آپ نواز شریف کی پالیسیوں کے ساتھ کھڑے ہیں یا شہباز شریف کی پالیسیوں کے ساتھ؟صحافی کے سوال پر مولانا فضل الرحمان کا ایسا جواب کہ شریف برادران ایک دوسرے کا منہ تکنے لگیں گے

 آپ نواز شریف کی پالیسیوں کے ساتھ کھڑے ہیں یا شہباز شریف کی پالیسیوں کے ...
 آپ نواز شریف کی پالیسیوں کے ساتھ کھڑے ہیں یا شہباز شریف کی پالیسیوں کے ساتھ؟صحافی کے سوال پر مولانا فضل الرحمان کا ایسا جواب کہ شریف برادران ایک دوسرے کا منہ تکنے لگیں گے

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)جمعیت علمائےاسلام(ف)کےسربراہ مولانافضل الرحمان نےاپوزیشن کی  دونوں بڑی جماعتوں کےکردار پر شدید تحفظات کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تحفظات دوراور اپوزیشن متحدہو جائیگی تو اے پی سی بھی ہوجائے گی،نیب انتقام کے لیے بنایا گیا ادارہ ہے، حکومت اس ادارے کے ذریعے اپوزیشن کو دیوار سے لگانا چاہتی ہے، لہٰذا ہمیں ایک مضبوط مؤقف کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا،حکومت کے خاتمے کی ذمہ داری جہاں سلیکٹرز کے اوپر ہے وہیں اپوزیشن کی بھی یہ ذمہ داری ضرور ہے کہ وہ آج تک اپنی یکسوئی کا مظاہرہ نہیں کرسکی، جس کا فائدہ وہ اٹھا رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نیب انتقام کے لیے بنایا گیا ادارہ ہے، یہ احتساب کے لیے بنایا گیا ادارہ نہیں ہے، حکومت اس ادارے کے ذریعے اپوزیشن کو دیوار سے لگانا چاہتی ہے، لہٰذا ہمیں ایک مضبوط مؤقف کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا، جب تک تمام اپوزیشن یکسو نہیں ہوگی ہم ان ظالمانہ اقدام اور ناجائز حکومت کے خاتمے کے لیے مؤثر کردار ادا نہیں کرسکیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کے کردار پر تحفظات ہیں، وہ دور ہوں گے تو پھر کل جماعتی کانفرنس(اے پی سی) ہوسکے گی اور باقی کام بھی ہوسکیں گے۔ایک سوال کے جواب میں مولانا کا کہنا تھا کہ حکومت کے خاتمے کی ذمہ داری جہاں سلیکٹرز کے اوپر ہے وہیں اپوزیشن کی بھی یہ ذمہ داری ضرور ہے کہ وہ آج تک اپنی یکسوئی کا مظاہرہ نہیں کرسکی، جس کا فائدہ وہ اٹھا رہے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو میں ان سے صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ نواز شریف کی پالیسیوں کے ساتھ کھڑے ہیں یا شہباز شریف کی پالیسوں کے ساتھ؟ جس پر مولانا مولانا فضل الرحمان نے برجستہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ اب تو صورتحال تبدیل ہوگئی ہے اور اب اُن سے پوچھنا چاہیے کہ فضل الرحمٰان کی پالیسیوں کے ساتھ کھڑے ہو یا نہیں؟۔

ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون کی منظوری کے دوران پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے ہونے سے متعلق سوال پر جے یو آئی (ف) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہمیں اسی پر اختلاف رائے ہے، یہی چیزیں ہم نے طے کرنی ہے کہ آئندہ بھی ایسی صورتحال آسکتی ہے تو بار بار یہ صورتحال کہ ہم حکومت کو سہولت بھی مہیا کریں اور اپوزیشن بھی رہیں، یہ دونوں چیزیں اکٹھا نہیں چل سکتی، ہمیں ایک مؤقف پر آنا پڑے گا۔

مزید :

قومی -