احتساب اور انتقام کے درمیان معلق جمہوریت

احتساب اور انتقام کے درمیان معلق جمہوریت
 احتساب اور انتقام کے درمیان معلق جمہوریت

  


پاکستان میں سیاست کے چلن بدلنے والے نہیں، البتہ ان میں ہر گزرتے وقت کے ساتھ مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب کسی نے مجھے کہا کہ پاکستان میں پہلی بار یہ تاریخ بھی رقم ہو گئی کہ سابق وزیر اعظم اور ان کی بیٹی دونوں ہی پابند سلاسل ہیں۔ آصف علی زرداری ایک زمانے میں جب لانڈھی جیل کے قیدی تھے، تو بے نظیر بھٹو آزاد تھیں، وہ اپنے بچوں سمیت انہیں ملنے جاتیں، نواز شریف کو اس بار صرف ان کی والدہ عید ملنے آئیں گی۔

ان کے دونوں بیٹے تو پہلے ہی انہیں بھولے بیٹھے ہیں،اب مریم نواز بھی انہیں نہیں مل سکیں گی، شہباز شریف ایک طرف اپنے بھائی کو ملیں گے اور دوسری طرف بیٹے سے ملنا چاہیں گے، اپنی بھتیجی سے ملنے کی خواہش بھی ہو گی، مگر نجانے اجازت ملتی ہے یا نہیں؟ آصف علی زرداری خوش قسمت ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری گرفتار نہیں، دونوں بیٹیاں بھی آزاد ہیں، اس لئے عید پر ان کی ملاقات ہو سکتی ہے، تاہم وہ اپنی بہن فریال تالپور سے نہیں مل سکیں گے۔

گویا حالات پہلے سے زیادہ ستم ظریفانہ ہو چکے ہیں۔ بگاڑ زیادہ ہے، سدھار کم ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ سلسلہ کب تک چلے گا؟ ایک سوال تو یہ بھی جنم لیتا ہے کہ جب حکومتیں ملتی ہیں تو اس میں پورے خاندان کا حصہ کیوں ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ پیسہ، جسے ہمارے نبی ؐ نے امت کا سب سے بڑا فتنہ قرار دیا تھا، سب مل کر دونوں ہاتھوں سے جمع کرنا شروع کر دیں گے تو پھر جوابدہی کے لئے بھی سب کو تیار رہنا ہو گا۔ اب اس بات کو کیسے درست قرار دیا جا سکتا ہے کہ عورتوں پر مقدمات کیوں بنائے جا رہے ہیں، ان کی گرفتاریاں کیوں ہو رہی ہیں؟

اگر وہ اقتدار کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والوں کے ساتھ شریک رہی ہیں تو صرف اس بنیاد پر انہیں رعایت کیسے مل سکتی ہے کہ وہ خواتین ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کا مریم نواز کی گرفتاری پر شدید ردعمل بھی اسی بنیاد پر تھا، مگر وہ یہ بھول گئے کہ اس ملک میں ان کی والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی گرفتار کیا گیا تھا،ان کی پھوپھی فریال تالپور بھی زیر حراست ہیں۔

ہماری سیاست میں کوئی خرابی ہے یا پھر یہ کلچر پروان چڑھ چکا ہے کہ آنے والے حکمران جانے والوں کا احتساب کرتے ہیں، تاکہ انہیں سیاسی طور پر نقصان پہنچا سکیں۔ میرا خیال ہے ماضی بعید میں ا یسا ہوتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرپشن کے تمام کیسزو قت گزرنے کے ساتھ ساتھ ختم ہوتے رہے۔ رہی سہی کسریں این آر او کر کے نکالی جاتی رہیں۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی تو باقاعدہ ایک تاریخ موجود ہے، جس میں چوہے بلی کا کھیل کھیلا جاتا رہا۔ اب اس تاریخی تناظر میں آج کل کے حالات کو بھی دیکھا جا رہا ہے۔

وہی کیسز ہیں اور وہی حکومت کا موقف ہے، اب ایسی کون سی نئی بات ہے،جس کی وجہ سے یہ سمجھا جائے کہ نہیں اب جو ہو رہا ہے، وہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔ اب ایسے میں عوام کیسے یقین کر لیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ درحقیقت واقعی ہو رہا ہے، صرف ڈرامہ نہیں۔ حیرت ہے ٹی وی چینلوں پر کرپشن کی بڑی چونکا دینے والی تفصیلات فراہم کی جاتی ہیں۔ احتساب کے لئے وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر بھی بڑی بڑی داستانیں سناتے ہیں، مگر انہیں ثابت کرنے کی نوبت کب آئے گی۔ چودھری شوگر ملز کے بارے میں سن سن کر عوام کے کان پک گئے ہیں۔ جب اتنا زیادہ مواد ہاتھ لگ گیا ہے تو ریفرنس کیوں دائر نہیں کیا جاتا، فیصلہ کیوں نہیں کرایا جاتا۔

