انٹرا افغان ڈائیلاگ کی راہ ہموار

انٹرا افغان ڈائیلاگ کی راہ ہموار

  

افغان صدر اشرف غنی نے لویہ جرگہ کی سفارش پر باقی رہ جانے والے آخری 400طالبان قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا ہے جس سے بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ صدر اشرف غنی نے طالبان قیدیوں کی رہائی کا اعلان کابل میں تین روزہ لویہ جرگہ کے اختتامی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا ان کا کہنا تھا کہ ان قیدیوں کی رہائی صدر کے اختیار میں نہیں تھی لیکن اب وہ لویہ جرگہ کی سفارش پر ایسا کر سکتے ہیں اور جلد رہائی کا حکم جاری کر دیں گے، طالبان کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی رہائی کے دس دن کے اندر مذاکرات کا انعقاد ممکن ہے۔ پاکستان نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ کے مطابق پاکستان اس بات پ زور دیتا آ رہا ہے کہ افغان قیادت اس تاریخی موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جامع اور وسیع بنیاد سیاسی تصفیے کے حصول کے لئے بین الافغان مذاکرات کا آغاز کرے، صدر اشرف غنی نے طالبان سے کہا کہ وہ بھی جنگ بندی کریں، قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کی وجہ سے اب تک بین الافغان مذاکرات شروع نہیں ہو سکے۔

دوحہ معاہدے میں امریکی اور افغان طالبان کے نمائندوں کے درمیان طے ہوا تھا کہ ایک ہفتے میں تمام طالبان قیدی رہا کر دیئے جائیں گے لیکن ابھی یہ معاہدہ منظر عام پر آیا ہی تھا کہ افغان صدر نے اعلان کر دیا کہ تمام طالبان قیدیوں کو بیک وقت رہا نہیں کیا جا سکتا، ان میں سے بعض سنگین جرائم میں ملوث ہیں اس لئے رہائیاں ”کیس ٹو کیس“ بنیاد پر ہوں گی۔ معاہدے کی اس تاویل پر طالبان نے بھی یہ سخت موقف اپنایا کہ جب تک ان کا آخری قیدی رہا نہیں ہوتا، انٹرا افغان ڈائیلاگ شروع نہیں ہو سکیں گے یوں ایک اچھا معاہدہ الجھاؤ کا شکار نظر آیا۔ حکومت اور طالبان اپنے اپنے موقف پر ڈٹ گئے، پھر آہستہ آہستہ قیدیوں کی مرحلہ وار رہائیاں شروع ہو گئیں۔ افغان حکومت کا موقف بھی وقتا فوقتاً بدلتا رہا، اب آخری چار سو قیدیوں کی رہائی کے لئے صدر اشرف غنی نے لویہ جرگے کا راستہ اختیار کیا اور بالآخر یہ اعلان کر دیا کہ وہ جلد ہی ان قیدیوں کو بھی رہا کر دیں گے اب اگر اچانک کوئی ڈرامائی صورتِ حال نمودار نہ ہوئی تو قیدیوں کی رہائی کے بعد افغان ڈائیلاگ کے آغاز میں بظاہر کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہ گئی۔

