وزیراعظم کے مشیروں، معاونین کے تقرر کا طریقہ کار خدمات، اثاثوں کی تفصیل طلب

  وزیراعظم کے مشیروں، معاونین کے تقرر کا طریقہ کار خدمات، اثاثوں کی تفصیل ...

  

 لاہور(نامہ نگار)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمدقاسم خان نے وزیراعظم عمران خان کے مشیروں اورمعاونین خصوصی کی تقرریوں کے خلاف دائردرخواست سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے وفاقی حکومت سمیت دیگر مدعاعلیہان کو نوٹس جاری کردیئے ہیں،عدالت نے آئندہ تاریخ سماعت پروزیراعظم کے تمام معاونین خصوصی کی خصوصیات، تعیناتی کا طریقہ،معاونین خصوصی کی ملک کے لئے دی گئی خدمات اور ان کے اثاثوں کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں،عدالت کی جانب سے تمام مشیروں کو بھی طلبی کے نوٹس جاری کر دیئے گئے ہیں کہ وہ خود یا اپنے وکلاء کے ذریعے جواب داخل کریں،فاضل جج دوران سماعت قرار دیا کہ اس ملک کا المیہ ہے کہ شرفا بریف کیس لے کر آتے ہیں اور بریف کیس بھرکے چلے جاتے ہیں،یہاں ان کے اثاثے 25 ہزار ہیں اور بیرون ملک 25 ہزار ڈالرز ہوتے ہیں،عدالت نے وزیراعظم کے مشیر عبدالحفیظ شیخ، عبدالرزاق داؤد، امین اسلم اور ڈاکٹر عشرت حسین،ڈاکٹربابر اعوان، محمد شہزاد ارباب، مرزا شہزاد اکبر اور سید شہزاد قاسم،معید یوسف، زلفی بخاری اور ندیم بابر وغیرہ کونوٹس جاری کئے ہیں، چیف جسٹس نے درخواست گزارندیم سرور ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت شروع کی توایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض کردیا،اشتیاق اے خان نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسی نوعیت کی درخواست مسترد کی ہے، فاضل جج نے کہا کہ معاون خصوصی کیسے کابینہ کی میٹنگ میں بیٹھ سکتے ہیں؟ جس پر اشتیاق احمد خان نے کہا کہ معاون خصوصی کابینہ میں نہیں بیٹھ سکتے، خاص طور پر بلائے جاتے ہیں۔ فاضل جج نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ آپ نے وفاقی حکومت کا دفاع کرنا ہے ورنہ خود کو اس کیس سے علیحدہ کر لیں، عدالت نے مذکورہ بالااحکامات کے ساتھ کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پیشی تک ملتوی کردی۔

مزید :

صفحہ اول -