مریم نواز کی گرفتاری کے حوالے سے ایک خبر یہ بھی گردش کر رہی ہے کہ انہیں جان کے خطرے کی وجہ سے حراست میں لیا گیا ہے۔ پاک بھارت حالیہ کشیدگی کے بعد خدشہ تھا کہ بھارت کی ایجنسی ”را“ مریم نواز کو نقصان پہنچانے کی سازش کرے،جس کا الزام حکومت پر آئے اور ملک میں خانہ جنگی کی فضا پیدا ہو جائے۔ اگرچہ اس خبر کی کسی جانب سے تصدیق نہیں کی گئی، مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مریم نواز جتنے بڑے جلسوں اور ریلیوں میں شریک ہو رہی تھیں اور جس طرح ان کی سیکیورٹی نہ ہونے کے برابر ہوتی تھی، جس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ منڈی بہاؤ الدین میں ان کا موبائل چرا لیا گیا۔

ایسے میں کچھ بھی ہو سکتا تھا، اس لئے انہیں گرفتار کرنا مناسب سمجھا گیا، تاہم اگر یہ بات درست بھی ہے،تب بھی گرفتاری کا غلط راستہ اختیار کیا گیا۔ ان کی حفاظتی نظر بندی بھی کی جا سکتی تھی۔ ان کے جلسوں اور ریلیوں پر پابندی بھی لگائی جا سکتی تھی، لیکن شاید اس وجہ سے یہ راستہ نہیں اپنایا گیا کہ اس سے مریم نواز کو سیاسی فائدہ پہنچتا اور یہ تاثر جاتا کہ حکومت ان کے جلسوں اور ریلیوں سے خوفزدہ ہو گئی ہے، جس کے باعث انہیں نظر بند کیا گیا۔

یہ خبر محض ایک مفروضہ بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ بات ہرگز مفروضہ نہیں کہ مریم نواز پر اگر الزام ثابت نہ ہو سکا اور وہ قانونی طریقے سے باہر آ گئیں تو موجودہ حکومت کے لئے واقعتاً ایک بڑا سیاسی خطرہ بن جائیں گی۔ ایک تو مریم نواز نے خود جارحانہ انداز اپنا کر خود کو نمایاں کیا ہے اور دوسری طرف ان کی گرفتاری اور پھر مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کا یہ پروپیگنڈہ کہ حکومت نے کشمیر پر اپنی کمزور پوزیشن کو چھپانے کے لئے مریم نواز کو گرفتار کیا ہے، نیز حکومت ایک نہتی خاتون سے خوفزدہ ہے۔

ایک مقبول بیانیہ بن سکتا ہے۔پہلے ہم کہتے تھے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی باریاں لینے کے لئے ایک دوسرے پر الزامات لگاتی ہیں،حکومت میں آ کر انتقام لیتی ہیں اور اپوزیشن میں رہ کر واویلا کرتی ہیں، مگر یہ سلسلہ تو آج بھی نہیں رکا، حالانکہ اب دو نہیں تین بڑی سیاسی جماعتیں ہیں۔ پہلے انتقام کا واویلا ایک سیاسی جماعت کرتی تھی، اب دو سیاسی جماعتیں کر رہی ہیں اور تیسری احتساب کا دعویٰ کر رہی ہے۔ سیاسی انتشار اس وقت بھی تھا جب ملک میں دو بڑی سیاسی جماعتیں تھیں اور انتشار اب بھی ہے کہ جب ایک تیسری بڑی سیاسی جماعت بھی معرض وجود میں آ چکی ہے اور اقتدار بھی اس کے پاس ہے۔

اسی بنا پر یہ شبہ ابھرتا ہے شاید ہمارا سیاسی کلچر ہی ایسا ہے، ایک طرف احتساب اور دوسری طرف انتقام کانعرہ یہاں لگنا ہی لگنا ہے، کیا اس کلچر کے ہوتے ہوئے ملک میں سیاسی استحکام آ سکتا ہے؟

مزید : رائے /کالم