شہاب الدین غوری نے لاہور کو خسرو ملک سے چھینا جو غزنوی خاندان کا آخری حکمران تھا

شہاب الدین غوری نے لاہور کو خسرو ملک سے چھینا جو غزنوی خاندان کا آخری حکمران ...
شہاب الدین غوری نے لاہور کو خسرو ملک سے چھینا جو غزنوی خاندان کا آخری حکمران تھا

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط (9)  

سومناتھ کے بت کدے سے بقول فرشتہ ”سلطان محمود کو جو اعلیٰ درجے کے جواہرات اور سونا چاندی ہاتھ لگا وہ اس قدر زیادہ تھا کہ اس کا دسواں حصہ بھی اس سے پہلے کسی بادشاہ کے خزانے میں جمع نہ ہو گا۔ تاریخ زین الماثر میں لکھا ہے کہ مندر کی وہ مخصوص جگہ جہاں سومناتھ کا بت رکھا ہوا تھا بالکل تاریک تھی اور وہاں جو روشنی پھیلی ہوئی تھی وہ دراصل اعلیٰ درجے کے جواہرات کی شعاعیں تھیں۔ یہ جواہرات سونے کی قندیلیوں میں جڑے ہوئے تھے۔ اسی تاریخ زین الماثر میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ سومناتھ کے خزانے سے سونے چاندی کے چھوٹے چھوٹے بت اتنی بڑی تعداد میں برآمد ہوئے کہ ان کی قیمت کا اندازہ تقریباً ناممکن ہے۔“ فرشتہ ہی کے بقول ”پجاریوں نے مندر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سونے کی ایک زنجیر باندھ رکھی تھی جس کا وزن سو من تھا۔“

شہاب الدین غوری کے ہندوستان پر حملے کا تعلق وسطیٰ ایشیاءکے سیاسی اتار چڑھاﺅ، نیز ان تبدیلیوں سے ہے جو وہاں توازن اقتدار میں آئے دن وقوع پذیر ہوتی تھیں۔ شہاب الدین غوری نے لاہور کو خسرو ملک سے چھینا جو غزنوی خاندان کا آخری حکمران تھا۔ لاہور پر قبضہ دراصل شاخسانہ تھا غوریوں اور غزنویوں کی باہمی رقابت اور سفاکانہ دشمنی کا۔ شہاب الدین غوری کے دو چچا غزنی کے حاکم بہرام شاہ کے ہاتھوں قتل ہو چکے تھے۔ ان کا بدلہ شہاب الدین غوری کے تیسرے چچا علاﺅ الدین جہاں سوز نے اس ظالمانہ انداز سے چکایا کہ تاریخ انسانی میں اس کی مثال شاذونادر ہی ملتی ہے۔ علاﺅ الدین نے غزنی کے شہر کو فتح کرنے کے بعد جوش انتقام میں اسے آگ لگا دی اور آبادی کے قتل عام کا حکم دیا۔ غزنوی خاندان کی قبریں کھدوا کر مردوں کی ہڈیاں تک نذرِ آتش کر دیں۔ اس کی تفصیل مشہور مسلمان مورخ اور عالم دین منہاج سراج نے اپنی کتاب ”طبقات ناصری“ میں اس طرح دی ہے۔ 

”سات دن اور سات راتیں شہر غزنی آگ کے شعلوں کی جو لانگاہ بنا رہا اور علاﺅ الدین نے اس سلسلے میں انتہائی ضد اور رعونت سے کام لیا۔ راوی کہتا ہے کہ سات دن رات تک دھوئیں کی کثرت سے فضا اس قدر تیرہ و تاریک ہو گئی تھی کہ دن، رات معلوم ہوتا تھا۔ رات کو آگ کے شعلے اس شدت سے بلند ہوتے تھے کہ خیال ہوتا تھا کہ دن نکل آیا ہے۔ اس مدت میں جبر، غارت گری اور کشت و خون کا سلسلہ بیدردی سے جاری رہا۔ مردوں میں سے جتنے ملے تہہ تیغ کیے، عورتیں اور بچے قید کر لیے گئے۔ 

”پھر علاﺅ الدین نے حکم دیا کہ خاندان محمود کے تمام بادشاہوں کی قبریں اکھاڑ کر مردے باہر نکالے جائیں اور انہیں بھی جلا دیا جائے، صرف سلطان محمود غازی، سلطان مسعود اور سلطان ابراہیم کی قبریں مستثنٰی قرار دی گئیں۔ غزنوی بادشاہوں کے محلوں میں علاﺅ الدین نے ایک ہفتہ شراب نوشی اور عیش و عشرت میں گزارا۔ 

”غزنی سے چلتے وقت حکم دیدیا تھا کہ چند سید ساتھ لے لیے جائیں تاکہ سلطان سوری (اپنے بھائی) کے وزیر سید مجد الدین موسوی کا بدلہ لیا جا سکے جسے سلطان سوری کے ساتھ پل کے ایک طاق پر لٹکایا گیا تھا۔ غزنی سے مٹی کے تھیلے بھر کر ان سادات کی گردنوں میں باندھ دئیے گئے۔ اسی طرح انہیں فیروز کوہ (غوریوں کے دارالخلافہ) لائے۔ پھر انہیں قتل کیا، ان کے خون سے غزنی کی مٹی گوندھی گئی اور فیروز کوہ کے پہاڑ پر اس سے چند برج بنائے گئے۔ چنانچہ طبقات کی ترتیب تک وہ برج موجود تھے۔“

تاہم کچھ عرصے کے بعد خسرو ملک کے امیروں نے ایک بار پھر غزنی پر قبضہ کر لیا۔ 567 ہجری میں جب اس شہر پر غوریوں کا ازسر نو قبضہ ہوا تو شہاب الدین غوری کے دل میں ہندوستان پر حملے کا خیال مچلنے لگا۔ اس کی وجہ واضح تھی۔ چونکہ لاہور اور ملتان غزنی کے حاکم کے تحت رہے تھے اس لیے اب وہ انہیں غزنی کے تخت و تاج کے نئے وارثوں کا حق سمجھتا تھا۔ فوج کشی کا کوئی نظریاتی مقصد مثلاً تبلیغ اسلام نہیں تھا بلکہ نام نہاد حق وراثت کا استعمال تھا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے شہاب الدین غوری نے کمرباندھی۔ اس وقت تک وسط ایشیا ءکے حملہ آور درہ گومل کے راستے ہندوستان آتے تھے۔ اس لیے لاہور پہنچنے سے پہلے ملتان اور اُ چ شریف پر قبضہ ضروری تھا۔ شہاب الدین نے پہلے ملتان اور اُچ کو فتح کیا اور اس کے بعد خسرو ملک کو شکست دے کر لاہور پر قبضہ کر لیا۔ اُچ پر ہندو راجہ حکمران تھا، ملتان قرامطہ کے قبضے میں تھا لیکن بیچارہ خسرو ملک تو راسخ العقیدہ مسلمان اور محمود غزنوی کے خاندان کا آخری چشم و چراغ تھا۔ اسے گرفتار کر کے گرجستان بھیج دیا گیا جہاں کچھ عرصہ بعد اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -