جے یو آئی کا سپیکر کی گیلری میں بیٹھ کر انوکھا احتجا ج

جے یو آئی کا سپیکر کی گیلری میں بیٹھ کر انوکھا احتجا ج

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے سمگلنگ روکنے کے آرڈیننس اور محفوظ ٹرانزکشنز کے آرڈیننس کی منظوری دیدی، جبکہ کثرت رائے سے قومی اسمبلی کی 73ویں سالگرہ پر متفقہ قرارداد منظور کرلی، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایم ایم اے کو بات نہ کرنے دینے پر جے یو آئی (ف) کے ارکان اسمبلی انوکھا احتجا ج کرتے ہوئے سپیکر گیلری میں بیٹھ گئے،اور  قانون سازی کے طریقہ کار پر اعتراض اٹھا دیا ،اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی وقفہ سوالات نہ ہونے پر احتجاج شروع کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت شروع ہوا تو مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے سمگلنگ روک تھام کے آرڈیننس کو توسیع دینے کی تحریک پیش کردی، پی پی پی کے نوید قمر نے مخالفت کی اور کہا آرڈی یننس کو توسیع دینے کی بجائے اتفاق رائے پیدا کرکے قانون سازی کرلی جاتی تو بہتر ہوتا، کیونکہ آئین کے تحت آرڈ یننس میں توسیع صرف ایک بار ہی کی جا سکتی ہے،مشیر پارلیمانی بابر اعوان نے کہا آرڈیننس کورونا کے خاص حالات میں آیا تھا،مجبوری میں توسیع مانگ رہے ہیں قا نو ن سازی بھی جلد کریں گے،بعدازاں ایوان نے کثرت رائے سے سمگلنگ روکنے کے آرڈیننس اور محفوظ ٹرانزکشنز کے آرڈیننس کی منظوری دیدی۔دریں اثنا مسلم لیگ (ن) کے رکن سردار ایاز صادق نے 10اگست کو قومی اسمبلی کی 73ویں سالگرہ کی مناسبت سے قرارداد پیش کی جسے پورے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلی،قرار داد میں کہاگیاکہ یہ ایوان قائد اعظم ؒ کے اسلامی جمہوری پارلیمانی نظام کو جاری رکھے ہوئے ہے اور عوام کے جمہوری حقوق کی نگرانی کررہا ہے۔اس دوران جے یو آئی کے ارکان اسمبلی کی جانب سے سپیکر گیلری میں بیٹھ کر انوکھے احتجاج پر،پی پی پی کے رکن اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ان دوستوں کو ایوان میں بات کر نے کا موقع نہیں ملا اسلئے احتجاج پر ہیں،سپیکر اسد قیصر نے کہا ایسا احتجاج ایوان کی توہین ہے اس کی اجازت نہیں دے سکتا،اس موقع پر چیف ویپ عامر ڈوگر نے سپیکر سے درخواست کی کہ پندرہ منٹ کیلئے اجلاس کی کارروائی موخر کر دی جائے تاکہ ارکان سے بات چیت کی جا سکے،جسے سپیکر نے منظور کر لیا، چیف ویپ عامر ڈوگر نے جے یو آئی ارکان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا آئندہ ایم ایم اے اراکین سے امتیازی سلوک نہیں ہو گا، ایم ایم اے ارکان نے احتجاج ختم کرنے کو سپیکر قومی اسمبلی سے یقین دہانی مشروط کر دیا تاہم چیف ویپ کی یقین دہانی پر ایم ایم اے ارکان احتجاج ختم کرکے ایوان میں آگئے۔ اس موقع پر رکن اسمبلی آغا رفیع اللہ نے مطالبہ کیا کہ وقفہ سوالات ایجنڈے میں شامل کیا جائے، سپیکر نے کہا رولز کے تحت مناسب اجلاس کے دوران مناسب وقفہ نہ ہونے پر وقفہ سوالات نہیں ہوسکتا۔جس پر پی پی پی ارکان نے احتجاج کیا۔اجلاس کے دوران جے یو آئی کے رکن اسمبلی مولانا اسعد محمود نے کہا قانون سازی کیلئے حکومت کے اختیار کردہ طریقہ کار پر اعتراض کرتے ہوئے کہا وزیر خارجہ نے میوچل اسسٹنس بل پر حکومت کی مجبوری بیان کی کہ جو اس بل کو سپورٹ نہیں کرے گا وہ پاکستان کیخلاف دشمن کا ساتھ دے گا،افسوس ہم پر اتنا بڑا الزام لگادیا گیا اور ہم کو سنا بھی نہیں گیا،دس روز تک ہمارے خلاف میڈیا ٹرائل کیا گیا کہ ہم بھارت کے ہاتھوں استعمال ہورہے ہیں، حالانکہ ملکی آئین ہمارے بڑوں نے بنایا جتنی بھی آئین سازی ہوئی ہمارے بغیر مکمل ہی نہیں ہوسکتی۔ یہ کیسی روایت ہے کہ بل یہاں لائے پہلے منظور کئے گئے پھر نکتہ نظر لیا گیا۔ ملک کیلئے قانون سازی کرنا جتنا ضروری ہے،وہیں کوئی اختلاف کرے تو اس کا موقف سننا بھی لازم ہے۔ میوچل اسسٹنس بل پر ہم نے حکومت اور اپوزیشن دونوں سے شکوہ کیا،اور ہمارا شکوہ تھا کیوں ہمیں مشاورت سے باہر رکھا گیا،جبکہ پی پی اور ن لیگ کو بھی ہم نے تجاویز دیں کہ وہ شامل کروالیں۔ وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمدخان نے مولانا اسعد محمود کے نکتہ اعتراض پر کہا عجیب لوگ ہیں دلیل تھی نا حوالہ،بس اختلاف کرنا اپوزیشن کا وطیرہ ہے۔ جب کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے یہ ایوان سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر کام کرتا 

ہے۔ اپوزیشن میں تھے تو چند قومی مسائل میں حکومت کیساتھ ملکر بیٹھے، یہ کہنا کہ ہمیں کسی نے یہاں بیٹھایا کیا یہ کروڑوں لوگوں کی توہین نہیں؟ایوان میں جے یو ائی کو سننا انکا حق ہے، آپکو ماضی میں کس کس نے لاکر یہاں بیٹھایا وہ بھی بتائیں، عمران خان تو آج حکومت میں آیا ہماری تو تہائی اکثریت نہیں ہے، ایوان میں تگڑی اپوزیشن موجود ہے، وزیر مملکت نے پی ٹی وی فیس بڑھانے کیخلاف پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری کے توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں واضح کیا کہ کابینہ نے پی ٹی وی فیس 65روپے بڑھانے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا،پی پی پی دور میں پی ٹی وی فیس بڑھائی گئی تھی،اگر بڑھائی بھی جائے گی تو یہ ایک سو یونٹ استعمال کرنیولوں کے لئے نہیں ہوگی۔ خالد مگسی نے کہا بلوچستان میں بارشوں سے بہت نقصان ہوا ہے،وفاقی حکومت صورتحال پر توجہ دے۔

قومی اسمبلی

مزید :

صفحہ آخر -