کورونا سے نمٹنے کیلئے دنیا پاکستان سے سیکھے، مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کیلئے اپنا کردار ادا کر وں گا، صدر جنر ل اسمبلی، اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں سنگین صورتحال کے تدراک کیلئے کردار اد ا کرے: عمران خان 

      کورونا سے نمٹنے کیلئے دنیا پاکستان سے سیکھے، مسئلہ کشمیر کے پر امن حل ...

  

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکن بوزکر نے کہا ہے کہ دنیا کو کورونا سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی کوششوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔  پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب  کرتے ہوئے وولکن بوزکر   نے کہا کہ کورونا وائرس سے نمٹنا دنیا بھر کے ممالک کے لیے چیلنج ہے، پاکستان اس عالمی وبا سے بہترین انداز سے نبرد آزما ہوا، دنیا کو کورونا سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی کوششوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں موجود ہیں، جموں و کشمیر کے مسئلے کا  پرامن حل خطے کے امن کیلئے اہم ہے، بطور صدر جنرل اسمبلی معاملہ کے حوالے  کیلئے اپنا کردار ادا کروں گا،خطے میں قیام امن کے لیے پاکستان کا کردار قابل تعریف ہے جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جنرل اسمبلی میں جموں و کشمیر پر بحث کروانے کی درخواست کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کا سیاسی نقشہ کے اجراء سے پاکستانی عوام کے جذبات کی عکاسی ہے،نقشہ نے سرکریک، سیاچن، جوناگڑھ، کشمیر اور دیگر امور کو تقسیم برصغیر کے تحت واضح کیا،جنرل اسمبلی کا اجلاس ورچوئل نہیں فزیکل ہونا چاہئے، ترقی پزیرممالک کے قرضوں میں ریلیف ایک اہم چیلنج ہے، عالمی کساد بازاری سے ترقی پزیر ممالک بری طرح سے متاثر ہوئے ہیں، کرپشن کے ذریعہ جس طرح سے رقوم ترقی پزیر ممالک سے منتقل کی گئیں، ان ایشوز کو دیکھنا ہوگا،و آئی سی ممالک کو مل کر اسلاموفوبیا کے خلاف آواز بلند کرنا ہوگی، انتہاء پسندوں سے نمٹنا ہوگا، ہم یہ ایشوز یو این جی اے میں اٹھائیں گے۔ پیر کو وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں اجلاس کے منتخب صدر کی آمد کے موقع پر مشترکہ پریس کانفرنس سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں سیشن کے منتخب صدر جناب وولکن بوزکر کو پاکستان آمد اور دفتر خارجہ میں خوش آمدید کہنا میرے لئے بہت بڑا اعزاز ہے۔ انہوں نے کہاکہ وولکن بوزکر پہلے ترک باشندے ہیں جنہیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کے منصب پر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ وہ ایک منجھے ہوئے سفارتکار اور وسیع تجربے کے حامل سیاستدان ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بوزکر کے ساتھ متعدد امور پر میری نہایت مفید گفتگو ہوئی ہے،میں ان میں سے چند گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان سمجھتا ہے کہ وسائل سے لیس ایک مضبوط اقوام متحدہ عالمی امن، سلامتی اور معاشی ترقی کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے نو منتخب صدر کو اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں کے لئے ہماری پختہ وابستگی کا یقین دلایا ہے اور اقوام کے درمیان دوستانہ تعلقات کے فروغ کی ہماری خواہش سے آگاہ کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ میں نے مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے اور بھارت کی طرفہ سے 5 اگست کے یکطرفہ اقدامات اور ان کی وجہ سے خطے کے امن و امان کو درپیش خطرات سے بھی نو منتخب صدر جنرل اسمبلی کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے افغانستان میں قیام امن کی کاوشوں کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔نو منتخب صدر وولکن بوزکر کے ساتھ ان نکات پر بھی گفتگو کی جو وزیر اعظم عمران خان کے دل کے قریب ہیں جن میں موسمیاتی تبدیلی، اسلاموفوبیا،غیر قانونی ترسیل زر اور کمزور معیشتوں کیلئے وزیراعظم کی قرضوں کی ادائیگی پر سہولت کی تجویز شامل ہیں،ہماری گفتگو بہت مثبت اور سود مند رہی۔ انہوں نے کہاکہ وولکن بوزکر پہلے بھی پاکستان تشریف لا چکے ہیں لیکن بطور نو منتخب صدر جنرل اسمبلی یہ ان کا پہلا دورہ ہے۔نو منتخب صدر نے کہاکہ جموں و کشمیر کے حوالے سے ترکی کا موقف بڑا واضح ہے، جموں و کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادیں موجود ہیں،شملہ معاہدہ بھی بڑا واضح ہے۔ انہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر کا پرامن حل خطے کے امن کے کئے اھم ہے، بطور صدر جنرل اسمبلی معاملہ کے حوالے سے اپنا کردار ادا کروں گا۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ ہم نے جموں و کشمیر کی گھمبیرصورتحال نومنتخب صدر جنرل اسمبلی کے سامنے رکھی ہے،وزیراعظم نے بھی جموں و کشمیر کی صورتحال بارے آگاہ کیا ہے، نومنتخب صدر جنرل اسمبلی کو پاکستان کے عوام کے جذبات سے آگاہ کیا ہے۔ وزیرخارجہ نے کہاکہ جنرل اسمبلی میں جموں و کشمیر پر بحث کروانے کے حوالے سے بھی کہا ہے، ایک سال میں سلامتی کونسل میں تین مرتبہ جموں و کشمیر پر بات ہوئی ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ نومنتخب صدر جنرل اسمبلی نے تسلیم کیا کہ تنازعہ کا حل بہت اہم ہے۔وزیر خارجہ نے کہاکہ پاکستان کا سیاسی نقشہ کے اجراء سے پاکستانی عوام کے جذبات کی عکاسی ہے،نقشہ نے سرکریک، سیاچن، جوناگڑھ، کشمیر اور دیگر امور کو تقسیم برصغیر کے تحت واضح کیا۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کو سفارش کی ہے کہ وہ خود جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوں۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ جنرل اسمبلی کا اجلاس ورچوئل نہیں فزیکل ہونا چاہئے، ترقی پزیرممالک کے قرضوں میں ریلیف ایک اھم چیلنج ہے، عالمی کساد بازاری سے ترقی پزیر ممالک بری طرح سے متاثر ہوئے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ کلائمیٹ چینج بہت اہم ایشو ہے جسے پاکستان بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے،۔ انہوں نے کہاکہ کرپشن کے ذریعہ جس طرح سے رقوم ترقی پزیر ممالک سے منتقل کی گئیں، ان ایشوز کو دیکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ او آئی سی ممالک کو مل کر اسلاموفوبیا کے خلاف آواز بلند کرنا ہوگی، انتہاء پسندوں سے نمٹنا ہوگا، ھم یہ ایشوز یو این جی اے میں اٹھائیں گے۔ وولکن بوزکر نے کہا کہ پاکستان آکر خوشی محسوس ہوئی، پاکستان نے بہترین انداز سے میزبانی کی، پاکستان اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا اہم رکن ملک ہے، خطے میں قیام امن کے لیے پاکستان کا کردار قابل تعریف ہے۔نو منتخب صدر نے کہاکہ ان کی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے اہم امور پر گفتگو ہوئی، اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات ہوئی، وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق صورتحال سے آگا ہ کیا، ملاقات میں وزیراعظم عمران خان کے خیالات سے متاثر ہوا۔اس سے قبل  وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سنگین صورتحال کے تدارک کے لئے اپنا جائز کردار ادا کرے۔انہوں نے کہا ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کشمیری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں دیے گئے حق خود ارادیت کا استعمال کر سکیں۔وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں اجلاس کے منتخب صدر وولکن بوزکر سے گفتگو کر رہے تھے جنہوں نے اسلام آباد میں ان سے ملاقات کی۔وزیراعظم نے گزشتہ سال پانچ اگست کے بعد سے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، کشمیری عوام کے انسانی حقوق کو منظم انداز میں سلب کرنے کی کارروائیوں اور مقبوضہ وادی کا آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششوں کے بارے آگاہ کیا۔اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے نومنتخب صدر وولکن بوزکر نے ملاقات کی جس میں افغان امن عمل سمیت خطے میں جاری امن کی کوششوں، بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خارجہ نے وولکن بوزکر کو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔اس سے پہلے وولکن بوزکر کی وزارت خارجہ پہنچے تو وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے استقبال کیا۔ وولکن بوزکر نے وزارت خارجہ کے لان میں بھی پودا لگایا۔

صدر جنرل اسمبلی 

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے پیر کو مالدیپ کے صدر ابراہیم محمد صالح  سے ٹیلی فونک گفتگو کی جس میں دونوں رہنماؤں نے کورونا وائرس سے درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔وزیراعظم عمران خان نے وباء کے پھیلاؤ کی روک تھام اور سیاحتی شعبے سمیت معیشت کی بحالی کیلئے مالدیپ کی کوششوں کو سراہا اورمالد یپ کے صدر کو پاکستان کی تازہ ترین صورتحال، کورونا وباء کی روک تھام کیلئے حکومتی اقدامات اقدامات سے آگاہ کیا،جس میں انسانی جانوں کاتحفظ، روز گا ر اور معیشت کی بحالی کیلئے اقدامات شامل ہیں۔وزیراعظم نے مزید کہا سمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی کامیاب رہی، معیشت کے بڑے شعبہ جات کو آہستہ آہستہ کھولا جارہا ہے۔وزیراعظم نے صدرمالدیپ کو ترقی پذیر ممالک کیلئے قرضہ ریلیف سے متعلق اپنے عالمی اقدام سے بھی آگاہ کیا تاکہ وباء کے سنگین سماجی و معاشی اثرات سے نمٹا جاسکے۔وزیراعظم نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ترقی پذیر ممالک کو صحت  و مالیاتی شعبے میں چیلنجز درپیش ہیں۔ محدود مالیاتی سپیس اور صحت کے شعبہ میں انفراسٹرکچر کی خامیوں کی وجہ سے خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کو خطرہ لاحق ہے لہٰذا اس ضمن میں خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے جنوبی ایشیاء میں امن و سلامتی کی صورتحال کے حوالے سے پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا اور کہا خطے میں امن و تعاون کی ضرورت ہے تاکہ جنوبی ایشیائی ممالک اپنی اصل معاشی صلاحیت کا احساس کرسکیں۔انہوں نے صدر ابراہیم صالح کو پاکستان کے دورے کی دعو ت دی اور کہا وہ ان کا جلد استقبال کرنے کے منتظر ہیں،بعدازاں وزیر اعظم عمران خان سے چیف آرگنائزر پی ٹی آئی سیف اللہ خان نیازی نے خصوصی ملاقات کی، وزیر صحت پنجا ب ڈاکٹر یاسمین راشد بھی انکے ہمراہ تھیں۔ ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا جبکہ شہریوں کو صحت و علاج کی دستیاب سہولیات پر بھی مفصل بات چیت ہوئی۔ صوبہ پنجاب میں صحت انصاف کارڈ کی تقسیم کے حوالے اہم امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ شہریوں کو سستے و معیاری علاج کی فراہمی کے حوالے سے صحت کارڈ کی افادیت کا بھی جائزہ لیا گیا جبکہ کارڈ سے متعلق عوامی سطح پر پائے جانیوالے تاثرات پر بھی بریفنگ دی گئی۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -