مومن ہر بار بے تیغ نہیں لڑتا

مومن ہر بار بے تیغ نہیں لڑتا
 مومن ہر بار بے تیغ نہیں لڑتا

  


منفرد مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کہہ گئے ہیں کہ اردو کا سب سے بڑا دشمن غزل کا اسلوب ہے۔ اشارہ اُس مقبول روایت کی طرف تھا، جس میں شعری دانش کی اکائی تخلیق کرنے کے لئے حقیقت نگاری میں خواہش کی ملاوٹ ضروری خیال کی جاتی ہے۔ احمد ندیم قاسمی نے یہی وضاحت آسان انداز میں یہ کہہ کر کی کہ ”فن رائے کا اظہار نہیں، جذبہ کا اظہار ہے“۔

یہ تو ہوئیں شعر و ادب کی باتیں۔ ہمارے یہاں عام زندگی میں بھی دلائل کو جذبات کی زبان نہ ملے تو کہنے والے کی تسلی ہوتی ہے نہ سننے والوں کی۔ لاہور کے بھاٹی چوک میں ایک نیم مذہبی لیڈر کی تقریر کے دوران، جس کی انگریزی مَیں امکانی حد تک بی بی سی کے اوئین بینٹ جونز کو بتاتا جا رہا تھا، اوئین کو فکر ہوئی کہ یہ تو بڑی سیرئیس اسٹیٹمنٹ ہے، کل پتا نہیں کیا ہو جائے؟ مَیں نے آہستہ سے کہا ”کچھ نہیں ہوگا، مگر وجہ باہر چل کر بتاتا ہوں“۔

اب اگر الفاظ پہ جائیں تو واقعی جلسے میں جو کچھ کہا گیا وہ سنجیدہ ہی نہیں بلکہ برطانوی صحافی کے لئے ایک گونہ سنگین نتائج کا حامل بھی تھا، اور یاد رہے کہ یہ آج سے کوئی بیس سال پہلے کی بات ہے جب وطنِ عزیز میں امن و امان کی صورت حال قدرے بہتر تھی۔

مقرر نے ہر جملے پہ سر دھننے والے سامعین کے سمندر میں آواز کا پتوار چلایا ”کل چشمِ فلک دیکھے گی کہ میری پُکار پر لبیک کہتے ہوئے فرزندانِ توحید دینِ حق کی سر بلندی کے لیے برہنہ سر، برہنہ پا میدانِ عمل میں کود پڑے ہیں۔ ہر گاؤں، ہر شہر، ہر تحصیل اور ضلع کی سطح پہ احتجاج ہو گا۔ لاہور کے لوگو، گواہ رہنا کہ ہمارے کارکنوں کا سیلاب اب روکے نہیں رک سکتا۔ اعدائے بد نہاد کی سازشیں اور منصوبے اِس کے آگے خس و خاشاک کی طرح بہہ جائیں گے“۔

اُس رات جلسہ گاہ سے نکل کر مَیں نے اوئین کو خطابت کی مقامی اقدار کے چیدہ چیدہ نکات سمجھائے اور ساتھ ہی یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ہمارے ملک میں استدلال کا خمیر اکثر اوقات خواب و خیال کی گھٹی دے کر اٹھایا جاتا ہے۔ بی بی سی کے ساتھی کو الوداع کہہ کر گھر جاتے ہوئے بھی یہی سوچ دامن گیر رہی کہ ہمارے نیم قبائلی اور نیم زرعی معاشرے میں سیاسی تقاریر و بیانات کے ڈھانچے میں منطق کی کچی پکی اینٹیں استعمال تو ہوتی ہیں، لیکن اینٹوں کو جوڑنے کے لیے جوش و جذبہ کا گارا ہی کام آتا ہے۔

بصورتِ دیگر عمارت کھڑی ہی نہیں ہوتی اور کھڑی ہو جائے تو ہماری نظروں میں جچتی نہیں۔ اِسی طرحِ خواب و خیال کی دنیا میں ہم کئی کارروائیاں ایسی بھی کر لیتے ہیں جو ہمارے سوا کسی کو دکھائی نہیں دیتیں۔ جیسے دہلی کے قلعہ پہ بارہا ہلالی پرچم لہرانے کا عمل یا چونڈہ میں ٹینکوں کے نیچے لیٹ جانے والے سبز پوش۔ اگر کوئی ماننے سے انکار کردے تو بس خود کو غصہ چڑھا لیا اور اپنی دانست میں ہر بلا سے محفوظ ہو گئے۔

بھاٹی کا جلسہ اِس لئے ذہن میں تازہ ہوا کہ عین اِس وقت مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی انسانیت سوز ظالمانہ کارروائیاں، لائن آف کنٹرول کی ہلاکت خیز خلاف ورزیوں کا تسلسل اور اور اب متنازعہ ریاست کے خصوصی اسٹیٹس کا خاتمہ پاکستان میں ایک بار پھر شدید غم و غصہ کی عوامی لہر کا موجب بنے ہوئے ہیں۔

کیا بھارتی آئین کی متعلقہ شق کو، جسے ابتدا میں ریاستی دستور ساز اسمبلی ہی وجود میں لائی، محض راجیہ سبھا کی قرارداد اور صدارتی فرمان کے ذریعے منسوخ کیا جا سکتا ہے؟ مذکورہ دستورساز اسمبلی کے نہ ہوتے ہوئے، جو کب کی تحلیل ہو چکی، کیا یہ ضروری نہیں تھا کہ مجوزہ اقدام پر ریاستی حکومت کی رائے لی جاتی؟ مقبوضہ ریاست میں صدر راج نافذ ہونے کی وجہ سے درج بالا طریقِ کار کی آئینی و قانونی حیثیت کِس حد تک رہ جاتی ہے؟ پھر سب سے بڑا سوال یہ کہ اگر بھارتی سپریم کورٹ خصوصی اسٹیٹس کے خاتمے کو منسوخ بھی کر دے تو اِس منسوخی سے بحال ہو جانے والی صورت حال آیا ہم پاکستانیوں کو قبول ہو سکتی ہے؟

اِن کے ساتھ کچھ الجھے ہوئے مسائل اور بھی ہیں۔ جیسے ’دوستی بس‘ اور پاک بھارت ریلوے ٹرینوں پر بندش کا فائدہ یا نقصان غیر مسلم یاتریوں کو پہنچے گا یا منقسم مسلمان خاندانوں کو؟ کیا پاکستان کے لئے بھرپور روایتی عسکری کارروائیوں میں افادیت کا پہلو رکھتی ہے؟ اور اگر ہم مسئلہ کشمیر ایک بار پھر اقوام متحدہ میں لے جاتے ہیں تو ناکافی عالمی حمایت کے باعث کہیں پاکستان کو جموں و کشمیر پہ اپنے دیرینہ طے شدہ موقف سے پیچھے تو نہیں ہٹنا پڑے گا؟ مَیں محبِ وطن پاکستانی تو ہوں مگر دفاعی تجزیہ نگار نہیں، نہ میری نگاہ تیزی سے خارجہ امور کی تہہ در تہہ باریکیوں تک پہنچ پاتی ہے۔

گرد و پیش کی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے مجھے جموں و کشمیر کے موجودہ بحران کا کوئی ایسا حل سجھائی نہ دیا جسے سب فریق برضا و رغبت تسلیم کرلیں اور کشمیریوں کے مفاد اور پاکستان کے قومی وقار پہ ضرب بھی نہ لگے۔ چنانچہ آج کل کے پڑھے لکھوں کی طرح دل کو تسلی دینے کے لئے فیس بک پہ ایک پوسٹ لگا دی۔ آغاز آپ بھی ملاحظہ کیجئے:

”ریکارڈ کی درستی کے لئے عرض ہے کہ کاش ہم نے کشمیر کو اراضی کے پاک بھارت تنازعہ کی جگہ ایک قوم کی آزادی کے مسئلہ کے طور پہ دیکھا ہوتا۔ آزاد جموں و کشمیر کے (بنیادی جمہوریت نظام کے تحت) اولین منتخب صدر اور آزادیئ برصغیر کے وقت بانی پاکستان محمد علی جناح کے پرائیویٹ سیکرٹری کے ایچ خورشید کی تجویز یہی تھی۔

بہرحال خورشید صاحب کو اِس سوچ کے سبب صدارت سے مستعفی ہونا پڑا اور قیامِ پاکستان کے بعد وہ دلائی کیمپ میں قید ہونے والے پہلے سیاسی رہنما شمار ہوئے۔ اُن پر علیحدگی پسندی کا لیبل چسپاں کیا گیا تھا۔ قبل ازیں اِسی الزام میں شیخ عبداللہ کی وزارت عظمی کے دنوں میں وہ کوئی ڈیڑھ سال تک مقبوضہ کشمیر میں بھی پسِ زنداں رہے تھے“۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 1970ء میں میرے بی اے کے آخری سال آزاد جموں و کشمیر کی انتخابی مہم کے دوران سیالکوٹ میں، جہاں جموں اور گرد و نواح کے پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے، چوک شہیداں کے ایک جلسہء عام میں کے ایچ خورشید نے ایک نہایت منطقی، سیدھی سادی اور عام فہم سی مثال پیش کی تھی، جس میں اہلِ نظر کے لئے نشانیاں ہیں۔

خورشید صاحب نے اپنے سامنے پڑی ہوئی لالٹین، جو اُن کی جماعت لبریشن لیگ کا انتخابی نشان تھی، اٹھا ئی اور کہا کہ ”اگر یہ لالٹین میرے پاس ہے تو مَیں یہ لالٹین آپ کو دے سکتا ہوں۔ اگر میرے پاس ہے ہی نہیں تو پھر الحاقِ پاکستان کے کیا معنی؟ اِس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جو حصہ آپ کے پاس ہے وہ آپ کا، جو بھارت کے قبضے میں ہے وہ بھارت کا“۔

فیس بک پہ میری تازہ پوسٹ کے آخری الفاظ تھے: ”بیرسٹر کے ایچ خورشید خوش شکل، نرم گفتار، صاحبِ علم اور کشادہ ذہن آدمی تھے۔ مارچ 1988ء میں میر پور میں وکلاء کے کنونشن سے واپسی پر ٹریفک کے ایک حادثہ میں جاں بحق ہوئے تو اُن کا مسکن ریس کورس روڈ لاہور پہ کرائے کی کوٹھی تھی۔

کشمیری ہم وطنوں نے انہیں ’خورشید ملت‘ کہا اور مظفر آباد میں سپردِ خاک کیا“۔ یہاں کے ایچ خورشید کی کہانی ختم کر تو سکتا تھا لیکن جن حالات میں انہوں نے 1965 ء کی پاک بھارت جنگ شروع ہونے سے ایک سال پہلے جموں وکشمیر کی صدارت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا، اُن پہ ابھی تک ابہام کا پردہ پڑا ہوا ہے۔ سوائے اِس کے جس شام انہوں نے استعفے دیا، خورشید نے پاکستان کے اُس وقت کے وزیرِ خزانہ ایم ایم شعیب سے ملاقات کی تھی، جن کی سرگرمیوں کا کچھ احوال ’شہاب نامہ‘ میں درج ہے۔

اگر کے ایچ خورشید آج زندہ ہوتے تو مَیں اُن کی پس از مرگ شائع ہونے والی کتاب ’قائد اعظم کی یادیں‘ کے حوالے سے کچھ نہ کچھ پوچھنے کی جسارت ضرور کرتا۔ یہی کہ پاکستان قائم ہوتے ہی جموں و کشمیر پہ مجاہدین نے جو لشکر کشی کی، کیا بانی پاکستان کو اِس سلسلے میں اعتماد میں لیا گیا تھا؟ اگر نہیں تو جنرل فرینک میزروی کے کماندر انچیف ہوتے ہوئے، جو دونوں طرف برطانوی افسروں کی موجودگی کے پیشِ نظر پاک بھارت فوجی تصادم کے خلاف تھے، اِن کارروائیوں کی اجازت آخر کِس نے دی؟

خورشید صاحب، آپ نے تو 1965ء میں بھی مقبوضہ جموں و کشمیر میں چھاپہ مار سرگرمیاں شروع کرنے کے خلاف مشورہ دیا تھا، مگر کیوں؟ آخر میں یہ پوچھتا کہ بھارت کی اشتعال انگیزیوں کے باوجود، کیا آج بھی یہ خطہ فوجی ٹکراؤ کا متحمل ہو سکتا ہے؟ ہو سکتا ہے آپ امکانی طور پہ کہتے کہ جواب اُن سے مانگو جن کے پاس اختیار ہے۔ اِس پہ مَیں عرض کرتا کہ وہ تو میری باتیں سُن کر خود غصہ چڑھا لیں گے اور مَیں آپ ہی کی طرح گویائی سے محروم ہو جاؤں گا۔

مزید : رائے /کالم