بڑے عرب ملک میں ملازمت نہ ملنے پر پی ایچ ڈی اسکالرنے چوریاں شروع کردیں

بڑے عرب ملک میں ملازمت نہ ملنے پر پی ایچ ڈی اسکالرنے چوریاں شروع کردیں
بڑے عرب ملک میں ملازمت نہ ملنے پر پی ایچ ڈی اسکالرنے چوریاں شروع کردیں

  


ابو ظہبی(ویب ڈیسک) پی ایچ ڈی اسکالر نے عدالت میں بیان دیا کہ خراب مالی حالات اور ملازمت نہ ملنے کے باعث چوری کرنے پر مجبور ہوا۔اے آر وائی نیوز کے مطابق سیاحتی ویزہ پر متحدہ عرب امارت کا دورہ کرنے والے پی ایچ ڈی اسکالر کو اماراتی کورٹ نے چوری، تشدد اور خود کو پولیس والا ظاہر کرنے کے الزام میں ٹرائل پر بھیج دیا، ملزم نے موبائل فونز چوری کرنے کےلیے لوگوں کے ہجوم پر اعصابی گیس کا بھی استعمال کیا تھا۔عدالتی دستاویزات کے مطابق شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ عرب شخص نے ہمارے پاس آکرراس الخیمہ کے پولیس افسر ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے شناختی کارڈ دکھانے کا مطالبہ کیا اور جب لوگوں نے عربی سے پولیس آئی ڈی کارڈ دکھانے کاسوال کیا تو مذکورہ شخص نے ہم پر حملہ کردیا۔متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ ملزم نے ہم پر اعصابی گیس کا اسپرے کیا اور تین موبائل فون لےکر فرار ہوگیا۔اماراتی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ راس الخیمہ پولیس نے واقعے کے خلاف تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا بعد از گرفتاری ملزم نے اعتراف جرم کیا۔زیر حراست ملزم نے دعویٰ کیا کہ وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہے اور اس کے پاس سوائے چوری کے کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔مقامی میڈیا کا کہنا تھا پی ایچ ڈی اسکالر نے عدالت میں اپنے اوپر بنائے گئے چوری، جعلی پولیس افسر بننے اور اعصابی گیس کا حملہ کرنے کے الزامات کو درست قرار دیا۔مدعی نے شکایت کنندہ سے معافی مانگتے ہوئے کیس واپس لینے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اپنے اہلخانہ کا واحد کفیل ہوں اور گھر میں ہنگامی صورتحال کےباعث واپس جانے کیلئے پیسوں کی ضرورت تھی‘۔ملزم نے بتایا کہ وہ پہلی مرتبہ ایسے جرم کا مرتکب ہوا ہے اور دعویٰ کیا کہ’ وہ ایک عزت دار شخص ہے جس نے پی ایچ ڈی بھی کررکھی ہے‘۔ملزم نے عدالت کو بتایا کہ وہ وزٹ ویزے پر امارات آیا تھا اور ریاست راس الخیمہ مقیم اپنے کچھ دوستوں کے پاس رک گیا تاکہ کوئی مناسب سی ملازمت تلاش کرسکے۔اماراتی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ عدالت نے ملزم کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد کیس کی سماعت آئندہ ماہ تک ملتوی کردی۔

مزید : عرب دنیا