ملتان سمیت مختلف شہروں میں بارش، موسم خوشگوار، بازار فل

  ملتان سمیت مختلف شہروں میں بارش، موسم خوشگوار، بازار فل

  

ملتان، وہاڑی، راجن پور، کہروڑ پکا، صادق آباد(سپیشل رپورٹر، خصوصی رپورٹر، نمائندہ پاکستان، بیورو رپورٹ، ڈسٹرکٹ رپورٹر، نامہ نگار) بارش نے نکاسی آب کا پول کھول دیا۔ گزشتہ روز ہونیوالی بارش نے شہر بھر کی طرح ضلع کچہری ملتان کو بھی پانی میں ڈبو دیا۔ سیورج لائنیں بند ہونے سے وکلاء اور سائلین کو شدید مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔بارش کا پانی راہداریوں اور چیمبرز تک(بقیہ نمبر30صفحہ6پر)

 پہنچ گیا۔ جبکہ کچہری کی خستہ حال عمارتوں کی چھتوں سے بھی پانی ٹپکتا رہا۔ بارش شروع ہونے سے قبل ہی لائٹ بھی بند ہوگئی۔ جس نے عدالتی اہلکاروں، وکلاء  اور سائلین کی مشکلات میں اضافہ کردیا۔ چونکہ بارش عدالتی وقت کے آخری لمحات میں ہوئی تھی۔ اس وقت کئی سائلین مقدمات کے فیصلوں کے انتظار میں بیٹھے تھے لیکن تیز بارش نے دور دراز سے آئے سائلین کو گھر جانے پر مجبور کردیا۔ دوسری جانب ضلع کچہری میں ترپالوں کے نیچے سجے کھانے پینے کے اسٹال مالکان کو بھی شدید دشواری پیش آئی اور انہیں فوری طور پر سامان کو محفوظ مقام پر منتقل کرنا پڑا۔ملتان میں موسلادھار بارش کا سلسلہ شروع ہوتے ہی منیجنگ ڈائریکٹر واسا مشتاق احمد خان نے واسا میں ہائی الرٹ جاری کردیااورتمام سیوریج، ڈسپوزل اسٹیشن ڈویژنوں کے افسران، سٹاف کو اپنی اپنی حدود میں بارش کے پانی کی نکاسی کے لئے طلب کرلیا شہر بھر کے مختلف علاقوں میں نکاسی آب کے لیے آپریشن ٹیموں اور مشینری کے ہمراہ ہنگامی بنیادوں پر شروع کردیا گیا منیجنگ ڈائریکٹر واسا نے ڈائریکٹر ورکس شہزاد منیر کے ہمراہ بوسن روڈ،ایل ایم کیو روڈ،کچہری روڈ، ایم ڈی اے چوک، پرانا بہاولپور روڈ،رشید آباد چوک،گھنٹہ گھر،واٹر ورکس روڈ،حسین اگاہی، میٹرو روٹ،وہاڑی روڈ،ابدالی روڈ،نشتر روڈ،سمیت،مختلف ڈسپوزل سٹیشنوں کا دورہ کر کے نکاسی آب کے انتظامات کا جائزہ لیا انہوں نے متعلقہ سیوریج سٹاف کو سڑکوں پر مین ہولز کورز ہٹانے اور سکر مشینوں کے ذریعے پانی اٹھانے کا حکم دیااور تمام ڈسپوزل سٹیشنوں کو فل کیپیسٹی پر چلانے کی ہدایت کی اس دوران ایم ڈی واسا کو مختلف ڈسپوزل سٹیشنوں پر لوڈشیڈنگ بارے بھی آگاہ کیا جس پر انہوں نے لوڈ شیڈنگ کے دوران ڈسپوزل اسٹیشنوں کو جنریٹرز پر چلانے کی ہدایت کی ڈپٹی ڈائریکٹر ڈسپوزل اسٹیشن نے اس دوران ایم ڈی واساکو سہ پہر 4 بجے سے شام 7 بجے تک بارش سے متعلق رپورٹ بھی پیش کی رپورٹ کے مطابق ملتان میں سب سے زیادہ بارش چونگی نمبر 9 ڈسپوزل اسٹیشن پر 63 ملی میٹر،کڑی جمنداں ڈسپوزل اسٹیشن پر 14ملی میٹر، سمیجہ آباد ڈسپوزل اسٹیشن پر 4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ایم ڈی واسا نے شہری علاقوں سے بارش کے پانی کی نکاسی سے متعلق کمشنر ملتان ڈویژن،شان الحق،ڈپٹی کمشنر عامر خٹک اور ڈی جی ایم ڈی اے آغا محمد علی عباس کو کارکردگی رپورٹ بھی پیش کی اور ایم ڈی واسا نے تمام سیوریج افسران کو  شاہراوں کے ساتھ ساتھ نشیبی علاقوں سے بھی بارش کے پانی کو بروقت نکالنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے اور نکاسی آب کا آپریشن مکمل ہونے تک فیلڈ میں موجودگی یقینی بنانے اور آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کی پیشگوئی پر الرٹ رہنے کی ہدایت کی۔ملک بھرکے دیگرحصوں کی طرح گزشتہ روز ملتان اورنواحی علاقوں میں ہونے والی بارش نے ریلوے کے جدیدسگنل سسٹم کی قلعی کھل کررکھ دی ہے۔بتایا جاتاہے کہ بارش کے باعث لودھراں تاچیچہ وطنی مختلف مقامات پرسگنل سسٹم خراب ہوگیا۔جس کی وجہ سے مسافرٹرینوں کو پیپرلائن کلیئرکے تحت چلایاجارہاہے۔ریلوے ذرائع کے مطابق بارش کے باعث ریلوے کے سنٹرل بیس لاکنگ سسٹم میں نمی آجاتی ہے۔جس کی وجہ سے سگنل سسٹم درست کام نہیں کرتا۔نمی ختم ہوتے ہی سسٹم خودبہ خودٹھیک ہوجائیگا۔آئندہ دوروزتک مزیدبارشوں کی پیش گوئی کومدنظررکھتے ہوئے ریلوے انتظامیہ نے ٹرین ڈرائیوروں اور دیگر آپریشنل سٹاف کوبھی الرٹ محفوظ ٹرین آپریشن جاری رکھنے کے لئے ہدایات جاری کی ہیں۔گزشتہ روزریلوے شعبہ سول انجینئرنگ کے گینگ مین بارش کے دوران ریلوے ٹریک سے نکاسی آب کے لئے کام کرتے رہے۔طویل انتظار کے بعد ہونیوالی بارش نے ملتان کے وکلاء کے دل موہ لیے۔ وکلاء بارش کے موسم سے محظوظ ہونے کے لیے بار روم اور چیمبرز سے باہر نکل آئے۔ جبکہ نوجوان وکلاء خوشگوار موسم کا منظر قید کرنے کے لیے ویڈیوز اور تصاویر بھی بناتے رہے۔شہر اور گردو نواح میں موسلا دھار بارش کے باعث شدید حبس اور گرمی کا زور ٹوٹ گیا،بارش کے سبب متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہم معطل ہوگئی جبکہ شدید گرمی میں بارش برسنے سے شہریوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے منچلے سڑکوں پر بارش سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دیئے ابر رحمت برسنے پر کسانوں نے بھی خدا کا شکر ادا کیا گرمی سے پیاسی زمین پر ہریالی لہرانے لگی بارش سے سخت گرمی میں مرجھائے ہوئے پودے بھی سرسبزوشاداب ہوگئے جبکہ بازاروں میں رش بڑھ گیاحالیہ بارشوں کے دوران ممکنہ سیلاب کے پیش نظر رود کوہی نالوں اور دریائے سندھ  میں پانی کی صورتحال کو مسلسل مانیٹرکیا جا رہا ہے۔ تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ متعلقہ ادارے ریلیف  کیمپ کے لیے سکولوں اور دیگر محفوظ جگہوں کا معائنہ کریں۔ فی الحال سیلابی صورتحال تسلی بخش ہے۔ حالیہ بارشوں سے آنے والا پانی اپنے قدرتی راستوں سے گزر رہا ہے اور کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ یہ باتیں ڈپٹی کمشنر راجن پوذوالفقارعلی نے ضلعی ڈیزاسٹر منیجمنٹ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہیں۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ظہور حسین بھٹہ،ایس پی انویسٹی گیشن محمد عثمان، اسسٹنٹ کمشنر روجھان عثمان غنی کے علاوہ ریسکیو 1122، پی ڈی ایم اے، بلڈنگ، تعلیم، صحت،لائیوسٹاک اور دیگر محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی کوشش ہوگی کہ ناگہانی آفت کی صورت میں لوگوں کا نقصان کم سے کم ہو۔ لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت اور لائیوسٹاک سیلابی علاقوں میں ریلیف  کیمپ لگائیں اور کیمپ میں تمام سہولیات موجود ہونی چاہئیں۔طو فا نی با رش،مکان کی چھت گرنے سے 5افراد زخمی،زخمیوں میں 2عورتیں 2بچے اور ایک مرد شا مل،زخمیوں کو ریسکیو1122نے ہسپتال پہنچا یا،تفصیل کے مطا بق نواحی علا قہ غریب آ باد میں تیز طو فا نی بارش کی وجہ سے مکان کی چھت گر گئی جس کے نیچے آ کر 5افراد زخمی ہو گئے جن میں یٰسین،ثمن ما ئی،مبینہ ما ئی،دو بچیے محمدعیان اورتسلیم شامل ہیں ریسکیو 1122نے بروقت کا روا ئی کر تے ہو ئے زخمیوں کو ہسپتال پہنچا یا صادق آباد میں موسلا دھار بارش،کچی آبادیوں میں نکاسی آب کا نظام درہم برہم گلی محلوں میں بارش کا پانی کھڑا رہنے سے علاقہ مکینوں کے مکانوں کی چھتیں اور دیواریں گرنے کا خدشہ ہے اہل علاقہ کی میونسپل کارپوریشن اور مقامی انتظامیہ سے نکاسی آب کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ صفائی ستھرائی کے نظام کو بھی بہتر بنانے کے لئے درخواست،علاقہ مکینوں محمد حسین،حق نواز،آصف نواز،محمد نواز،شبیر احمد،فرحان خان،اسلم چانڈیو،آصف مزاری،جام محمد اقبال،جام عاصم اقبال ودیگر کا کہنا ہے کہ گلیوں میں بارش کا پانی اور گندے گٹروں کا پانی کھڑا رہنے کی وجہ سے گندگی پھیلی ہوئی ہے جس سے علاقہ کے لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں فوری طور پر نکاسی آب اور صفائی ستھرائی کے نظام کے عمل کو بہتر بنایا جائے۔

بارشیں 

مزید :

ملتان صفحہ آخر -