحدہ نے اسے متنازع علاقہ تسلیم کیا اور حل بھی اسی کی قراردادوں کی روشنی میں ہونا چاہئے۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ یہ مسئلہ پرامن طریقے سے حل ہو تاکہ کشیدگی میں اضافہ نہ ہو، چین نے اس خیال سے بھی اتفاق کیا کہ کرفیو اٹھتے ہی کشمیر میں ظلم و وحشت کا نیا دور شروع ہوسکتا ہے۔

چین نے اگر سیکیورٹی کونسل میں پاکستان کی برملا حمایت کی یقین دہانی کرا دی ہے تو ضروری ہے کہ جتنی جلد ممکن ہو اس معاملے کو سلامتی کونسل میں لایا جائے۔ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان ہیں جو ویٹو پاور کے حامل ہیں جن میں سے ایک چین بھی ہے۔ امریکہ نے تو خود پاکستان کو ثالثی کی پیشکش کر رکھی ہے۔ جو پاکستان نے قبول بھی کرلی ہے اور اس پر امریکہ سے امیدیں بھی وابستہ کر رکھی ہیں، تاہم یہ حتمی طور پر معلوم نہیں کہ جب یہ مسئلہ سلامتی کونسل کے روبرو رکھا جائے گا تو امریکہ اسے کس نظر سے دیکھے گا، کیونکہ جب سے بھارت نے کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کا اقدام کیا ہے امریکی دفتر خارجہ اسے بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دے رہا ہے۔ حالانکہ اگر امریکہ ثالثی کی پیشکش کر رہا تھا تو ظاہر ہے کسی طے شدہ معاملے پر تو ثالثی کا سوال پیدا نہیں ہوتا، ثالثی تو کسی ایسے معاملے پر ہوتی ہے جو متنازعہ ہو، ورنہ کیسی ثالثی؟ اس لئے جب صدر ٹرمپ نے یہ پیشکش کی تھی کہ مودی نے انہیں ثالثی کرانے کے لئے کہا ہے تو ان کے پیش نظر تنازع کشمیر کا پورا پس منطر ہوگا اور انہیں معلوم ہوگا کہ انہیں ثالثی کس معاملے پر کرانی ہے۔ اب اگر وہ ایک متنازع خطے کی حیثیت تبدیل کرنے کے بارے میں بھارت کے اقدام کا یہ کہہ کربالواسطہ دفاع کر رہے ہیں کہ یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے تو اس میں تضاد کی واضح جھلک نظر آتی ہے۔ اس لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ جب یہ مسئلہ سلامتی کونسل میں جائے گا تو امریکہ کا کیا طرز عمل ہوگا۔ باقی تین ارکان روس، فرانس اور برطانیہ کی رائے بھی ابھی اس سلسلے میں سامنے نہیں آئی، ماضی میں تو روس کشمیر پر قراردادوں کو متعدد بار ویٹو کرتا رہا ہے، لیکن اب بدلے ہوئے حالات میں وہ اس معاملے کو کیسے دیکھتا ہے، یہ ابھی معلوم نہیں، سلامتی کونسل کے دس غیر مستقل ارکان میں خود بھارت بھی ایک رکن ہے جس کو منتخب کرانے میں پاکستان نے بھی اپناووٹ دیا تھا، اب تو یہ احساس بھی پاکستان کو ہو رہا ہوگا کہ بھارت کوووٹ دے کر کوئی اچھا اقدام نہیں کیا گیا تھا، پھر بھی اگر کشمیر کے معاملے کو سلامتی کونسل میں لے جانا ہے تو بلاتاخیر ایسا کر دینا چاہئے، ادھر ادھر وقت کا ضیاع کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اور ہرگزرتے وقت کے ساتھ مسئلے پر اوس پڑتی رہے گی۔

وزیراعظم عمران خان اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی بار بار کہہ رہے ہیں کہ بھارت کشمیر میں پلوامہ جیسا ڈرامہ دوبارہ کرسکتا ہے جس کی آڑ میں اس نے پاکستان کے علاقے بالاکوٹ پر حملہ کردیا تھا، بھارت ماضی میں بھی ایسے اقدامات کرتا رہا ہے جس کی آڑ لے کر اس نے بہت سی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دلوایا اور وزیراعظم کے دورہ امریکہ سے پہلے حافظ سعید کوجس طرح گرفتار کیا گیا اور اس پر صدرٹرمپ نے جس انداز میں اظہار مسرت کیا اس سے واضح ہے کہ بھارت ایسے اقدامات کے پردے میں عالمی حمایت حاصل کرنے کی کوشش پہلے بھی کرتا رہا ہے اور اب بھی کر سکتا ہے۔ اس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ اگر بھارت پاکستان کی بعض جماعتوں کو دباؤ ڈال کر دہشت گردی کی فہرست میں لانا چاہتا ہے تو اس کی ان چالوں کو ناکام بنایا جائے اور محض امریکہ کو خوش کرنے کے لئے بلاچون و چرا ایسے مطالبات نہ مان لئے جائیں، اب جیسا کہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں پلوامہ کا ڈراما دوبارہ دھرایا جاسکتا ہے تو سوال یہ ہے کہ پہلے سے علم ہونے کے باوجود ہم نے پیش بندی کیلئے بھی کچھ اقدامات کئے ہیں یا لوگوں کو محض یہ بتایا جا رہا ہے کہ بھارت ایسا کرے گا۔ بھارت تو جو بھی کرے گا اس کا کسی نے ہاتھ تو نہیں پکڑا ہوا، ہمیں تو یہ سوچنا ہے کہ ہم بھارت کی چال بازیوں اور مکاریوں کو ناکام بنانے کے لئے کیا کرسکتے ہیں، اور ہمیں کیا کرنا چاہئے، اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ہم دنیا کو بتائیں کہ پلوامہ کا جو واقعہ پہلے ہوا تھا وہ بھی بھارت نے منصوبہ بندی سے کیا تھا اور اب بھی وہ ایسا منصوبہ بنا سکتاہے اگر ہم طاقتور ملکوں کے دباؤ میں آکر ایسے اقدامات اٹھاتے رہے جس کا فائدہ بالآخر بھارت اٹھائے اور اسے پاکستان مخالف اقدامات کا بھی موقع ملے تو ہمیں کیا حاصل ہوگا؟ اپوزیشن حکومت کی توجہ جن امور کی جانب دلا رہی ہے اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے، لیکن لگتا ہے ان باتوں کو نظرانداز کیا جارہا ہے اور ان حالات میں بھی اپوزیشن جماعتوں کو دیوار میں چننے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ عید کے بعد مزید گرفتا ریوں کا بھی منصوبہ ہے۔

مزید : رائے /اداریہ