بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی میں فاٹا کی نشستیں کم کرنا ناانصافی ہے 

بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی میں فاٹا کی نشستیں کم کرنا ناانصافی ہے 

  

ٹانک(نمائندہ خصوصی)جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے طلباء کا مقامی پریس کلب میں وی سی منصور اکبر کنڈی کے خلاف پریس کانفرنس،ایکس فاٹا کے طلباء کایونیورسٹی میں بی ایس اور ماسٹر کے چار چار سیٹوں کو کم کرکے دو دو کردئیے،جو سرارسر نا انصافی اور ظلم پر مبنی بات ہے وی سی کے اس فیصلے کو ہم مسترد کرتے ہیں کسی صورت یہ فیصلہ قابل قبول نہیں۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پشتون سٹوڈنٹس کونسل کے سابقہ صدر فرما ن اللہ وزیر، نصیب وزیر، معراج خالد وزیر اور نسیم وزیر و دیگرنے کہا کہ ایکس فاٹا پچھلے بیس سالوں سے حالت جنگ میں ہے تعلیم کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال ہزاروں قابل وذہین طلباء وطالبات ضائع ہورہے ہیں مذکورہ یونیورسٹی میں سیٹیں ملنے سے سابقہ فاٹا کے سینکڑوں سٹوڈنٹس زیور تعلیم سے آراستہ ہورہے تھے لیکن بدقسمتی سے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے فیصلے سے خدشہ ہے کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں طلباء کے مستقبل داؤ پر لگ جائیگی۔طلباء کا مزید کہناتھا کہ کہ جب تک وائس چانسلر فیصلہ واپس نہیں لیتے تب تک ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے اور ہرفورم پر آواز اٹھاتے رہینگے۔ دوسری جانب طلباء نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کی دور حکومت میں فاٹا انضمام کے بعد فیصلہ کیا تھا کہ فاٹا کے طلباء کو ملک کے تمام یونیورسٹیوں میں 10سالوں تک  سیٹیں مختص کی جائیگی جس سے آنے والے دس سالوں تک قبائلی طلباء مستفید ہوتے رہینگے اور ساتھ یہ کہ ملک کے مختلف شعبوں میں اپنی خدمات سر انجام دے سکے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -