اینولمیاں پاؤ۔۔۔۔

اینولمیاں پاؤ۔۔۔۔
اینولمیاں پاؤ۔۔۔۔

  


کل اخبار شائع نہیں ہو گا اس لیئے ہماری طرف سے پیشگی عید مبارک قبول فرمائیں۔اگر آپ نے قبول فرما لی تو ہم کچھ فرماتے ہیں اسے ایویں سٹ نہ دیجئے گا۔ہمیں یقین ہے کہ اس بار جو گوشت کھائیں گے اسکا ذائقہ دور دور بھی کھوتے کے گوشت کے قریب نہ ہو گا۔ لاہوریوں نے جتنے کھوتے کھانے تھے کھا لیے۔

ویسے بھی سینٹ ایلکشن سے کچھ پہلے اور بعد کھوتے،بکروں، چھتروں سے مہنگے ہو گئے تھے ان کی قیمتیں آسمانوں تک جا پہنچی تھیں۔لیکن کیا کریں کھوتا جتنا مرضی مہنگا ہو جائے کھوتا ہی کہلاتا ہے۔بس اس کی کبھی کبھار جمہوریت کو پڑنے والی دولتی سے بچنا چاہیے۔

عید قربان ہمیں کیا درس دیتا ہے بتانے کی ضرورت نہیں۔اب قربانیاں اپنی انا کی تسکین اور معاشرے میں تعلقات بلکہ بہتر تعلقات کی تجدید کا ذریعہ ہے۔میری آپ کو برادرانہ ہدایت ہے کہ اس گوشت کو ضرورت مندوں اور غریب طبقے سے دور رکھیں کہیں ان مزاج نہ بگڑ جائے۔

ہاں آپ زیادہ سے زیادہ یہ نیکی کما سکتے ہیں کہ جانوروں کا فضلہ اور اوجھڑی وغیرہ غریبوں کے گھر کے سامنے پھنکوا دیں۔تاکہ آپ کو ثواب دارین حاصل ہو سکے۔

رہا تقویٰ تو بطور قوم ہم میں ہو گا تو کبھی اس کو بھی مطمئن کرلیں گے۔شیخ صاحب حج کر کے واپس آئے کسی نے پوچھا!شیخ صاحب شیطان کو کنکریاں ماریں،وہ بولے رش بہت تھا کنکریاں نہیں مار سکا،ہاں میں نے اسے ماں،بہن کی گالیاں بہت دیں۔ویسے بھی شیطانوں کو کنکریاں مارنے کے لیے اتنی دور جانے کی کیا ضرورت یہ رسم تو ہم اپنے گھروں میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو مار کر بھی پوری کر سکتے ہیں۔باقی کام سیاستدان پارلیمنٹ میں پورا کر لیتے ہیں۔

ہم تو بہت پہلے عرض کر دیاتھا کہ مریم بی بی جلد گرفتار ہونگی۔انہوں نے حکومت کو ”تن“کے رکھا ہوا تھا۔لیکن اپنا کپتان تو خود بڑا ضدی اے۔اس سے کون ضد میں جیتے۔حکومت کنکریاں نہیں مار سکتی لیکن گالیاں خوب کڈتی ہے،اتنا بھی کافی ہے لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ حکومت اتنی گرفتاریاں کرے جتنی آگے جا کر وہ خود دے سکے۔

رانا ثناء اللہ کے داماد کی گرفتاری پر افسوس ہوا۔لگتا ہے حکومت کا کام کلے رانا صاحب سے نہیں چل رہا تھا۔حالانکہ مارکیٹ میں داماد کا اچھا خاصہ بہتر سٹاک موجود ہے۔اپنے کیپٹن صفدر کو ہی لے لیں،انہیں اس کام کے لیے رکھا جا سکتا ہے۔اب آپ لکھ لیں وہ اپنی بیٹی کو لیکر مریم کی کمپین پر نکلیں گے۔تب بھی تو حکومت کو یہ کوڑا گھونٹ بھرنا ہی ہو گا۔ناسا نے راکٹ بنایا بڑا پیسہ خرچا،لیکن وہ نا چل سکا وہاں اپنے سردار بنتا سنگھ بھی ملازم تھے انہوں نے کہا میں چلا سکتا ہوں۔مجبوراً انہیں موقع دینا پڑا وہ بولے اینو لمیاں پاؤ،سد ے پاسے،انجینئر نے راکٹ زمین پر لٹا دیا۔وہ بولے ہن اینو پٹھے پاسے لمیاں پاؤ۔ایسا ہی کیا گیا،اب اپنے سردار بنتا بولے بٹن چلاؤ۔انجینئر نے ڈرتے ڈرتے بٹن آن کیا۔

راکٹ چل گیا۔وہ حیرت سے بولے۔سردار جی یہ کیسے ہو گیا۔بنتا سنگھ بولا میرا سکوٹر وی نا چلے تے میں اینج ای کرنا واں۔میرا وزیر اعظم کو مشورہ ہے کہ وہ کسی بنتا سنگھ کو تلاش کریں۔شاید ان سے نئے پاکستان کا راکٹ چل پڑے۔بات ہو رہی تھی مریم بی بی کی گرفتا ری کی۔انہوں نے اپنے ابو کے لیے ایک بہادر بیٹی کا کردار اد ا کیا۔مرحومہ کلثوم نواز نے بھی ایک بار ایسا کیا تھا اور انہیں عوامی پذیرائی اور ہمدردی ملی۔لیکن اس بار خوش قسمتی سے شہباز شریف جیل میں تھے۔مریم کی بد قسمتی ان کے چا چا باہر ہو کر بھی اندر نظر آئے۔

بیٹیاں باپ کی جان ہوتی ہیں اور بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں ان کی آنکھ میں آئے یک آنسو سے باپ کا دل ہل کر رہ جاتا ہے۔نواز شریف پر بہت اذیت گزری ہو گی جب ان کے سامنے ان کی لاڈلی کو گرفتار کیا ہو گا۔کیا فائدہ ایسے اربوں،کھربوں روپوں کا جو آپ کو نہ عزت دیں سکیں نہ اولاد کا سکھ۔بھائی بہتر ہے کہ ہم روکھی،سوکھی کھاتے ہیں اور بچوں کے ساتھ خوش رہتے ہیں۔

میراثی کو پولیس غلط فہمی میں پکڑ کر لے گئی ساری رات اس کو مانجھا لگالیا،چھتر پولا کیا،صبح چھوڑ دیا،گھر آکر اسے سب پوچھنے لگے ہو ا کیا تھا،وہ بولا شا واشے ہن ایہہ منہ تھانیدار نال ڈائیلاگ کرے تے ایہو منہ تہاڈے جئے کمیاں،مراثیاں نال گل وی کرے،عزت کا میعار یہی رکھنا چاہیے۔یہ جیلیں،نیب کے حوالات آپ کا قد بڑھاتے ہیں معاشرے میں آپ کا مقام اونچا کرتے ہیں۔

ویسے بھی بستی اور سردی جتنی محسوس کرو اتنی لگتی ہے۔اس وقت خیر سے ملک کا ایک منتخب صدر دو وزرائے اعظم جیل میں ہیں اور کچھ جانے کی تیاریوں میں ہیں۔اللہ ان کا اقبال اور بلند کرے،بندہ بہت نا شکرا ہے قوم اسے لیڈری کا تاج پہناتی ہے اور وہ اپنی ڈکیتیوں سے باز نہیں آتا۔خیر اگر پوری اپوزیشن بھی گرفتار ہو جائے تو ہمارے پاس عظمیٰ بخاری جیسی بہادر کارکن موجود ہے جو رو بھی سکتی ہے اور جھولیاں چک چک کے بد دعائیں بھی دے سکتی ہے۔

پیپلز پارٹی کے لیے ان کی اس ایکسر سائز کا حتمی اور فائنل فائدہ شریف فیملی کو ہو رہا ہے۔شاباش عظمیٰ بخاری آپ کی وفاداری کا سفر رکنا نہیں چاہیے۔جاتے جاتے ایک بار پھر آپ سب کو عید مبارک،لڑکی کو مدرسہ کے ٹیچر سے محبت ہو گئی،ڈیٹ کے دوران وہ بولی سنئیے،بولیں کیا مانگتے ہیں مجھ سے۔اس نے شرما کے سر نیچا کیا اور بولا اپنے ابو کو آکھیں وہ قربانی کی کھل میکوں دے چھڈن۔ہم لیڈروں پر اپنی جان،اپنا سب کچھ وارنے پر تیار ہوتے ہیں اور ان کی نظر ہماری بلکہ ہماری قربانی کی کھال پر جمی ہوتی ہے،ہائے ہائے کیا قسمت ہے ان کی اور ہائے ہائے کیا قسمت ہے ہماری۔

مزید : رائے /کالم