دوحہ میں افغان طالبان اور امریکہ کے مذاکرات بھی کوئی آسان کام نہیں تھا طویل عرصے تک یہ سلسلہ جاری رہا، درمیان درمیان میں مذاکرات تعطل کا شکار ہو کر دوبارہ شروع ہوتے رہے۔ بالآخر طویل اور صبر آزما مراحل کے بعد جب دوحہ معاہدہ ہو گیا تو اسی وقت یہ خدشہ سامنے آ گیا تھا کہ جو قوتیں افغانستان میں امن نہیں چاہتیں اور کسی نہ کسی انداز کی خونریزی جاری رہنے کی خواہش مند بھی ہیں وہ کوشش کریں گی کہ معاہدے پر عمل درآمد میں تاخیر ہوتی رہے کیونکہ ان قوتوں کو بخوبی اندازہ تھا کہ جو طالبان مذاکرات کار دوحہ معاہدے پر رضا مند ہوئے تھے اگر اس پر سو فیصد عملدرآمد یقینی نہ بنایا گیا تو وہ بھی پیچھے ہٹ جائیں گے چنانچہ دیکھا یہی گیا کہ کسی نہ کسی وجہ سے طالبان قیدیوں کی رہائی میں تاخیر ہوتی رہی اور نتیجے کے طور پر افغان ڈائیلاگ بھی آگے نہ بڑھ سکے، اب قیدیوں کی رہائی ممکن ہو گئی ہے تو ضروری ہے کہ کسی تاخیر کے بغیر یہ مذاکرات شروع کر دیئے جائیں اور مذاکرات کے تمام فریق کوشش کریں کہ جلد کسی نتیجے پر پہنچ سکیں کیونکہ جتنا زیادہ وقت گزرتا رہے گا امن کی حقیقی منزل بھی اتنی ہی دور ہوتی جائے گی۔ افغانستان سے امریکی افواج تو پروگرام کے مطابق نکل رہی ہیں اور نومبر میں صدارتی انتخاب سے پہلے یہ افواج سیکیورٹی کی ذمہ داریاں افغان فوج کو سونپ کر رخصت ہو جائیں گی۔ اس خلا کو پر کرنا ضروری ہے اور اگر نتیجہ خیز انٹرا افغان ڈائیلاگ کے بعد دوسرے مراحل بھی خوش اسلوبی سے طے ہو جائیں تو افغان امن کا خواب حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے مذاکرات کی میز جب سجتی ہے تو شریک قوتوں کو اپنے موقف میں لچک بھی پیدا کرنی پڑتی ہے، اگرچہ ہر فریق اپنے اہداف پر نظر رکھتا ہے لیکن ایسے مواقع بھی آتے ہیں جب موقف میں نرمی پیدا نہ کی جائے تو مذاکرات کی گاڑی آگے نہیں بڑھتی تاہم اگر سارے فریق مفاہمت کے راستے پر چلیں تو رکاوٹیں بھی دور ہو سکتی ہیں اور آگے بھی بڑھا جا سکتا ہے۔ مفاہمت کے جذبے کے ساتھ شریک مذاکرات ہوا جائے تو کامیابیاں بھی ہوتی ہیں۔

امریکہ کو افغانستان میں طالبان کی حقیقت تسلیم کرنے میں کئی برس لگ گئے جب صدر بش نے افغانستان پر تابڑ توڑ حملے شروع کئے اور اس وقت کی طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد اپنی من پسند حکومت کابل کے تخت پر بٹھا دی تو انہوں نے اعلان کیا تھا کہ چوہے بلوں میں گھس رہے ہیں، امریکی صدر کے اس اعلان میں جو رجائیت پسندی جھلکتی تھی وہ جلدی کافور ہو گئی اور ”چوہوں“  نے ”بلوں“ کے نکل کر اپنی موجودگی کا ثبوت دینا شروع کیا تو صدر بش اور جرنیلوں کو اندازہ ہو گیا کہ آنے والے دن آسان نہیں ہیں بیس سال میں تین صدروں کو افغان جنگ لڑنا پڑی تب جا کر امریکی قیادت کو سمجھ آئی کہ کوہساروں کو فضائی بمباری کر کے ریزہ ریزہ تو کیا جا سکتا ہے لیکن میدان جنگ میں قدم رکھنے والے تلخ زمینی حقائق سے آنکھیں نہیں چرا سکتے تین ہزار سے زائد امریکی فوجیوں کی موت اور کھربوں ڈالر جنگ کی بھٹی میں جھونکنے کے بعد امریکہ کو ادراک ہوا کہ جنگ کا خاتمہ ہتھیاروں سے نہیں، مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر ہی ہوگا۔ اس حقیقت کو پہلے تسلیم کر لیا جاتا تو معاہدہ پہلے بھی ممکن تھا۔ پاکستان اس بات پر زور دے رہا تھا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں اس کے لئے گفت و شنید ہی کرنا پڑے گی امریکی قیادت اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر بٹھانا آسان کام نہ تھا، پاکستان نے افغان امن کی خاطر طالبان کو اس پر رضا مند کیا لیکن مذاکرات میں اونچ نیچ آتی رہی اعصاب کا امتحان ہوتا رہا، پیادے اور مہرے ادھر سے اُدھر ہوتے رہے تب کہیں جا کر دوحہ معاہدہ وجود میں آیا معاہدہ ہوتے ہی امن دشمن قوتیں بروئے کار آ گئیں اور انہوں نے انٹرا افغان ڈائیلاگ کے راستے میں کانٹے بونا شروع کر دیئے یہ ضروری ہے کہ افغان حکومت اور طالبان یہ کانٹے چن کر راستہ صاف کریں اور اپنے ملک کے امن کی خاطر آگے بڑھیں اگر کانٹے وقت پر ہاتھوں سے نہ اٹھائے جائیں تو پھر انہیں پلکوں سے چننا پڑتا ہے۔ اس لئے افغانستان کے تمام سٹیک ہولڈروں کو یہ تاریخی موقع ضائع نہیں کرنا چاہئے اور آگے بڑھ کر امن کا راستہ ہموا ر کرنا چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -