جتوئی:قومی خوشحالی سروے میں مبینہ طور پر لوٹ مار کاانکشاف 

  جتوئی:قومی خوشحالی سروے میں مبینہ طور پر لوٹ مار کاانکشاف 

  

 جتوئی،بستی اللہ بخش،چوک مکول(نامہ نگار) تحصیل جتوئی ضلع مظفرگڑھ میں قومی خوش حالی سروے پروگرام میں مبینہ طور پر بد ترین کرپشن اور لوٹ مار کا انکشاف ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تحصیل جتوئی کی آبادی چھ لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے۔ جس کے ہزاروں خاندان بنتے ہیں۔ پانچ ماہ قبل تحصیل جتوئی میں قومی خوش حالی سروے پروگرام شروع کیا گیا۔ پروگرام کی تحصیل انچارج  نے کرپشن کا آغاز فیلڈ ورکرز اور سپر وائزر کی ٹریننگ سے کیا۔ ٹریننگ کی مد میں (بقیہ نمبر41صفحہ7پر)

 ٹریننگ میں حصہ لینے والے ورکرز کو محض چائے پلا کر ٹرخا دیا گیا۔ حالانکہ ٹریننگ کے شرکاء کی ریفریش منٹ کیلیے مبینہ طور پر 65000 روپے یومیہ رقم فراہم کی گئی تھی۔ تین دن کی ٹریننگ کو ایک دن میں سمیٹ دیا گیا۔ اس طرح تین لاکھ روپے کی خطیر رقم غائب کر دی گئی۔ سروے کنندگان اور سپر وائزرز سے 25000 روپے مالیت کے چیک بطور ضمانت رکھے گئے۔ کنٹریکٹ کے تحت ہر سروے کنندہ کو فی فارم 43 روپے اور ماہانہ فیول چاجز ادا کیے جانا تھے۔ اسی دوران جونہی سروے کنندگان نے تنخواہیں طلب کیں۔ انہیں بیک جنبشِ قلم کرپشن کے الزامات کے تحت کنٹریکٹ ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔ فارغ ہونے والے 80 ملازمین کو تنخواہوں اور فیول چارجز کی مد میں ایک پائی تک ادا نہ کی گئی۔ ذرائع کے مطابق سروے کرنے والے بعض افراد نے تحصیل انچارج  کی آشیرباد سے دوران سروے فی گھرانہ ایک سے دو ہزار روپے رشوت وصول کی۔ مگر کنٹریکٹ تمام ملازمین کا ختم کیا گیا۔ جب ہٹائے جانے والے ملازمین نے کیے گئے سروے کا طئے شدہ معاوضہ طلب کیا تو الٹا انہیں بطور ضمانت رکھے گئے بیجوں کی بنیاد پر بلیک میل کیا گیا۔ چند دن سروے رکا رہا۔ بعد ازاں ضلعی انچارج خلیل سیہڑ اور تحصیل انچارج میڈم فاخرہ نے اپنے قریبی دوست احباب اور رشتہ داروں کے علاؤہ با اثر سیاسی شخصیات کے منظور نظر افراد کو سروے کیلیے بھرتی کرلیا۔ سابقہ کنٹریکٹ ملازمین اپنے معاوضہ کو رو رہے ہیں۔ نئے بندے بھرتی  کرکے انہیں سروے پر لگا دیا گیا ہے۔ سپر وائزر اور فیلڈ ورکرز کیلیے ان پڑھ آدمیوں کو تعینات کردیا گیا۔ ذرائع کے مطابق نئے بھرتی  ہونے والوں سے طئے کیا گیا ہے کہ وہ تنخواہوں کا مطالبہ نہیں کریں گے۔ بلکہ اپنے اپنے علاقے سے ایک سے دو ہزار روپے فی گھر انہ وصول کرکے 4000روپے یومیہ تحصیل انچارج  کے پاس جمع کرائیں گے۔   ہر بستی میں ٹاؤ ٹ سر گرم عمل ہیں۔جو دوران سروے اہل علاقہ سے دو ہزار فی گھرانہ رقم جمع کر کے سروے کنندگان کو جمع کراتے ہیں۔ سروے کنندگان اس میں سے چار ہزار تحصیل اور ضلع مظفرگڑھ کے انچارج کے لیے رکھ چھوڑتے ہیں۔ سروے کی اہمیت کے پیش نظر خواتین خوشی خوشی دو ہزار روپے رشوت دے رہی ہیں۔ سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا چیخ چیخ کر کرپشن اور بے ضابطگی کی نشان دہی کر رہے ہیں۔ مگر کوئی بھی انتظامی افسر یا متعلقہ حکام نو ٹس نہیں لے رہے۔ ذرائع کے مطابق اعجاز آرائیں نامی شخص جو میٹرک فیل ہے اپنا اثرورسوخ استعمال کر کے سپر وائزر کے عہد ے پر تعینات ہے۔ قومی خوش حالی سروے پروگرام میں لوٹ مار کے ذریعے لاکھوں روپے کی جائیداد بنا چکا ہے۔ کرپشن کے تمام عمل کی نگرانی اور سروے انچارج صاحبان کو ان کا حصہ پہنچا نے کی ذمہ داری اعجاز آرائیں کی ہے۔ سروے سے نکالے گئے افراد نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ ان کے جن ملازمین نے کرپشن کی۔   کرپشن کے الزامات پر نکالے جانے والے بہت سے افراد جو دوبارہ  کنٹریکٹ پر رکھ لیے گئے ہیں۔ انہوں نے ڈی سی مظفرگڑھ اور کمشنر ڈیرہ غازی خان سے مطالبہ کیا کہ ان کے کام کا معاوضہ معہ فیول چارجز ادائیگی کرائی جائے۔ ضمانت کے طور پر رکھے گئے چیک واپس دلائے جائیں۔ عوامی و سماجی حلقوں نے بھی متعلقہ حکام سے قومی خوش حالی پروگرام سروے تحصیل جتوئی میں تحصیل و ضلعی انچارج کی کرپشن کا نوٹس لینے اور شکایات درست ثابت ہونے کی صورت میں سخت ترین قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔رابطہ پر ضلعی انچارچ خلیل احمد نے بتایا کہ جو افراد دوبارہ بھرتی کیے گے ہیں میریٹ پر بھرتی کیے گے ہیں اور جو 80 ملازمین کو فارغ کیا گیا تھا انکی تنخواہیں جلد آ جائینگی دیگر ملازمین کی طرف سے لگائے گے الزامات بے بنیاد ہیں۔

انکشاف

مزید :

ملتان صفحہ آخر -