بچہ شکم مادرمیں کورونا کا شکار نہیں ہو سکتا، پیدائش کے بعد ممکن:پروفیسر ڈاکٹر ثاقب

        بچہ شکم مادرمیں کورونا کا شکار نہیں ہو سکتا، پیدائش کے بعد ...

  

 لاہور(جاوید اقبال) ملک کے معروف ہیلتھ پروفیشنل سروسز انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز سروسز ہسپتال لاہور کے شعبہ گائناکالوجی کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر ثاقب صد یق نے کہا ہے کہ حمل کے دوران ماں کے شکم(پیٹ) کے اندر کورونا وائرس بچے میں منتقل نہیں ہو سکتا،کورونا وائرس اتنی طاقت نہیں رکھتا کہ وہ ماں اور بچے کے درمیان رابطے کے  ذریعے پلسنٹا اس کو کراس کر سکے۔ بچہ جب دنیا میں آئیگا تو پھر اس کو ماں سے کورونا منتقل ہوسکتا ہے۔جو ماہرین دوران حمل بچے کے کورونا کا شکار ہونے کا نظریہ رکھتے ہیں وہ جھو ٹ بولتے ہیں۔ پروفیسر ثاقب صدیق نے کہا یہ بات تحقیق سے ثابت ہو گئی ہے کہ ایسے مریض جو کورونا کا شکار ہوکر آئی سی یو میں کئی کئی روز زیر علاج رہے جب وہ تندرست ہو کر گھروں میں آئے تو ان میں بہت ساری علامات سامنے آ رہی ہے،جن میں سانس لینے میں دشواری، تھکاوٹ اور نفسیاتی مسائل سرفہرست ہیں، وہ پاکستان فورم میں اظہار خیال کر رہے تھے۔ مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے پروفیسر ثاقب صدیق نے کہا حال ہی میں برطانیہ میں ہونیوالی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نئے کورونا وائرس کو ہسپتال میں زیرعلاج رہ کر شکست دینے والے اکثر مریضوں کو طویل المعیاد بنیادوں پر مختلف علامات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ میں کہہ سکتا ہوں کورونا کو شکست دیکر در ست ہونیوالے مریضوں میں طویل المعیاد علامات میں شدید تھکاوٹ، سانس لینے میں مشکلات، نفسیاتی مسائل بشمول توجہ مرکوز کرنے اور یادداشت متاثر ہونے اور مجموعی طور پر معیار زندگی متاثر ہونا شامل ہے۔ ابھی تک برطانوی ادارے لیڈز یونیورسٹی نے اپنی تحقیق میں میری بات پر مہر ثابت کردی ہے کہ کچھ مریضوں خصوصاً آئی سی یو میں زیرعلاج رہنے والے افراد میں ایسی علامات کو دیکھا گیا جو کسی بڑے سانحہ کے بعد طاری ہونیوالے عارضے پی ٹی ایس ڈی کے کیسز میں سامنے آتی ہیں۔مگر ایسے شواہد سامنے آرہے ہیں کہ مکمل صحتیابی کے عمل میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا تمام اقسام کے مریضوں میں سب سے عام علامت شدید تھکاوٹ تھی۔ دوسری سانس لینے میں مشکلا ت، تیسری علامت نفسیا تی مسائل پر مبنی تھیں،جیسے موت کا ڈر، علاج، درد، کمزوری، نیند کی کمی اور دیگر۔پروفیسر ثاقب صدیق کا کہنا تھا اب و ہ مستقبل قریب میں ایسے مریضوں میں کووڈ19 کے طویل المعیاد اثرات کا جائزہ لیں گے جن کو علاج کیلئے ہسپتال جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔اس کیلئے ہم اپنی مدد آپ کے تحت میڈ سٹی ہسپتال لاہور میں ایک سیل قائم کیے ہوئے ہیں جس میں کورونا سے تندرست ہونیوالے مریضوں خصوصا ایسی خواتین جو دران حمل کورونا کا شکار ہوئی اور بعد میں تندرست ہوگئی ان پر بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ کرونا کو شکست دینے کے بعد ان کے کیا حالات ہیں۔پاکستان میں بھی کورونا سے صحت یابی حاصل کرنیوالے افراد میں تھکاوٹ کی علامت عام ہے، انہیں اپنے معالج سے رابطے میں رہنا چاہیے۔

پروفیسر ڈاکٹر ثاقب

مزید :

صفحہ اول -