میڈیا کو کئی چیلنجز کا سامنا، صحافتی برادری کا اتحاد وقت کی ضرورت 

میڈیا کو کئی چیلنجز کا سامنا، صحافتی برادری کا اتحاد وقت کی ضرورت 

  

 لاہور(جنرل رپورٹر)ملک کے ممتاز اور سنیئر صحافیوں نے کہا ہے کہ میڈیا کو اسوقت مختلف چیلنجز کا سامنا ہے اور جس معاشرے میں صحافت آزاد نہیں وہاں کوئی آزادی نہیں ملتی۔اس امر کااظہار انہوں نے سوچ تنظیم کے زیر اہتمام”میڈیا کو درپیش حالات“ پر مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مقررین میں سوچ کے چیئرمین محمد مہدی،مجیب الر حمن شامی، الطا ف حسن قریشی، سہیل وڑائچ، حفیظ اللہ نیازی، سجاد میر اور رؤف طاہر شامل تھے۔ مذاکرے میں سینئر تجزیہ نگار و اینکر سہیل وڑائچ نے کہا میڈیا پر دباؤ بہت زیادہ ہے، جسکا ثبوت میر شکیل الرحمن کی گرفتاری ہے حالانکہ میڈیا عوام کا ترجمان ہے، جس معاشرہ میں میڈیا آزاد نہیں وہاں آزادی نہیں۔ یہ بہت مشکل وقت ہے، اپوزیشن میں بھی جان نہیں لیکن ہمیں حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے، یہ مشکل وقت گزر جائیگا،میڈیا سے بڑا کوئی محب وطن نہیں۔سینئر صحافی و تجزیہ نگار مجیب الرحمن  شامی نے کہا تمام صحافتی برادری کو اتحاد کی ضرورت ہے،چا ہے وہ میڈیا کے مالکان ہوں یا ورکنگ جرنلسٹ سب کو ساتھ ہونا چاہیے،ورنہ ا یک ایک کرکے ہم سب مارے جائیں گے۔میر شکیل الرحمن کی گرفتاری پر سیاسی جماعتوں کی خاموشی سے مایوسی ہوئی، سول سوسائٹی بھی اس معاملہ پر خاموش ہے، بذریعہ ویڈیو لنک مذاکرے میں شرکت کرنیوالے ڈپٹی ڈائریکٹر وڈ ولسن سنٹر واشنگٹن مائیکل گلمین کا کہنا تھا پاکستان میں گزشتہ بارہ برس سے جمہوری حکومت ہے جس دوران 18 ترمیم منظور ہوئی،تاہم یہ واضح ہورہا ہے اس سے حکومت سیاسی مفادات حا صل کرنا چاہتی ہے، تنقید کو ریاست کی مخالفت قرار دے رہی ہے۔ امریکہ نے اس پر بات کی مگر مزید بات کرنے کی ضرورت ہے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اس پر مثبت کام کر رہی ہیں۔”سوچ“ کے چیئرمین محمد مہدی نے کہا موجودہ دور اسیروں کے دور کے طور پر یاد رکھا جائیگا۔ تاریک تاریخ رقم کی جا رہی ہے جو اختلاف کریگا وہ نتائج بھگتے گا۔ تمام میڈیا کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مگر خوش آئند یہ امر ہے اسیروں کے حوصلے بلند ہیں اور صحافی برادری آزادی اظہار کے تحفظ کی غرض سے مکمل طور پر یکسو اور ہر طرح کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ سینئر صحافی الطاف حسن قریشی نے کہا ہم آئینی حق کیلئے نبرد آزما ہیں، میر شکیل الرحمن کی گرفتاری سے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ماضی میں بھی مقابلہ کیا اور اب بھی کریں گے۔ صحافیوں کی ایک مشترکہ کمیٹی بنائی جائے جو میڈیا پر جبر، میر شکیل الرحمن کی ناجائز گرفتاری اور صحا فیوں کو درپیش مسائل جیسے ویج بورڈ ایوارڈ کے معاملات کو حل کرے۔کالم نگار اور سینئر تجزیہ نگار حفیظ اللہ نیازی نے کہا ہمیں بہت برے حالا ت کا سامنا ہے،میڈیا کی آزادی کیلئے مشترکہ لائحہ عمل. بنانا چاہیے۔ سینئر صحافی سجاد میر نے کہا حالات بہت عجیب ہیں، صورتحال واضح نہیں بلکہ گومگو کا شکار ہے،کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا ہورہا ہے۔سینئر صحافی و کالم نگاررؤف طاہر نے کہا میڈیا موثر طاقت بن چلا، اس طاقت سے حکمران پریشان ہیں، میڈیا تن آور درخت اور حکمران اس کی جڑیں کاٹنا چاہتے ہیں۔

سینئر صحافی وتجزیہ کار

مزید :

صفحہ آخر -