زکریا یونیورسٹی، ڈاکٹر عمران قادر کا کرونا کیخلاف میڈیسن تیار کرنیکا دعویٰ

   زکریا یونیورسٹی، ڈاکٹر عمران قادر کا کرونا کیخلاف میڈیسن تیار کرنیکا ...

  

ملتان (سٹاف رپورٹر) بہاء الدین زکریایونیورسٹی ملتان کے انسٹی ٹیوٹ آف مالیکیولر بیالوجی اینڈ بائیو ٹیکنالوجی کے سائنسدان ڈاکٹر محمد عمران قادر نے کرونا کے لیے دوا تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس کا نام انہو ں نے ”قادر وڈ 19“رکھا ہے‘ ان کی یہ تحقیق ادویہ سازی کے ایک اعلی مجلہ میں شائع ہوئی ہے. وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی نے جامعہ زکریا کے سائنسدان ڈاکٹر محمد عمران قادر کو مبارک باد دیتے ہوئے (بقیہ نمبر42صفحہ7پر)

کہاکہ مجھے پے پناہ خوشی ہوئی ہے کہ انسانیت کی خاطر کرونا سے لڑنے میں مصروف سائنس دانوں میں زکریایونیورسٹی کے ایک نوجوان سائنس دان نے بھی ہماری یونیورسٹی کا سر فخر سے بلند کیا ہے.. ڈاکٹر عمران قادر نے ایک ایسی دوائی بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو کہ خاص کرونا کی دوائی ہے جو کہ کرونا وائرس کو انسانی خلیوں کے اندر داخل ہونے سے روکتی ہے‘ دنیا بھر کے سائنسدانوں نے پہلے سے موجود دوائیوں کو کرونا کے خلاف آزمایا، مثال کے طور کلوروکوئین، ہائیڈراکسی کلوروکوئین، ڈیکسامیتھاسون، ریٹوناور وغیرہ لیکن یہ خاص کرونا کی دوائیاں نہیں ہیں کرونا وائرس کی یہ خاصیت ہے کہ وہ بغیر خلیہ کے زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتے. دوائی کی بناوٹ پر بات کی جائے تو یہ کسی قدرتی پودے یا معدنیات سے حاصل نہیں کی گئی بلکہ تیس امائنوایسڈ پر مشتمل ایک مالیکیول ہے جو کہ لیبارٹری میں تیار ہوتا ہے‘ یہ دوائی ٹیکہ کی شکل میں مارکیٹ میں دستیاب ہوگی جو کہ جلد پر لگایا جائے گا.ابھی اس کی ایک خوراک کا خرچہ  ۹ ہزار  روپے ہے لیکن جب بڑے پیمانے پر تیار کی جائے گی تو ضرور کم قیمت میں بنے گی. ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عمران قادر نے بتایا کہ پیٹنٹ کے قانون کے تحت صرف ایک ہی کمپنی اس کو بناکر بیچ سکتی ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کو مہنگا بیچتی ہے‘ اسی لیے اس کو پیٹنٹ نہیں کروایا کہ یہ دوائی میرے غریب پاکستانیوں کے لیے ہے اور ہر میڈیسن کمپنی کو اجازت ہے کہ وہ اس کو بناکر بیچ سکے.انسانیت کے لیے ڈاکٹر عمران قادر کی کاوشیں قابل ذکر ہیں۔ واضح رہے کہ وہ پہلے ایڈز اور کینسر کے علاج کے لیے نئی دوائیاں تیار کرچکے ہیں اور 2017 میں پاکستان کونسل فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انہیں ادویہ سازی میں پاکستان کا پہلے نمبر کا سائنس قرار دے چکی ہے. ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف مالیکولر بیالوی اینڈ بائیو ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر محمد بابر نے بتایا کہ محدود سہولیات اور بجلی کی آنکھ مچولی میں اس قسم کی پروڈیکٹو ریسرچ ہماری قوم کی کامیابی ہے۔

دعویٰ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -