پاکستان کے نئے نقشے کے سٹرٹیجک مضمرات!

پاکستان کے نئے نقشے کے سٹرٹیجک مضمرات!
پاکستان کے نئے نقشے کے سٹرٹیجک مضمرات!

  

جب سے پاکستان کا نیا نقشہ بے نقاب کیا گیا ہے(4اگست) میڈیا پر اس کی طرح طرح کی تاویلیں آنا شروع ہو گئی ہیں۔ اگرچہ انڈیا فی الحال کھل کر سامنے نہیں آ رہا لیکن اس کے حکومتی اور نجی ابلاغی اداروں کو یہ خوف لاحق ہے کہ یہ نقشہ پاکستان کو چین کے ساتھ ایسے مقامات پر ملحق کرتا ہے جو لداخ، کشمیر اور جموں میں گزشتہ پون صدی سے متنازعہ چلے آ رہے ہیں۔ اس نقشے کی اشاعت میں اگرچہ اس طرف کوئی اشارہ نہیں ملتا، لیکن انڈین دانشور یہ سوال کر رہے ہیں کہ پاکستان نے آخر یکایک بیٹھے بٹھائے یہ ’حرکت‘ کیوں کی ہے؟ کیا اس ٹائمنگ کو چین کے اس بیان سے جوڑا جائے جس میں اس کی وزارتِ خارجہ نے برملا یہ اعلان کیا ہے کہ ہم انڈیا کے آئین کی دفعہ 370کی تنسیخ کو تسلیم نہیں کرتے؟

کچھ ایسا ہی اقدام انڈیا کے خلاف نیپال نے بھی اٹھایا تھا۔ نیپالی وزیراعظم مسٹر کے پی اولی (Oli) نے 21 مئی 2020ء کو انڈیا پر الزام لگایا تھا کہ وہ اس کی سرزمین پر تجاوزات تعمیر کرنے کا مرتکب ہو رہا ہے اور ایسی سڑکیں بنا رہا ہے جو نیپالی سرزمین پر ہیں۔ چنانچہ اس نے بھی ایک نیا پولیٹیکل نقشہ شائع کیا جس میں ان علاقوں کی نشاندہی کی گئی جو انڈیا نے بزور اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کی ہے۔ نیپالی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد منظور کی جس میں کہا گیا کہ کالاپانی اور دوسرے علاقوں پر انڈیا نے قبضہ کرکے 80کلومیٹر جو طویل سڑک بنائی ہے اور جو اس کی شمالی ریاست اتر کھنڈ کو تبت کے ایک سرحدی علاقے سے منسلک کرتی ہے وہ بلا جواز ہے۔1963ء میں ایوب خان کے دور میں پاکستان نے وادی ء شاکس گام کا وہ ٹکڑا چین کو دے دیا تھا جو اقصائے چین سے ملتا ہے۔ اقصائے چین اور وادی ء شاکس گام کے درمیان سیاچن گلیشیئر واقع ہے۔ جب یکم جنوری 1949ء کو کشمیر کے مسئلے پر پہلی انڈو پاک جنگ ختم ہوئی تھی تو اقوام متحدہ نے انڈین کشمیر اور پاکستانی کشمیر کے درمیان جو باؤنڈری لائن متعین کی تھی وہ اس مقام پر جا کر ختم ہو گئی تھی جہاں سے سیاچن گلیشیئر کا آغاز ہوتا ہے۔ اس وقت خیال تھا کہ سیاچن کے برف زار میں جنگ بندی کے نشانات بے معنی ہوں گے۔

یکم جنوری 1949ء کے اس معاہدے میں یہ بھی طے نہیں کیا گیا تھا کہ سیاچن گلیشیئر پر پاکستان کا حق ہے یا انڈیا کا۔ تاہم 1949ء سے لے کر 1984ء یعنی 35 برس تک سیاچن پاکستان کا حصہ سمجھا جاتا رہا اور درۂ قراقرم جو  پاک چین سرحد پر واقع ہے وہاں کی آمد و رفت کے لئے پاکستانی حکومت ہی پرمٹ جاری کرتی رہی۔ پھر انڈیا نے اچانک مئی 1984ء میں سیاچن گلیشیئر کے غالب حصے پر قبضہ کر لیا۔ تب سے لے کر آج تک انڈیا وہاں بیٹھا ہوا ہے۔ سایالا اور بیلا فونڈالا دو بلند درے آج بھی انڈیا کے قبضے میں ہیں۔ اور یہ دنیا کا بلند ترین محاذِ جنگ بھی کہلاتا ہے۔ پاکستان نے یہ علاقے واپس لینے کی کئی کوششیں کیں جن میں سے کئی کامیاب اور کئی ناکام ہو گئیں۔ اب وہاں جنگ تو بند ہے لیکن سیاچن گلیشیئر پر یہ ایک اور طرح کی دوسری ایل او سی ہے۔

میں اپنے پہلے کسی کالم میں لکھ چکا ہوں کہ انڈیا ہمارے گلگت۔ بلتستان کو بھی متنازعہ بتاتا چلا آ رہا ہے۔ اس نے آج تک جتنے نقشے ان علاقوں کے دنیا کے سامنے رکھے ہیں، ان میں GB کو ”مقبوضہ پاکستانی علاقہ“ (POK) ظاہر کیا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا گزشتہ دنوں جب دیامیر بھاشا ڈیم کا افتتاح ہوا تھا تو انڈیا نے بہت شور مچایا تھا کہ یہ ڈیم، اس علاقے میں کیوں بنایا جا رہا ہے جو متنازعہ ہے…… یہی وجہ تھی کہ چین نے ’جوابِ آں غزل‘ کے طور پر وادی ء گلوان میں ایک جھڑپ کے دوران انڈین آرمی کے 20فوجی ہلاک کر دیئے تھے اور اس علاقے پر قبضہ کر لیا تھا جس پر اس کا دعویٰ تھا۔ چین سارے لداخ اور کشمیر کو متنازعہ علاقہ گردانتا ہے۔ وہ جب بھی چاہے وادی ء گلوان سے سیدھا وادیء شاکس گام سے ہوتا ہوا قراقرم ہائی وے سے انسلاک کر سکتا ہے۔ اور یہی بات انڈیا کے لئے سوہانِ روح بنی ہوئی ہے!

انڈیا پورے کشمیر کو اپنا علاقہ سمجھتا ہے اور پاکستان کے اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتا کہ اقوامِ متحدہ کے تحت کشمیر میں رائے شماری کروائی جائے اور وہاں کے باشندے جس ملک کے ساتھ چاہیں، الحاق کر لیں۔

انڈیا کے ساتھ وسط جون میں چین کی جو جھڑپ ہوئی ہے اس کے نتیجے میں چین ان سڑکوں پر آکر بیٹھ گیا ہے جو انڈیا نے حال ہی میں تعمیر کی ہیں اور جو لیح (Leh) سے سیاچن گلیشیئر کی طرف جاتی ہیں اور جن پر مئی جون 2020ء سے پہلے فوجی ٹریفک رواں دواں رہتا تھا۔ اب انڈیا، چین سے مذاکرات کے ذریعے ان سڑکوں کی بندش کھلوانا چاہتا ہے لیکن چین کا اصرار ہے کہ یہ اس کا علاقہ ہے اس لئے وہاں سے واپس جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسرے لفظوں میں اب انڈیا کو پورا سال سیاچن گلیشیئر میں صف بند اپنے ٹروپس کو فضائی ٹریفک کے ذریعے سپورٹ کرنا پڑے گا۔ یہ آپشن اگرچہ قابلِ عمل ہے لیکن اس میں ’جان و مال‘ کا ضیاع ظاہر و باہر ہے۔

https://dailypakistan.com.pk/20-Sep-2020/1186449

پاکستان کا یہ نیا سیاسی نقشہ اس تناظر میں اس امر کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ اگر پاکستان پورے سیاچن گلیشیئر پر قبضہ کرنا چاہے تو وہ گلگت۔ بلتستان کے زمینی راستے سے وادیء شاکس گام سے ہوتا مشرقی لداخ میں ان چینی ٹروپس سے ملاپ کر سکتا ہے جو اس متنازعہ علاقوں میں صف بند ہیں۔ اگر انڈین میڈیا اس بات پر خوف زدہ ہے کہ چین کی اس علاقے میں آمد اس کی ایک سڑٹیجک چال ہے اور اگر مستقبل میں کبھی جنگ ہوئی تو انڈیا کو پاکستان اور چین کی مشترکہ فورسز کا مقابلہ کرنا پڑے گا تو اس کی پریشانی بے وجہ نہیں۔

اگر ایسا ہوا تو انڈیا کو دو محاذوں پر جنگ کا سامنا ہو گا…… ایک شمال مشرق میں سکم اور بھوٹان کا محاذ اور دوسرا شمال مغرب میں لداخ اور سیاچن کا محاذ۔

بعض مبصر یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر چین کے فوجیوں نے پاکستان سے ملاپ کرنا ہے تو ان کو لداخ کے روٹ کی ضرورت نہیں کیونکہ تبت سے سنکیانگ تک ایک کشادہ سڑک پہلے سے موجود ہے۔چین اسے استعمال کر سکتا ہے اور اسے درۂ قراقرم کی راہ سے سنکیانگ اور پاکستان سے ملاپ کرنے کی ضرورت نہیں۔

شائد اکثر قارئین نے اس چہارگانہ ملاقات کا نوٹس نہیں لیا جو چین، پاکستان، افغانستان اور نیپال کے وزرائے خارجہ کے درمیان گزشتہ ماہ ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں یہ طے کیا گیا کہ اگر ضرورت ہوئی تو نیپال کی زمینی بندش (Land Locking) کو ختم کرنے کے لئے نیپال کو پہلے سنکیانگ اور پھر پاکستان کے راستے (CPECکے ذریعے) بحیرۂ عرب تک رسائی دی جا سکتی ہے۔ یہ گویا ٹرانس ہمالیائی اقتصادی کاریڈار ہو گا جو نیپال کو تبت اور سنکیانگ کی راہ، پاکستان سے ملائے گا۔ اس ملاقات میں چین کے وزیرخارجہ وانگ ژی (Wang yi) نے نیپال اور افغانستان کو یہ نوید بھی دی کہ وہ CPEC کے ذریعے گوادر پورٹ سے استفادہ کر سکتے اور اپنی گلوبل تجارت کا ایک نیا راستہ کھول سکتے ہیں۔ افغانستان نے تو پچھلے دنوں گوادر بندرگاہ سے استفادہ بھی شروع کر دیا ہے۔ایک بڑا تجارتی شپ گوادر پورٹ پر لنگر انداز ہونے کے بعد افغان کارگو کے کنٹینروں  کو CPEC کے ایک مغربی روٹ سے چمن اور طورخم پہنچا چکا ہے۔ جو قارئین (نیٹ پر) ”دی نیویارک ٹائمز“ اور واشنگٹن پوسٹ کا مطالعہ کرتے ہیں ان کے لئے مائیکل کجل مین (Michal Kugelman)کا نام اجنبی نہیں ہوگا۔ اس کے مضامین بڑی باقاعدگی سے ان دونوں اخباروں میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔وہ واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک (ولسن سنٹر) کا ایک اہم رکن بھی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پاکستان کا یہ نیا نقشہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انی شی ایٹو (BRI) کو ایک اضافی سپورٹ اور سیاسی کور (Cover) فراہم کرتا ہے۔ یہ سپورٹ گلگت۔ بلتستان میں ان شاہراہوں کو میسر  ہو گی جو ان علاقوں میں بنائی جانے والی ہیں۔

