موجودہ حکومت کے دعوے اور نوجوانوں کی حالت زار

موجودہ حکومت کے دعوے اور نوجوانوں کی حالت زار
موجودہ حکومت کے دعوے اور نوجوانوں کی حالت زار

  

پاکستان کے نوجوانو! کیا آپ جانتے ہیں کہ ماضی قریب اور پچھلے43 برس سے آپ کے ساتھ کیا کھیل کھیلا گیا ہے؟ زیادہ تر نوجوانوں کو تو پتا بھی نہیں ہوگا،کیونکہ انہوں نے تو آنکھ ہی اس گھٹیا نظام میں کھولی ہے، جس میں نوجوانوں کی ترقی اور ان کے آگے بڑھنے کے تمام راستے بند تھے/ہیں۔ یوں تو ہمارے اوپر مسلط رہنے والے باوردی آمر اور جمہوریت کے لبادے میں سول آمر ہیں، جنہوں نے ہمارے وطن کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا ہے اور ہر شعبہ ہائے زندگی کو روبہ زوال کیا ہے، لیکن پھر بھی اس سارے کھیل کا/ خرابی کا ملبہ صرف سیاستدانوں فوجی اور سول بیوروکریسی پر نہیں ڈالا جا سکتا ہے۔ کیونکہ اس کھیل میں آپ کے اپنے بڑے بھی کھلاڑی یا کم از کم فیلڈر رہے ہیں۔ کوئی ایسا گاوئں نہیں ہے، جس میں دو، چار پینچ کھڑپینچ نہ ہوں، جن کی قیمت صرف یہ ہوتی ہے کہ ان کا اپنے گاؤں یا گاؤں کے کچھ گھروں پر رعب و دبدبا رہے۔ پہلے پہل جب دیہات میں زمینداری کا کام زیادہ ہوتا تھا اور یہ زمینداری روایتی انداز یعنی بیلوں کی جوڑی کے ساتھ ہوتی تھی تب یہ پینچ کھڑپینچ گاؤں کے لوگوں سے اپنی زمینداری کا کام مفت میں یا ایک وقت کی روٹی پر لے لیتے تھے۔ اور جو کہنا نہ مانے اس پر نظر رکھتے تھے اور موقع ملتے ہی اس کو کہیں پھنسا لیتے۔ پھر زمانہ کچھ بدلا اور انہی پینچوں کھڑپینچوں یا ان کی اولادوں نے عام لوگوں کو محکمہ مال کی توسط سے زمینوں میں ہیر پھیر کروا کر تھانے کچہری کی سیاست اور گلیوں نالیوں کے نام پر تعمیر و ترقی کی سیاست کے جھانسے میں لے لیا جو ہنوز جاری ہے۔ 

یہ جو ہر گاؤں میں چند پینچ معتبری کی چادر کے اندر لپیٹے ہوئے بدمعاش ہیں۔ یہ اپنے آقاؤں کے ڈیرے پر دم ہلاتے۔۔۔۔یا ان کے بنیروں پر بیٹھے وہ کوے ہیں جو ایک ٹکڑے کی امید پر بیٹھے رہتے ہیں۔ اور واپس اپنے گاؤں میں پہنچ کر لمبی لمبی چھوڑتے ہیں کہ آج وزیر صاحب یا ہمارے لیڈر نے یہ کہا ہے۔ وہ کہا ہے۔ فلاں گلی کی تعمیر ہو جائے گی، فلاں کو نلکا مل جائے گا، فلاں کی بطور چپڑاسی بہت جلد تقرری ہوگی اور فلاں کا تبادلہ ہو جائے گا۔ یہ لمبی لمبی چھوڑ کر سادہ لوح لوگوں پر اپنا رعب جماتے ہیں۔ اور رات سونے سے پہلے اپنے اگلے منصوبوں کا سوچتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ہوشیار بھی ہیں جو ٹھیکوں اور شاملات زمینوں پر قبضہ کر کے زیادہ فائدے بھی اٹھا لیتے ہیں، لیکن زیادہ تر اپنے آقاوں کے ڈیروں پر چائے کے ساتھ بسکٹ پر ہی اکتفا کر لیتے ہیں۔ یا پھر ان کے ساتھ چند تصویریں بنوا کر لوگوں کو دکھاتے پھرتے ہیں 

اور اب صورتحال یہ پیدا ہو چکی ہے کہ پورا پورا ضلع چند خاندانوں کا غلام ہے۔ کوئی ریاستی ادارہ ایسا نہیں بچا جس میں کوئی کام جائز طریقے سے ہوتا ہو، عدالتوں کے اندر انصاف ملنا تو دور کی بات لوگوں کو مزید ذلیل و خوار کر دیا جاتا ہے۔ لوگ تھانے جانے سے گھبراتے ہیں۔ کسی بھی ادارے سے بغیر حکومتی نمائندے کی غلامی کے ایک دھیلے کا کام نہیں لیا جا سکتا، سیاسی بندوبست میں نیا خون شامل ہو سکتا ہے نہ نئی سوچ کا عمل دخل کیونکہ پچھلی کئی دہائیوں سے ہمارا بلدیاتی نظام یا تو معطل رہا ہے یا پھر ٹوٹ پھوٹ کا شکار، ہر نئی حکومت ایک نیا بلدیاتی نظام متعارف کرواتی ہے۔ مگر عملی طور پر کارکردگی صفر ہی رہتی ہے۔ جب بلدیاتی نظام کا تسلسل نہیں ہوگا، سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری طریقے سے انتخابات نہیں ہوں گے تو پھر نئی قیادت کیسے آسکتی ہے؟ ملک کے اندر آج تک درست تعلیمی پالیسی بنائی گئی ہے نہ کوئی تحقیقی کام ہوتا ہے،کسی بچے کو مفت تعلیم کی سہولت ملتی ہے نہ علاج معالجے کا کوئی بندوبست ہے۔ اپنے خرچے پر پڑھ لکھ کر نوجوان ڈگریاں لیئے  در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ اس ساری صورتحال سے چند اجارہ دار موروثی سیاسی خاندان خوب مستفید ہو رہے ہیں۔

اب آتے ہیں موجودہ سوچ کی طرف، آج کا نوجوان ابھی تک سمجھ ہی نہیں سکا کہ ہمارے ساتھ ہاتھ کیا ہو گیا ہے۔ یہ جانتا ہے کہ ہمارا مسلہ کیا ہے نہ یہ خبر کہ ہماری طاقت کیا ہے۔ ہمارے نوجوان بھی اپنے بڑوں کی راہ پر ہی چل رہے ہیں۔ اپنے مسائل کو سمجھتے ہیں نہ اپنے حقوق کی بازیابی کا ادراک رکھتے ہیں۔ اگر کوئی نوجوان آواز اٹھاتا بھی ہے تو یہ روایتی سیاستدان اس کو چھوٹی موٹی سرکاری نوکری دے کر خاموش کر دیتے ہیں۔ نوجوانو ں کی سوچ کو بھی تنگ اور محدود کر دیا گیا ہے۔ نوجوانو ں کے بیچ کھلا مکالمہ نہ ہونے اور تعلیمی نصاب کنٹرولڈ ہونے کی وجہ سے ہمارے نوجوان مذہبی تنگ نظری اور سیاسی ابتری میں مبتلا ہیں سوشل میڈیا پر نوجوانوں کی سرگرمیاں دیکھ کر ایسے لگتا ہے کہ وہ ٹرالیوں اور ٹرکوں پر لکھی تحریریں پڑھتے ہیں 

نوجوانو سنو۔۔ پوری دنیا میں سب جانتے اور مانتے ہیں کہ آج کا طالبعلم اور نوجوان قوم کا معمار ہوتا ہے اور اس نے آگے چل کر ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے۔ ان میں سے کوئی سیاستدان بنے گا تو کوئی بیوروکریٹ کی صورت میں قوم کا خادم ہوگا، کوئی استاد بن کر قوم کی تربیت کرے گا تو کوئی تحقیقی کارکردگی سے قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے گا۔ لیکن ہمارے ہاں ان نوجوانوں کو آداب غلامی سکھائے جاتے ہیں۔ جو غلامی قبول کر لے تو ٹھیک اگر کوئی باغی ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اس کو کہیں نہ کہیں مجرم بنا کر دھر لیا جاتا ہے۔ میری دھرتی کے نوجوانو سنو، اب یہ فیصلہ آپ کے ہاتھوں میں ہے کہ آپ اسی چکی میں پستے رہنا چاہتے ہو یا اپنا حق لینے کے لیے جدوجہد کرو گے۔ 

پاکستان تحریک انصاف نوجوانوں کی نمائندگی کی دعویدار ہے۔ اور موجودہ حکومت کے حامیوں کو عرف عام میں یوتھیا کہتے ہیں۔ لہذا اس حکومت سے بجا طور پر یہ امید کی جا سکتی ہے کہ یہ نوجوانوں کو ہر شعبے میں آگے لائے گی اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے انقلابی اقدامات اٹھائے گی۔ نوجوانوں کو خود بھی چاہیے کہ وہ تحقیقی شعبے کی طرف آئیں اور دنیا جو آج گلوبل گاؤں بن چکی ہے کے ساتھ سوچ سے آگے بڑھیں۔ نوجوانوں کو حقیقی جمہوریت کے لیے بھی کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ شخصیت پرستی سے آگے نکل کر کارکردگی کی بنیاد پر نئی قیادت سامنے آئے۔ 

مزید :

رائے -کالم -