ہر اچھا کام مفید سرمایہ کاری بھی ہے،منافع کے ساتھ اسکی واپسی جلد یا بدیر لازم ہوتی ہے

ہر اچھا کام مفید سرمایہ کاری بھی ہے،منافع کے ساتھ اسکی واپسی جلد یا بدیر لازم ...
ہر اچھا کام مفید سرمایہ کاری بھی ہے،منافع کے ساتھ اسکی واپسی جلد یا بدیر لازم ہوتی ہے

  

تحریر: ملک اشفاق

قسط: 41

 اس مرحلے پر ایک اور سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر خوشی اچھائی کا صلہ ہے تو پھر خود اچھائی کیا ہے۔ ہم لوگوں کے برخلاف پرانے زمانے کے لوگوں کے لیے اس لفظ کا مطلب محض اخلاقی فضیلت نہیں تھا۔ وہ اس سے ہر قسم کی برائی مراد لیتے تھے۔ مثال کے طور پر یہ دیکھتے کہ ہماری رومانوی اخلاقیات کسی ہر جائی کو اچھا نہیں سمجھتی۔ مگر یونانیوں میں سے کوئی ہرجائی ہوتا تو اس کو فوراً ہی اچھا عاشق مان لیا جاتا کیونکہ اس کو اہل اور مستعد عاشق سمجھا جاتا۔ اسی طرح ایتھنز میں کسی بے رحم مگر اہل جنرل کو اچھے سپاہی کا درجہ مل جاتا۔ اصل تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں اچھائی ایک مذہبی اور اخلاقی اصطلاح ہے جبکہ یونانی زبان میں اس کا مترادف لفظ جنگ کے دیوتا کے نام سے اخذ شدہ ہے۔ خیر ارسطو کے فلسفے میں ایک اچھا شخص وہ ہے جو جسمانی توانائیوں کا حامل ہے، فنی مہارت رکھتا ہے اور ذہنی طور پر چاق و چوبند ہے۔ ارسطو نے ان تین خوبیوں پر مسرت کے تقاضے کی حیثیت سے ایک اور یعنی اخلاقی شرافت کا اضافہ کر دیا۔ گویا زندگی کے میدان جنگ میں ارسطو کے خوش باش سپاہی کے لیے اس ہمہ گیر فضیلت کی ضرورت تھی۔

ارسطو نے کئی پہلوﺅں والی اس فضیلت کا خلاصہ”درمیانی راہ“ کے اپنے مشہور عام نظریے میں پیش کر دیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اچھا شخص یا خوش باش شخص وہ ہے جو قابلِ تعریف طرزِعمل کی دونوں راہوں کے درمیان اصولِ اعتدال پر، یعنی درمیانی راہ پر چلتا ہے۔ وہ ایک ایسا شخص ہے جو مسرت کے لیے خطرات پیدا کرنے والے دونوں کناروں کو چھوڑکر درمیان میں سے گزرتا چلا جاتا ہے۔ ہر عمل، ہر تصور اور ہر جذبے میں کوئی شخص اپنے فرض سے بڑھ سکتا ہے یا فرض سے پیچھے رہ سکتا ہے یا پھر بالکل صحیح طریقے سے اپنا فرض ادا کر سکتا ہے۔ چنانچہ جب کوئی شخص دوسرے لوگوں کو اپنی چیزوں میں شریک کرتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ لٹاﺅ قسم کا شخص ہو۔ اس صورت میں اس کا طرز عمل اس کے فرض سے بڑھ کر ہوگا۔ اچھا اگر وہ کنجوس ہو تو پھر ہم کہیں گے کہ وہ اپنے فرض سے پیچھے رہ گیا ہے۔ لیکن اگر وہ دوسروں کو اپنی چیزوں میں شریک کرتے ہوئے اسراف سے کام لے اور نہ ہی کنجوسی سے بلکہ اس کا رویہ لبرل ہو یعنی وہ ان دونوں انتہاﺅں کے بین بین رہے تو پھر وہ اپنا فرض صحیح طور پر ادا کر رہا ہوگا۔ زندگی کے خطرات کا سامنا کرتے ہوئے کوئی شخص یا تو اجڈ مہم باز ہوتا ہے یا بزدل ہوتا ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ وہ بہادر ہوتا ہے۔ بھوک سے نمٹنے کے معاملے میں کوئی شخص پیٹو یا پرہیز گار ہو سکتا یا پھر وہ اعتدال پسند ہوتا ہے۔ ہر معاملے میں زندگی کا معقول طریقہ یہی ہے کہ نہ تو ضرورت سے زیادہ کی طرف مائل ہوا جائے اور نہ ہی مکمل پرہیز کیا جائے بلکہ درمیانی راہ منتخب کی جائے۔ اس درمیانی راہ کو منتخب کرنے والا جائز اور دانا انداز میں نارمل قرار پاتا ہے۔ اس کے شب و روز میں، اس کی سرگرمیوں میں، دوسروں لوگوں کے ساتھ اس کے تعلقات میں اور اس کے لین دین میں اعتدال ہوگا۔ مختصر یہ کہ وہ ہمیشہ اور ہر قسم کے حالات میں درمیانی راہ کے سنہری اصول پر کار بند ہوگا۔ یہی درمیانی راہ ہی حصولِ مسرت کی بہترین راہ ہے۔

 مسرت و شادمانی کی طرف لے جانے والا راستہ بتانے کے بعد ارسطو مثالی آدمی کا تذکرہ کرتا ہے جو کہ خوش ہونے کا سب سے زیادہ حق دار ہے۔ ارسطو کا یہ ”مثالی آدمی“ غیرضروری طورپر خطرات کو گلے نہیں لگاتا۔ تاہم جب کوئی بڑا مسئلہ پیدا ہو، آزمائش کا وقت آ جائے، کوئی آفت نازل ہو جائے تو پھر وہ میدان چھوڑ کر نہیں بھاگتا بلکہ ضرورت ہو تو جان دینے پر بھی آمادہ ہو جاتا ہے۔ وہ دوسروں کے کام آ کر خوش ہوتا ہے۔ لیکن دوسرے اس کے ساتھ مہربانی سے پیش آئیں تو اس کو شرم محسوس ہوتی ہے۔ بات یہ ہے کہ دوسروں کی مہربانی حاصل کرنے میں کمتری شامل ہے۔ ارسطو کے اس مثالی آدمی کی بے غرضی ایک اعلیٰ تر قسم کی خود غرضی ہے۔ مہربانی کا کوئی کام کرنا ایثار ذات یا قربانی نفس نہیں بلکہ ایک قسم کی خود حفاظتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ انسان انفرادی ذات نہیں بلکہ سماجی ذات ہے۔ علاوہ ازیں ہر اچھا کام مفید سرمایہ کاری بھی ہے۔ منافع کے ساتھ اس کی واپسی جلد یا بدیر لازم ہوتی ہے۔لہٰذا مثالی آدمی ایثار پیشہ ہوتا ہے۔ دوسروں کا خیال رکھتا ہے۔ وہ دوسروں کو برا بھلا نہیں کہتا۔ یہاں تک کہ اپنے دشمنوں کی برائی بھی نہیں کرتا۔ وہ کینہ پرور نہیں ہوتا۔ دوسروں سے عداوت نہیں رکھتا۔ نہ ہی انتقام کی آگ میں جلتا رہتا ہے۔ اس کے بجائے وہ زخموں کو بھول جاتا ہے۔ مختصر یہ کہ وہ دوسروں کا اچھا دوست ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنا بہترین دوست ہوتا ہے۔(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -