آئینی حقوق کے حصول کیلئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں،سکندرحیات شیر پاؤ

 آئینی حقوق کے حصول کیلئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں،سکندرحیات شیر پاؤ

  

پشاور(سٹی رپورٹر)قومی وطن پارٹی کے صوبائی چیئرمین سکندر حیات خان شیرپاؤ نے کہا کہ ان کی جماعت خیبر پختون خوا کے آئینی حقوق کے حصول کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے اور اس ضمن میں عدالت کادروازہ کھٹکھٹانے یا احتجاجی تحریک چلانے سے بھی دریغ نہیں کرے گی۔ پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کومستعفی ہونا چاہیے کیونکہ وہ صوبے کے مفادات کا تحفظ کرنے میں مسلسل ناکام رہی ہے۔انہوں نے دھمکی دی کہ ان کی جماعت صوبے کے حقوق کے حصول کے لئے احتجاجی تحریک چلائے گی۔صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے سکندر شیرپاؤ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے خیبر پختونخوا کے حقوق پر سمجھوتہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ وفاقی حکومت کی طرف سے یہ سراسر ناانصافی ہے کہ بجلی خالص منافع کی مدصوبہ کو بقایاجات کی ادائیگی کیلئے  لئے گئے قرضے پر سود صوبے کو ادا کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ایکسائز کی مد وفاقی حکومت کی طرف سے 500 ملین روپے کی کٹوتی کا اقدام سراسر غیر آئینی ہے کیونکہ اس فنڈ کے استعمال اور خرچ کا اختیار صرف اور صرف صوبائی اسمبلی کے پاس ہے۔سکندر شیر پاؤ نے کہا کہ حکومت نے چشمہ لفٹ بینک کینال منصوبے کو پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) سے خارج کردیا ہے۔ مرکز اور صوبہ نے مشترکہ طور پر اس کی تعمیر کا فیصلہ کیا تھا لیکن صوبائی حکومت کی غیر سنجیدگی اور نااہلی کی بدولت اس کو بھی PSDPسے ڈراپ کیا گیا۔چشمہ CRBCلفٹ کینال کا منصوبہ جنوبی اضلاع کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے اور اس سے ایک اندازے کے مطابق 328ملین روپے سالانہ صوبائی حکومت کو ملنے کی توقع تھی اس کے ساتھ ساتھ منصوبہ میں 286000ایکڑ بارانی زمینیں سیراب کرنے کی صلاحیت موجود ہے مگر وفاقی حکومت کی امتیازی پالیسیوں کی بدولت جنوبی اضلاع کے عوام اس کے فوائد سے محروم ہو گئے۔کیو ڈبلیو پی رہنما نے مزید کہا کہ تبدیلی کا نعرہ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنا ایک چال تھا، کیونکہ پی ٹی آئی حکمرانوں نے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کچھ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ چترال موٹروے منصوبے کو، جو چین پاکستان اقتصادی راہداری کا حصہ تھا، کوبھی GCC میٹنگ سے نکالا گیاجس پر بھی صوبائی حکومت خاموش رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ضم شدہ اضلاع کے رہائشیوں کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو ایفا نہیں کیا۔سکندر شیر پاؤ نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبے کو تیل اور گیس کی رائلٹی کی ادائیگی پر بھی پر پس و پیش سے کام کے رہی ہے جبکہ صوبہ اپنی ضرورت سے کئی گنا زیادہ بجلی،تیل اور گیس پیدا کررہا ہے لیکن اس کے باوجود یہاں کے عوام نہ صرف ان سہولتوں سے محروم ہیں بلکہ بجلی کی طویل ترین لوڈ شیڈنگ کے ذریعے ان کا جینا حرام کردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ جاری تناظر اور خیبر پختونخوا کے ساتھ جاری ناانصافیوں اور مرکزی حکومت کی امتیازی رویے کی بھرپور مزمت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ آئین پاکستان کی روح کی خلاف ورزی ہے اور اس سے صوبے میں پائی جانے والی احساس محرومی میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس حوالے سے صوبائی حکومت سست روی،غیر سنجیدگی اور صوبائی حقوق کیلئے کردار ادا نہیں کر رہی ہے جس کی بھی پرزور مزمت کرتے ہیں اور ان سے پوچھنا چاہیں گے کہ وہ اس ضمن میں اپنی پوزیشن واضح کرے اور بتایا جائے کہ وہ صوبائی حقوق کیلئے کھڑے ہوں گے یا نہیں،ابھی تک تو صوبائی حکومت مرکز کے سامنے بے بس نظر آرہی ہے اور وہ مرکز کی ڈکٹیشن پر عمل پیرا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے مسائل میں اضافہ اور صوبے کے وسائل ضائع ہورہے ہیں جسے مزید برداشت نہیں کرسکتے اور ہمارے پاس صوبہ کے حقوق کے حصول اور تحفظ کیلئے  عدالت جانے اور احتجاج کا راستہ اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہے گا،انھوں نے مرکزی حکومت کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی قبلہ درست کر لے کیونکہ صوبہ ماضی میں تلخ تجربات سے گزر چکا ہے اور اگر وفاق کا یہی رویہ جاری رہا تو یہ فیڈریشن کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -