دنیا کے ایک ارب سے زائد اینڈرائیڈ فون کی جاسوسی کا خطرہ، انتہائی تشویشناک انکشاف سامنے آگیا

دنیا کے ایک ارب سے زائد اینڈرائیڈ فون کی جاسوسی کا خطرہ، انتہائی تشویشناک ...
دنیا کے ایک ارب سے زائد اینڈرائیڈ فون کی جاسوسی کا خطرہ، انتہائی تشویشناک انکشاف سامنے آگیا

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) اینڈرائیڈ فون کے شوقین لوگوں کے لیے سکیورٹی ماہرین نے ایک انتہائی تشویشناک خبر سنا دی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق سائبر سکیورٹی فرم ’چیک پوائنٹ‘ کے ماہرین نے نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ دنیا میں پائے جانے والے 1ارب سے زائد اینڈرائیڈ فونز ہیکرز کے نشانے پر ہیں جنہیں وہ محض ایک ایپلی کیشن انسٹال کروا کر ہیک کر سکتے ہیں۔ یہ ایک ایپلی کیشن انسٹال ہونے سے یہ اینڈرائیڈ فونز ایک ’جاسوس ڈیوائس‘میں بھی تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ ایک ارب سے زائد اینڈرائیڈ فون ایسے ہیں جن میں کوالکوم (Qualcomm)کمپنی کا ’سنیپ ڈریگن‘ (Snapdragon)پروسیسر چل رہا ہے۔ اگر آپ کے فون میں بھی سنیپ ڈریگن پروسیسر ہے تو آپ کا فون بھی ہیکرز کے نشانے پر ہے۔ ماہرین نے اپنی تحقیق میں سنیپ ڈریگن پر چلنے والے فون میں 400ایسی خامیاں تلاش کی ہیں جن کے ذریعے ہیکرز باآسانی ان فونز کو ہیک کرکے جاسوس ڈیوائسز میں بدل سکتے ہیں اور صارفین کا نجی نوعیت کا ڈیٹا چوری کر سکتے ہیں۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ینیف بالماس کا کہناتھا کہ ”اگر آپ سنیپ ڈریگن پروسیسر کا حامل اینڈرائیڈ فون چلا رہے ہیں تو آپ کی جاسوسی ہو سکتی ہے اور آپ اپنے فون میں موجود تمام ڈیٹا اور معلومات سے محروم ہو سکتے ہیں۔ اگر ہیکرز کے ہاتھ سنیپ ڈریگن کے حامل اینڈرائیڈ فونز کی یہ 400خامیاں لگ گئیں تو دنیا میں 1ارب سے زائد لوگ کسی طور اپنے ڈیٹا کو محفوظ نہیں رکھ پائیں گے۔“واضح رہے کہ سنیپ ڈریگن چپ (chip)گوگل، سام سنگ، شیاﺅمی، ایل جی اور ون پلس سمیت کئی بڑی کمپنیوں کے فلیگ شپ فونز میں استعمال ہو رہی ہے۔ایپل صارفین ان خامیوں سے محفوظ ہیں کیونکہ ایپل آئی فونز میں اپنے پروسیسرز مہیا کرتا ہے۔دوسری طرف کوالکوم کا کہنا ہے کہ وہ سنیپ ڈریگن چپ میں موجود ان خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم یہ اینڈرائیڈ فونز بنانے والی کمپنیوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے صارفین کو ہر ماڈل کے ساتھ مناسب ’سکیورٹی پیچ‘ (Security Patch)مہیا کرے۔

مزید :

سائنس اور ٹیکنالوجی -