سانحہ بیروت، لبنان میں سیاسی بحران نے سر اٹھا لیا، حکومت مستعفی، فرانسینی ماہرین کی 21رکنی ٹیم تحقیقات کیلئے پہنچ گئی 

سانحہ بیروت، لبنان میں سیاسی بحران نے سر اٹھا لیا، حکومت مستعفی، فرانسینی ...

  

بیروت (مانیٹرنگ ڈیسک) بیروت دھماکے کے بعد لبنان میں سیاسی بحران نے سر اٹھا لیا،وزیر اعظم حسان دیاب نے صدر میشال عون کو اپنی پوری کا بینہ کے ارکان سمیت اپنا استعفیٰ  پیش کردیا، جبکہ ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ایک روز قبل وزیر اعظم حسن دیاب نے کابینہ کا اجلاس طلب کیا تو اجلاس سے پہلے ہی وزیر انصاف اور بعد ازاں وزیر خزانہ نے استعفیٰ دیدیاتھا، جبکہ پیر کے روز وزیر اطلاعات اور ماحولیات کے وزیر مستعفی ہوگئے،جس پر وزیراعظم نے صدر کو مطلع کر دیا کہ وہ کابینہ سمیت جلد مستعفی ہو جائیں گے،پھر چند ہی گھنٹوں بعد احسان دیاب نے اپنا اور کابینہ ارکان کا اجتماعی استعفا صدر میشال عون کو پیش کردیا۔دوسری طرف لبنان میں عوام میں دھماکوں کے بعد حکومت کیخلاف سخت غم و غصہ پایا جارہا ہے اور حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ چار اگست کو ہونیوالے سانحہ کے دو روز بعد مظاہرین اور وزیر انصاف میری کلوڈ نجم کے درمیا ن تلخ کلامی بھی ہوئی تھی، جس کے بعد میری کلوڈ نجم عہدے سے مستعفی ہو گئیں تھیں، چار اگست کو بیروت کی بندرگاہ پر تباہ کن دھماکوں سے دارالحکومت کا بیشتر حصہ تباہ ہو گیا ہے، د ھما کوں کے نتیجے میں 220 سے زائد افراد ہلاک جبکہ چھ ہزار کے قریب زخمی ہیں۔ ملک کو پندرہ ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان اور لاکھوں افراد بے گھر بھی ہو چکے ہیں۔دوسری جانب لبنان کی امداد کیلئے فرانس کی بلائی گئی ڈونرز کانفرنس میں امریکی صدر ٹرمپ نے بھی شرکت کی،اس موقع پر امریکی صدر نے کہا لبنان دھماکوں کی شفاف اور آزادانہ انکوائری کر ے۔قطر، فر ا نس، جر منی، کو یت،یورپی یونین،قبرص،امریکہ نے امداد کے وعدے کئے۔ دریں اثنابیروت دھماکوں کی تحقیقات کے حوالے سے 21فرانسیسی ماہرین بیروت پہنچ گئے ہیں،ریسکیو حکام کے مطابق دھماکے کی جگہ پر 43میٹر گہرا گڑھا پڑ گیا۔لبنانی صدرمیشال عون نے کہاہے کہ دھماکوں کی عالمی تحقیقات کا مطالبہ صرف وقت کا ضیاع ہے، ایسا مطالبہ کرنیوالوں کی مذمت کرتے ہیں۔

لبنان بحران 

مزید :

صفحہ اول -