مریم کی گرفتاری کے محرکات؟

مریم کی گرفتاری کے محرکات؟
 مریم کی گرفتاری کے محرکات؟

  


یہ بالکل بجا اور درست ہے کہ بلاول بھٹو کو نہ تو اس قدر جذباتی ہونا چاہیے اور نہ ہی کوئی ایسی بات کہنا چاہیے جو قابل اعتراض یا غیر پارلیمانی گردانی جائے۔ اس لئے بھی کہ وہ جینوئن پڑھے لکھے، مہذب اور ایک ایسی جماعت کے سربراہ ہیں جو چار بار برسراقتدار رہی، انہوں نے مریم نواز کی گرفتاری پر جو ردعمل دیا وہ ان کی صوابدید ہے لیکن جب ہوش پر جوش غالب آجائے تو ایسا ہو ہی جاتا ہے کہ الفاظ بے ترتیب ہو جائیں۔

ان کی طرف سے کہا گیا ایک لفظ بھی قابل غور ہے اور ایسا ہی ہوا کہ ایک ہی لفظ نے کئی دریچے کھول دیئے اور مخالفین کو جوابی طورپر حدود سے تجاوز کرنے کی جرات ہی نہ ہوئی بلکہ موقع مل گیا اور انہوں نے تو گالیوں اور ناگفتنی کے در ہی وا کر دیئے۔ ابھی تو بلاول کی طرف سے تنازعہ کشمیر پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کی جانے والی ان کی تقریر کی تعریف ختم نہیں ہوئی تھی کہ گالیوں کے تحائف شروع ہو گئے ہیں، اللہ پناہ دے کہ سوشل میڈیا پر بھی یوتھیئے آپے سے باہر ہو گئے ہیں۔

یہ اپنی جگہ تاہم کپتان نے مراد سعید کے نام سے جو اپنا کھلاڑی میدان میں کھلا چھوڑا ہوا ہے، اسے روکنے والا کون ہے؟ اس کے منہ میں جو آتا وہ کہہ دیتا ہے اور اتنا لا علم ہے کہ طعنہ دیتے وقت بھی تاریخ کو بھول ہی نہیں جاتا مسخ بھی کر دیتا ہے، جواب میں مراد سعید نے بلاول سے پوچھا کہ جب جہاز سے تصاویر گرائی جا رہی تھیں تو وہ کہاں تھے ان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کیا دور تھا اور محاذ آرائی کی کیفیت کیا تھی اور بلاول کیا تھا؟ اگر وہ نہیں جانتے تو اب بھی بلاول کی عمر، تاریخ پیدائش معلوم کرکے اس ”سانحہ“ کی تاریخ بھی نکلوا لیں تو ان کو معلوم ہو جائے گا کہ اس وقت بلاول کہاں تھے؟

بہرحال ہمیں تو غرض ہے کہ گالی گلوچ اور غیر پارلیمانی الفاظ کا کلچر کہاں سے آیا، کیا ہم پھر سے کشمیر والی تقریروں، سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے گروپوں، شیخ رشید، فواد چودھری، مراد سعید اور اب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے الفاظ اور ٹوئیٹ یاد کریں یا کپتان کے ”چور، ڈاکو، لٹیرے“ اور ”نہیں چھوڑوں گا“ والے کلمات کو دہرائیں جو پارلیمان میں غیر پارلیمانی الفاظ کہے اور حذف کئے جاتے اور پھر معافی بھی مانگ لی جاتی ہے۔ ہمارے ایک دوست جو پنجاب اسمبلی کے ملازم تھے کئی ایسی کتابوں کے مصنف ہیں جو صوبائی اسمبلی (پنجاب) کی کارروائی کے مختلف پہلوؤں پر تصنیف کی گئی تھیں۔

ان میں ایک غیر پارلیمانی الفاظ والی بھی ہے۔ اس میں وہ تمام غیر پارلیمانی الفاظ پس منظر کے ساتھ ہیں جو حذف کئے گئے اور پارلیمان کی کارروائی کا حصہ نہیں تھے، دلچسپ امر یہ ہے کہ وفاقی ایوان ہو یاصوبائی، ان کی تمام تر کارروائی ریکارڈ ہوتی ہے، پہلے سٹینو گرافر ہوتے تھے جو نوٹس لے کر ٹائپ کرتے اور اب ان کے ساتھ آڈیو اور ویڈیو کا بھی اہتمام ہے تاہم قارئین! کی دلچسپی کے لئے یہ عرض کر دیں کہ سپیکر کی طرف سے جو الفاظ کارروائی سے حذف کرائے جاتے ہیں وہ بھی پارلیمانی یادداشت میں محفوظ رہتے ہیں کہ ان کا اندراج بالکل اسی طرح ہوتا ہے جیسے ایوان میں کارروائی ہوتی، مثلاً کسی نے عیر پارلیمانی الفاظ ادا کئے وہ ریکارڈ ہو گئے اس کے ساتھ ہی جب سپیکر نے یہ الفاظ حذف کئے تو یہ حکم بھی جوں کا توں ریکارڈ ہو گیا“یہ الفاظ حذف کئے جاتے ہیں“ یوں ریکارڈ سیدھا ہوا کہ یہ جو الفاظ کہے گئے وہ غیر پارلیمانی قرار دیئے گئے اور ان کو کارروائی سے حذف کرنے کا حکم دیا گیا۔ یوں تاریخ میں یہ سب ثبت ہو جاتا ہے، اس لئے ہر ایک رکن کو احتیاط کا دامن ہاتھ میں رکھنا چاہیے۔

اس کے علاوہ میڈیا میں بھی یہی چھپتا اور نشر ہو جاتا ہے کہ فلاں یہ کہہ رہا اور سپیکر نے الفاظ حذف کر دیئے، ایسا ہی اب ہوا اور اب بلاول کے ساتھ ساتھ مراد سعید کی فوٹیج بھی وائرل ہو رہی ہے اور ایک نیا جھگڑا چل رہا ہے، اس کے علاوہ قومی اسمبلی کے باہر جو ہوا وہ بھی کوئی شایان شان نہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگ زیب ادھر سے اور وزیر پارلیمانی امور ادھر سے نعرے لگواتے رہے اور پھر ہاتھا پائی تک نوبت بھی آئی۔

اس تمام تر صورت حال سے وہ تاثر ہی زائل ہو گیا جو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی وجہ سے ہوا، یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب بھارت کے غاصبانہ قبضے اور طرز عمل کے خلاف برصغیر میں نوبت جنگ کے خطرات

تک پہنچ گئی۔

حکومت نے سخت اقدامات کئے تو بھارت کی طرف سے بھی پیچھے پلٹنے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا گیا۔ ازلی حریف سے اس سے پہلے بھی پالا پڑ چکا اور اس مودی نے تو سب توقعات خاک ہی میں ملا دی ہیں اور اب ہم سب ہنگامی صورت حال سے دوچار ہیں، اس میں ہمیں مکمل قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے جو برسراقتدار طبقے کی ہے کہ جو اقتدار میں ہو وہی کچھ دینے کا اہل ہوتا ہے، لیکن یہاں تو حساب ہی مختلف ہے کہ جب نیب اور ایف آئی اے کارروائی کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ یہ خود مختار ادارے ہیں اور اس سے پہلے وزراء باری باری لوگوں کے نام لے کر گرفتاری کی پیش گوئی کرتے ہیں تو وہ گرفتار ہو جاتے اب خورشید شاہ، مراد علی شاہ اور چند دوسرے لوگوں کا نام ہے اس میں شہباز شریف بھی شامل ہیں، دیکھئے ان کی باری کب آتی ہے۔

جہاں تک مریم نواز کی گرفتاری کا تعلق ہے تو الزام کی تحقیق سے انکار نہیں یہ ادارے کرتے رہیں اور ثبوت ہو تو عدالتوں میں پیش کرکے سزا دلانے کی بھی کوشش کریں لیکن یہ احتیاط تو کرنا چاہیے کہ گرفتاری کن حالات اور کس وقت کی جا رہی ہے۔ مریم ایک مقدمہ میں سزا یافتہ اور ضمانت پر ہیں، ان کے والد جیل میں ہیں، اپیل زیر غور ہے۔ ایسے میں ان کو کسی اور مقدمہ میں گرفتار کر لینا کیا پیغام دیتا ہے؟ غالباً آصف علی زرداری اس کو بہتر سمجھتے ہیں اور انہوں نے ضمانت کروانے ہی سے انکار کر دیا اور کہا کہ قانون میں جتنے ریمانڈ کی گنجائش ہے ایک ہی بار لے لو، حالانکہ وہ بھی تحریک کی بات کرتے ہیں۔

مریم نواز کی گرفتاری پر ردعمل بھی فطری ہے تاہم جو جواب لال ٹوپی والے نے دیا وہ بڑا معنی خیز ہے ”وہ کہتے ہیں، ”را“ نے طے کیا ہے کہ مریم نواز کو بھی بے نظیر بھٹو کی طرح قتل کرکے الزام پاک فوج پر لگا دیا جائے۔ ان کی گرفتاری ان کی جان کے تحفظ کے لئے ہے“ اب اس پر غور کرلیں اور یہ بھی جان لیں کہ یہ زید حامد (لال ٹوپی) ہیں کون؟ اللہ اللہ اور خیر سلا،“ رہو مریم حفاظت میں!“

مزید : رائے /کالم