ایڈز، مریضوں کی بڑھتی تعداد

ایڈز، مریضوں کی بڑھتی تعداد

وزارت صحت کی طرف سے ملک بھر میں ایڈز کے مرض میں مبتلا مریضوں کی تفصیل جاری کی گئی ہے جس کے مطابق چاروں صوبوں میں متاثرہ افراد کا تخمینہ ایک لاکھ 66ہزار ہے لیکن رجٹرڈ مریض صرف 23ہزار ہیں، ان میں سے 15ہزار کا علاج ہو رہا ے، محکمہ کی طرف سے جاری کی جانے والی تفصیل کے مطابق ایڈز کے مریضوں میں 18220مرد، 4170خواتین،564بچے اور 426بچیاں شامل ہیں، اس مرض میں خواجہ سرا بھی مبتلا ہیں اور ان کی تعداد 379ہے۔ وزارت صحت کے مطابق دو ہزار چار سو سے زائد کا تعلق خیبر پختونخوا، 8ہزار 867سندھ،12ہزار 202پنجاب اور بلوچستان میں مریضوں کی تعداد 834ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں بھی 2ہزار424مریض ہیں۔رپورٹ کے مطابق اس مرض کے پھیلنے کی وجہ غیر محفوظ جنسی تعلقات کے علاوہ استعمال شدہ سرنجوں کا پھر سے استعمال بھی ہے کہ نشہ کرنے والے بھی ایسی سرنجیں استعمال کرتے ہیں۔ وزارت صحت کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں ایڈز سے بچاؤ کے 33مراکز کام کررہے ہیں اور متاثر مریضوں کے علاج کے لئے ہنگامی اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں، اس میں مریضوں کو ادویات کی فراہمی اور والدین سے بچوں کو منتقل مرض کی روک تھام بھی شامل ہے۔اس موذی مرض کے پھیلاؤ کے بارے میں لاڑکانہ سے پتہ چلا جب غلط سرنجوں کے استعمال کی وجہ سے مریضوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی اور اب جو رپورٹ پیش کی گئی اس سے اندازہ ہوا کہ یہ مرض کس حد تک پورے ملک میں سرائیت کر چکا اور یہ امر بھی افسوسناک ہے کہ ملک میں مریضوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈمریضوں کی قریباً 23ہزار اور صرف پندرہ ہزار کا علاج ہو رہا ہے، اس میں معصوم بچے اور بچیاں بھی شامل ہیں جنہیں یہ مرض والدین سے منتقل ہوا، یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ روک تھام کے لئے موثر اقدامات نہیں کئے گئے، ایک دور تھا جب تشہیر سے کام لیا گیا پھر بند کر دی گئی حالانکہ یہ ضرورت ہر دم موجود ہے اور یہ بھی لازم ہے کہ لوگوں کو ٹیسٹ پر آمادہ کیا جائے اور مریضوں کا پتہ چلا کر موثر علاج کیا جائے۔ اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ احتیاط اور علاج کا سلسلہ تسلی بخش نہیں اسے بہتر سے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

مزید : رائے /اداریہ