دو ماہ قبل (جون 2020ء میں) پاکستان نے دریائے نیلم پر تین بڑے ہائیڈرو پاور منصوبوں کا ٹھیکہ چین کو دیا ہے۔ دریائے نیلم پاکستان اور انڈیا کے درمیان مغربی سرحد بناتا ہوا دریائے جہلم میں جاگرتا ہے۔

سیاچن گلیشیئر تازہ پانی کا ایک بڑا وسیلہ اور ذخیرہ ہے۔ تبت کے علاقے سے ایسے کئی دریا بھی نکلتے ہیں جو بنگلہ دیش اور انڈیا تک جاتے ہیں۔ چین ان کا پانی روک کر اتر کھنڈ اور لداخ کے علاقوں کو سیلابوں کا شکار کر سکتا اور انڈیا کی معیشت کے لئے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں چین کی طرف سے پانی کو بطور ایک ”جنگی ہتھیار“ میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ کوئی نئی بات نہیں …… 1965ء کی جنگ میں کھیم کرن محاذ پر 7ستمبر کو پاکستان نے انڈیا کے خلاف جب جوابی یلغار (Counter Offensive) لانچ کی تھی تو انڈیا کے 4ماؤنٹین ڈویژن نے امرتسر کے علاقے میں دریائے بیاس کا پانی چھوڑ کر پاکستان آرمی کا آرمر ایڈوانس روک دیا تھا۔ پاکستان نے جو جدید پیٹن ٹینک امریکہ سے حاصل کئے تھے وہ اس سیلاب میں بُری طرح پھنس گئے اور پاکستان کے آرمر کو بہت نقصان پہنچا تھا…… تاریخ جنگ اس قسم کے ”سیلابی ہتھیاروں“ کے استعمال سے بھری پڑی ہے اس لئے مزید مثالیں دینے سے گریز کرتا ہوں۔

اب اس موضوع پر آخری سوال یہ رہ جاتا ہے کہ آیا اس نئے سیاسی نقشے کو آنے والی کسی چوتھی پاک بھارت جنگ کا پیش خیمہ سمجھا جائے یا پاکستان کی طرف سے چین کے BRIکو سپورٹ کرنے کا صرف ایک اشارہ گردانا جائے۔ یہ امر تو طے ہے کہ جنگ کا آغاز جب بھی ہوا، بھارت کی طرف سے ہوگا۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ ایک تو انڈین آرمی کے مورال پر وہ داغ ہے جو 15جون کو اس کے 20فوجیوں کی ہلاکت پر اس کے دامن پر لگا۔ انڈیا اپنے اس ”زخمی مورال“ کا اندمال کرنا چاہے گا…… اور دوسری وجہ اس کی عسکری قیادت میں دور اندیشی کا فقدان ہے۔ اس کی عسکری قیادت، جنرل بپن راوت کے روپ میں 26فروری 2019ء کو بھی تھی اور آج بھی وہی قیادت ہے۔ ایل او سی کو عبور کرکے بالاکوٹ پر فضائی حملہ کرنا اس عسکری قیادت کی ایک ایسی بلنڈر تھی جو دنیا کو شائد تیسری اور آخری جنگ کی طرف لے جا سکتی تھی۔ وہ تو پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی بصیرت اور سٹرٹیجک ویژن تھا جس نے جوابی وار کرنے میں نہایت ”عظیم“ صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ جنرل بپن راوت، اجیت دوول (نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر) اور نریندر مودی کی مثلث کا کوئی ضلع اور کوئی زاویہ بھی مستقیم نہیں …… اس بار تو چین نے صرف 20انڈین مارے اور ”بس“ کر دی، اگلی دفعہ وہ شائد ایسا نہ کرے…… وجہ یہ ہے کہ اس نئے پاکستانی پولیٹیکل میپ کے سٹرٹیجک مضمرات کا معمار اکیلا پاکستان نہیں، چین بھی ہے!

مزید :

رائے -کالم -