محرم الحرام اور امن و امان 

 محرم الحرام اور امن و امان 
 محرم الحرام اور امن و امان 

  

محرم الحرام ہمیں امن،اخوت بھائی چارے اور صبر کا درس دیتا ہے اور امت کے اتحاد کا عظیم سبق اس ماہ میں پوشیدہ ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ واقعہ کربلا تاریخ انسانی کا ایک دلخراش واقعہ ہی نہیں، بلکہ ظلم وحشت اور درندگی کی ایک ایسی داستان ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا جس نے امت کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا۔نفاذ عدل اور انسان کے بنیادی حقوق کی بحالی کیلئے نواسہ رسول نے جو لازوال قربانی دی وہ مسلمانوں کے لئے تاقیامت مشعل راہ رہے گی۔ حضرت امام حسینؓ کی شہادت حق گوئی اور باطل کے خلاف ڈٹ جانے کا عظیم درس دیتی ہے جس پر عمل کرنے سے انسانوں کی بقاء  سلامتی اور اقوام عالم میں اتحاد  یگانگت کا جذبہ زندہ رہ سکتا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے ملک دشمن قوتیں اور فرقہ واریت کو پروان چڑھانے والے عناصر اتحاد امت کے عظیم پیغام کی نفی کرتے ہیں اوریہ قوتیں فرقہ واریت پھیلاکر وطن  عزیز کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں۔اسلام کے حقیقی پیغام کو پھیلانے میں ہمارے علمائے کرام پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس موقع پر اپنا کردار ادا کریں اور فرقوں میں بٹی قوم کو ایک پیغام اور ایک نصب العین پر اکٹھا کریں۔ دہشت گردی کے خاتمے اور فرقہ واریت کا مقابلہ کرنے کے لیے آپس کے اختلافات بھلا نے کی ضرورت ہے۔ ماضی میں فرقہ واریت پھیلانے میں اس ماہ میں دشمن قوتیں خاصی سرگرم رہی ہیں اور وہ ایسے کام کرتی رہیں،جن کی وجہ سے ایک عرصے تک فرقہ واریت کی آگ سلگتی رہی جسے بڑی مشکل سے ٹھنڈا کیا گیا۔ اب بھی ایسے عناصر یہ آگ بھڑکانا چاہتے ہیں تا کہ ملک کو کمزور کیا جا سکے۔

ہمیں اس ہجری سال نو کے موقع پر پاکستان کو نئے عزم اور ولولے کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا، ہمیں اسلامی روایات پر بہتر طریقے سے عمل پیرا ہو کر اسلام کے حقیقی پیغام کو اجاگر کرنے کا عہد کرنا چاہیے اور فرقہ واریت کی نفی کرنی چاہئے اور ملک میں امن و امان کے قیام کے لئے ہر ممکن حد تک اپنی کوشش جاری رکھنی چاہئے تا کہ امن و امان کا پودا تناور درخت بن سکے۔ اس ماہ میں شہادت حضرت اما م حسینؓ جو حقیقت میں اسلام کی فلاح، اسلامی اصولوں کی پاسداری اور اس قربانی کا نتیجہ ہے جس کی بدولت ہماری اسلامی تاریخ میں ایسے جانثار پیدا ہوتے رہے جنہوں نے ہمیشہ حق اور انصاف کا ساتھ دیا اور دین اسلام کی سربلندی کی خاطر جانوں کانذرانہ پیش کیا۔ یہ مہینہ ہمیں ظلم واستبداد کے سامنے ڈٹ جانے، اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کا سبق دیتا ہے اور فرقہ واریت کی نفی کرتا ہے اور ایسے عناصر کا قلع قمع کرنے کا بھی درس دیتا ہے جو مسلمانوں میں نفرت کا بیج بو کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

بحیثیت ِ قوم ہمیں ماہِ محرم کی حرمت اور اس میں ہمارے اسلاف کی دی جانے والی قربانیوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کرنا ہے کہ ہم اپنے وطن اور قوم کے تحفظ اور عالمِ انسانیت میں حق اور انصاف کے فروغ کی خاطر کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ہم اس بات کا عزم کرتے ہیں کہ ہم باہمی اتحاد و اتفاق سے ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے کام کریں گے اور مذہبی منافرت اور فرقہ واریت سے بالاترہو کرملک کو درپیش چیلنجوں کا سامنا کریں گے۔ جیسا کہ حال ہی میں پوری پاکستانی قوم نے مثالی نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے کورونا وائرس جیسی وبا پر قابو پایا، ہمیں آئندہ بھی  حفاظتی تدابیر پر عمل جاری رکھنا ہوگا۔ ماہ محرم چار حرمت والے مہینوں میں سے سب سے پہلا مہینہ ہے اور اسلامی سال کا آغاز بھی اسی مہینے سے ہوتا ہے۔آج ہماری نوجوان نسل کو یہ علم ہونا چاہئے کہ یہ سب سے پہلا مہینہ اور مہینے کی ابتدا دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق  ؓ کی شہادت سے ہوتی ہے۔

یعنی اس مہینے کی ابتدا میں ہی ہمیں سبق دیا جاتا ہے کہ اسلام کی خاطر کسی قربنانی سے دریغ نہیں کرنا اور اسلام کی سر بلندی کیلئے اپنی جان بھی دینی پڑے تو گریز نہیں کرنا۔ پھر دس محرم الحرام کو حضرت امام حسین ؓکی شہادت اسی کا تسلسل ہے جنہوں نے حق کی خاطر جان قربان کر دی اور اپنے خانوادے کو شہادت کے مرتبے پر فائز کر دیا لیکن جو غلط بات تھی اس کی پیروی نہ کی۔ ہمیں بھی اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے ان کے اسوہ کی پیروی کرنی چاہئے اور حقیقی معنوں میں اسلام کی سربلندی اور ملک کی ترقی و اتحاد کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہ کرنے کا عزم کرنا چاہئے۔اگر ہم یہ رویہ اپنائیں گے تو ان شاء اللہ فرقہ وارانہ عناصر کو کھیلنے کا موقع نہیں ملے گا جو ان کیلئے شکست فاش کا واضح پیغام ہو گا۔

مزید :

رائے -کالم -