نیب نے جب 60 روز کیلئے تحقیقات کیلئے حراست میں رکھا تو کیا پوچھا جاتا رہا ؟ مریم نوازشریف نے حیران کن دعویٰ کر دیا 

نیب نے جب 60 روز کیلئے تحقیقات کیلئے حراست میں رکھا تو کیا پوچھا جاتا رہا ؟ ...
نیب نے جب 60 روز کیلئے تحقیقات کیلئے حراست میں رکھا تو کیا پوچھا جاتا رہا ؟ مریم نوازشریف نے حیران کن دعویٰ کر دیا 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )مریم نوازشریف نے کہاہے کہ نیب کی حراست میں مجھ سے مقدمے سے متعلق سوالات کے علاوہ تمام سوالات پوچھے گئے ، مجھ سے پوچھا گیا کہ آپ کو جیب خرچ کتنا ملتاہے ، ن لیگ میں مشاورت کا کیا عمل ہے ۔

مریم نوازشریف نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیب کا بڑا گھناﺅنا کردار ہے ، یہ مجھ پر پہلا یا دوسرا مقدمہ نہیں ہے یہ تیسرا مقدمہ ہے ، پہلااوردوسرامقدمہ اتنامضبوط تھاتوتیسرے کی ضرورت کیوں پڑی،پہلا اور دوسرا بھی ختم ہو گیا ، تیسرے کا بھی وہی ہے جو انجام ہو گا جو پہلوںکا ہوا ۔ 

انہوں نے کہا کہ جس ریفرنس میں مجھے پچھلے سال گرفتار کیا گیا تھا اور تقریبا 60 دن میں نیب کی مہمان رہی ، 72 سال کی تاریخ میں پہلی خاتون سیاستدان ہوں جو نیب کی مہمان رہی ، انہیں سمجھ بھی نہیں آ رہی تھی کہ مجھے کہاں رکھیں ، ان کے پاس خواتین کو رکھنے کیلئے کوئی جگہ بھی نہیں تھی ، جس مقدمے میں مجھے پکڑا گیا ، وہ ریفرنس ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود آج تک نہیں بن سکا ، مجھے تحقیقات کے نام پر60 دن رکھا گیا، سوائے انویسٹی گیشن کے مجھ سے تمام سوالات پوچھے گئے ، مجھ سے پوچھا گیا کہ ن لیگ بہت بڑی سیاسی جماعت ہے ،

مسلم لیگ میں مشاورت کا کیا عمل ہے ، آپ کو کتنی پاکٹ منی ملتی ہے ، آپ کونسی کتابیں پڑھ رہی ہیں ، آپ کا پسندیدہ منصف کون ہے ،ملکی سیاسی منظر نامے پر مجھ سے مشاورت ہوتی رہی ،اگر نہیں پوچھا تو مقدمے کے بارے میں چیزیں نہیں پوچھیں ، مجھے سمجھ آتی ہے کہ 2018 میں کیوں گرفتار کیا گیا ، الیکشن آ رہے تھے ، نوازشریف اور مریم نواز کو گرفتار کرنا ضروری تھا۔

مزید :

قومی -