فصلوں کی کاشت میں عدم توازن کو بہتر پالیسی اقدامات سے دور کیا جائیگا: سید فخر امام 

  فصلوں کی کاشت میں عدم توازن کو بہتر پالیسی اقدامات سے دور کیا جائیگا: سید ...

  

 اسلام آباد(آن لائن) فصلوں کی کاشت میں عدم توازن کو پالیسی اقدامات کے ذریعے دور کیا جائے گا کپاس ملک کے معاشی پیشرفت میں مدد فراہم کرسکتی ہے ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، سید فخر امام نے  "کپاس کی صنعت کو درپیش مسائل" کے موضوع پر سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے ذکر کیا کہ 1985 سے 1992 تک، ملک میں کپاس کی پیداوار میں بڑی پیشرفت دیکھنے میں آئی۔اس وقت ہماری کپاس کی پیداوار میں 12.8 ملین گانٹھوں کا اضافہ ہوا۔وفاقی وزیر نے ذکر کیا کہ کپاس کی پیداوار میں منافع کمانے کی کوئی یقین دہانی نہیں کی جاسکتی ہے.انہوں نے ذکر کیا کہ پیداوار میں اضافہ کے لئے روئی کے شعبے میں عملی تحقیق ہونی چاہئے ہمارے ملک میں کپاس کی پیداوار 700 کلوگرام / ہیکٹر ہے  سید فخر امام نے ذکر کیا کہ کپاس کاشتکار میکانائزڈ زراعت کی طرف  جانا چاہئے انہوں نے کہا کہ ڈرون ٹیکنالوجی اور سولر ٹیوب ویل کاشت کار استعمال کریں انہوں نے کہا کہ کپاس کے بیج  پر توجہ دینے کی ضرورت دینی چاہیے اسکے علاوہ پاکستان میں کاٹن جننگ سب سے کمزور کڑی ہے پاکستان میں 1300 جننگ فیکٹریاں  14 ملین گانٹھوں کی روئی کو جین کرتی ہیں جننگ  کو جدید اور موثر ٹیکنالوجی میں اپ گریڈ کرنا ہوگا سید فخر امام نے مزید کہا کہ کرل لیف وائرس، پنک بل وارم اور سفید مکھی روئی کے بڑے کیڑے ہیں ہمیں کیڑے مار دواؤں پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔

فخر امام 

مزید :

صفحہ آخر -