حکومت کا ایک سال مکمل ، قرضوں کا نیا ریکارڈ قائم ، رقم آپ نے اندازوں سے کہیں زیادہ

حکومت کا ایک سال مکمل ، قرضوں کا نیا ریکارڈ قائم ، رقم آپ نے اندازوں سے کہیں ...
حکومت کا ایک سال مکمل ، قرضوں کا نیا ریکارڈ قائم ، رقم آپ نے اندازوں سے کہیں زیادہ

  


اسلام آباد(ویب ڈیسک)حکومت کے پہلے سال میں قرضے 75کھرب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ وزیر مملکت برائے اقتصادی امور حماد اظہرکا کہنا تھا کہ نان ٹیکس ریونیو میں کمی کا سامنا ہے اور قرضوں میں اضافےکی وجہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی ہے۔روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق،امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گرتی ہوئی قیمت اور بڑھتے ہوئے بجٹ خسارے کے باعث وفاقی حکومت کا قرضہ حکومت کے پہلے سال میں 75کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔اس کی بہت سے وجوہات ہیں تاہم اہم وجوہات میں شرح مبادلہ میں کمی کے ساتھ ٹیکس اور نان ٹیکس ریونیو میں بڑی کمی ہے۔لیکن وزیر مملکت برائے اقتصادی امور حماد اظہر اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ اقتصادی بدحالی کی ذمہ دار پی ٹی آئی حکومت ہے۔اسٹیٹ بینک کے سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے پہلے سال کے دوران مرکزی حکومت کے قرضوں میں 75کھرب روپے اضافہ ہوچکا ہے کیوں کہ جون 2018میں حکومتی قرضہ 24,212,000,000,000روپے تھا جو کہ جون 2019کے اختتام تک 31,784,000,000,000روپے تک پہنچ چکا تھا۔ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا تھا کہ جمع کیا گیا نان ٹیکس ریونیو 600ارب روپے سے کم رہا ہے جو کہ ن لیگ کے دور حکومت میں 2016-17کے دوران 1ہزار ارب روپے تھا۔اخباری ذرائع کے مطابق قرضوں میں اضافے کی بنیادی وجہ بدانتظامی ہے کیوں کہ فنانس منیجر جون 2019میں مطلوبہ نان ٹیکس ریونیو جمع کرنے میں ناکام رہے۔یہ بدانتظامی اقتصادی محاذ پرحکومت کے پہلے سال میں نئی بلندیوں پر پہنچ چکی ہے کیوں کہ ٹیکس اور نان ٹیکس ریونیو میں بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔اس ضمن میں جب وزیر مملکت برائے اقتصادی امور حماد اظہر سے ہفتے کے روز رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ قرضوں میں آدھے سے زیادہ اضافہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کے باعث ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب اقتدار سنبھالا تھا تو اس وقت کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 19ارب ڈالرز تھا لہٰذا طلب کی کمی پوری کرنے کے لیے شرح مبادلہ میں کمی اور شرح سود میں اضافے کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں تھا۔حماد اظہر کا کہنا تھا کہ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پی ٹی آئی دور حکومت کے پہلے سال کے دوران اسی سطح پر برقرار رکھے گئے۔انہوں نے یاددہانی کرائی کہ ن لیگ کے دور حکومت میں اس میں تیزی سے کمی واقع ہوئی تھی ، جب کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ ماہانہ 2ارب ڈالرز ہوگئے تھے۔انہوںنے اس بات کا اقرار کیا کہ نان ٹیکس ریونیو میں کمی کا سامنا ہے ، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کے دوران یہ ریونیو قومی خزانے میں آیا۔ان کا مزید کنا تھا کہ اب کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں کمی واقع ہونا شروع ہوگئی ہے اور پالیسی شرح میں بھی کمی کا رجحان ہے ، جس کے بعد مالی خسارہ بھی کم ہوگا۔حماد اظہر کا کہنا تھا کہ مالی خسارے میں اضافے کی وجہ ن لیگ کے دور حکومت میں لیے گئے بڑے قرضے تھے جن کے سود کی ادائیگی کی وجہ سے مالی خسارے میں اضافہ ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس دو ہی راستے تھے یا تو ہم دیوالیہ ہوجاتے یا پھر سخت اقدامات کرتے جیسا کہ شرح مبادلہ ، زری پالیسی اور دیگر اقدامات کے ذریعے کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں کمی لائی جائے۔حماد اظہر کا کہنا تھا کہ جو لوگ قرضوں میں اضافے پر تنقید کررہے ہیں وہ معیشت کے دیگر اصولوں کو نظر انداز کررہے ہیں ، جہاں بیرونی محاذ پر سخت عدم توازن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اسٹیٹ بینک سے قرض لینا ترک کردیا ہے تاکہ قرض کی بڑھتی ہوئی رقم کو بچایا جاسکے۔فی الحال حکومت کے پاس نقد ی کی صورت میں 1257ارب روپے موجود ہیں۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد