کانگریس نے 1935میں  ایسی اصطلاحات جاری کیں جس سے مسلمانوں کے حقوق ختم کردیئے گئے

کانگریس نے 1935میں  ایسی اصطلاحات جاری کیں جس سے مسلمانوں کے حقوق ختم کردیئے ...
کانگریس نے 1935میں  ایسی اصطلاحات جاری کیں جس سے مسلمانوں کے حقوق ختم کردیئے گئے

  

 تحریر : پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی

قسط (11) 

مسلمانوں نے 1977ءکے انتخابات میں جنتا پارٹی کو ووٹ دیئے تاکہ وہ مسلمانوں کے کچھ کام آسکے مگر مایوسی ہوئی۔1980ءمیں اندرا گاندھی کو ووٹ کے ذریعے برسراقتدار لائے۔ ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ مسلمانوں کی اقتصادی حالت کو بدلا جائے گا۔ کانگریس گورنمنٹ مسلمانوں کی اقتصادی حالت کو ضرور مستحکم کرے گی۔ اندراگاندھی نے 1980ءمیں ایک کمیٹی اقلیتوں کے اقتصادی مسائل اور ان کا حل تلاش کرنے کےلئے بنائی تھی۔ ڈاکٹر زکریا اس کے سربراہ تھے جبکہ گوپل سنگھ چیئرمین تھے۔ 4 سالہ تحقیقی منازل طے کرنے کے بعد رپورٹ تیار ہوئی تو اس رپورٹ پر کسی نے توجہ نہ دی اور مسلمانوں کی حالت اندر ہی اندر کمزور ہوتی گئی۔ اندراگاندھی نے آرڈ پاس کیا کہ ایسی تحقیق کو بند کردیا جائے اور ساتھ یہ لکھا کہ گزری ہوئی باتوں کا جائزہ لینا اچھی بات نہیں۔اگر مسلمانوں کی حالت ابتر ہے تو بہتر ہونے کےلئے کیا طریقے ہیں وہ تحریر کریں۔

 رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ مسلمانوں کو سول سروس کے علاوہ زندگی کے دوسرے عوامل میں بھی جان بوجھ کر اقتصادی طور پر پیچھے رکھا جارہا ہے مثلاً ”کاشتکاری اور دوسرے دیہی ترقیاتی پروگرام میں بھی مسلمانوں کےلئے کوئی گنجائش نظر نہیں آتی ۔ڈاکٹرزکریا لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کا حصہ5فیصد سے زیادہ آتا ہے مگر ان کوان کے حق سے محروم رکھا جارہا ہے۔ کوآپریٹو سیکٹر میں بھی کسی قسم کا کوئی بھی فائدہ نہیں مگر2فیصدمسلمانوں کو کوآپریٹو سوسائٹی میں فائدہ ملتاہے بلکہ شیڈول کاسٹ کویہ فائدہ 5.70 فیصد ملتا ہے۔

 دیہی صنعتوں کے پروگرام میں بہت ہی خفیف حصہ مسلمانوں کو2.70فیصد ملتا ہے جبکہ شیڈول کاسٹ کو2.25فیصد آتا ہے۔ یہی حال بینکوں میں سے قرضوں کے سلسلہ میںہے۔مسلمانوں کو قرضے نہیں ملتے اگرملتے ہیں تو وہ بھی9.41فیصد ملتے ہیں اور ان قرضوں کی واپسی بھی دوسرے لوگوں کی نسبت جلدی ہوتی ہے۔ کسی ہاﺅسنگ سکیم میں بھی مسلمانوں کو فائدہ نہیں ہو رہا ۔ مڈل کلاس گروپ 2.81 فیصد جبکہ شیڈول کاسٹ کو7.65 فیصد سہولت میسّرہے۔ڈاکٹر زکریامسلمانوں کی بھیانک اقتصادی تصویر کو بیان کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ معاشی ناانصافی ہے اور جان بوجھ کر مسلمانوں کی اقتصادی پوزیشن کو آہستہ آہستہ مزید کمزور بنایا جارہا ہے تاکہ وہ غریب سے غریب تر ہوں اور پریشانی میں زندگی گزاریں ۔ ڈاکٹر زکریا جیسے لوگ جو پرانے کانگریسی ہیں۔ وزیر رہ چکے ہیں ان کی یہ خاص علم و فکر والی تجویزیں 1984ءسے لے کر آج تک مٹی کے ڈھیر کے نیچے پڑی ہیں۔

 میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی اقتصادی ناہمواری غلط فہمی کا حصہ نہیں بلکہ یہ ہندو کی اقتصادی سکیم کا حصہ ہے جو تقسیم ہند سے پہلے تھی۔ قائداعظمؒ خود کانگریس میں رہے۔ انہوں نے بڑا وقت گزارا وہ ہندومسلم اتحاد کے پیمبر تھے۔ انہیں جب اندرونی سازشوں کا علم ہوا تو انہوں نے کانگریس کو چھوڑ کر مسلمانوں کو جگانے کےلئے اپنی اولوالعزمی کا ثبوت دیا اور مسلم لیگ کی قیادت سے پاکستان حاصل کیا۔

 ہندوستان کی اونچی سروس کااندازہ لگانا ہے تو یہ رپورٹ حاضر ہے۔1980ءمیں گورنمنٹ آف انڈیا کے230جوائنٹ سیکرٹریزتھے جن میں صرف 3مسلمان تھے۔67 ایڈیشنل سیکرٹریز میں سے صرف ایک مسلمان تھا اور54سیکرٹریزمیں سے صرف 2 مسلمان تھے۔اسی طرح73پبلک سیکٹرز میں481ڈائریکٹرز تھے جن میں سے صرف5مسلمان تھے۔ 22بینکوں میں99ڈائریکٹرز تھے۔ ان میں سے 10 مسلمان تھے۔اب ان ساری باتوں کا وجود ہمیں قیام پاکستان تک لے جاتا ہے۔ قائداعظم ؒ نے متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کی صورتحال کا صحیح اندازہ لگایاکہ ہندوستان کے مسلمانوں کی بقاءایک علیٰحدہ مملکت میں ہے۔ 

 1935 میں کانگریس حکومت نے چند صوبوں میں نمایاں اکثریت حاصل کی ان میں سے 6 صوبو ں میں کانگریس نے وزارتیں بنائیں۔کانگریس کے وزیروںنے ہندو مہاسبھاکے مسلک پرچل کرمسلمانوں کی زندگی کو ناممکن بنانے کی کوشش کی۔ایسی اصطلاحات جاری کیں جس سے مسلمانوںکے حقوق ختم کردیئے گئے۔مثلاًہندی زبان شروع کر دی کیونکہ اُردو مسلمانوں کی زبان ہے اور قرآن پاک کے حروف میں لکھی جاتی ہے۔

 ”بندے ماترم“ مشہور بنگالی گیت کو قومی ترانہ قرار دیا گیا۔ یہ ایک متعصّب بنگالی مصنف کے ناول”انندمٹھ“سے لیا گیا۔اسکے گیت کے36مصرعوں میں سے28 مصرعے سنسکرت زبان میں تھے۔ یہ بندے ماترم مسلمان دشمنی پرمبنی تھا اور مسلمانوں کے بچوں کو مصنوعی قومی ترانہ گانے پر مجبور کردیا گیا۔”ودیا مندرسکیم“ شروع کی گئی جس سے ہندﺅوں کی تہذیب اور ثقافت کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس سکیم کو مسلمانوں پر رائج کیا گیا اور دیگر مسلمانوں کی اقتصادی پوزیشن کو نقصان پہنچانے میں لگ گئے۔ یہ مسئلہ بڑا اہم تھا۔ جس کی بنیاد پر پاکستان کامطالبہ شروع ہوا اور قائداعظمؒ نے مسلمانوں کو بتایا کہ آپ کی نجات علیٰحدہ وطن میں ہے۔آپ کا اپنا نظام اور اپنی سلطنت ہو گی۔جس میں آپ ترقی کریںگے۔اپنے ملک کو عالی شان صورت دیں گے۔ڈاکٹرزکریا نے ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی بے انصافیوں کو بیان کرکے قائداعظمؒ کی پیش گوئی کو ثابت کردکھایا ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ کانگریس کے بہت بڑے مسلمان رہنما نے حقیقت پسندی کا ثبوت دیا ہے۔ اُمید ہے کہ باقی ناانصافیوں کا ذکر بھی کریں گے تاکہ ہماری نسل کو علم ہو جائے کہ مسلمانوں کے لیے علیٰحدہ وطن کتنا ضروری تھا۔ورنہ آج ہماری حالت بھی ہندوستان میں ان مسلمانوںکی طرح ہوتی۔ نہ ہماری قومی ہاکی ٹیم،کرکٹ اورسکوائش کی ہوتی،نہ ہمارے سیاستدان ہوتے اور نہ مسلمانوں کا بڑا نام ہوتا۔آج اگر ہمارا بڑا نام ہے تو وہ پاکستان کی وجہ سے ہے۔ اگر پاکستان نہ ہوتا تو راقم ایک کمپاﺅنڈر بھی نہ ہوتا۔ پاکستان متاع عزیز ہے۔ اس کی حفاظت اس سے محبت سب کا فرض ہے۔ یہ مٹی ہماری ماں ہے۔ یہ ہماری آن ہے ، شان ہے۔ اس کی تابعداری کرنا اس کو سنبھالنا ہم سب کا کام ہے۔ اپنی ذات کو ہٹائیں ماں کی مٹی کو استوار کریں۔ لوگوں کے کام آئیں، مال و دولت کو چھوڑیں تو پھر پاکستان مضبوط ہو گا۔ ہم سب مضبوط ہوں گے۔

پاکستان زندہ باد....قائداعظم زندہ باد

 ( جاری ہے ) 

کتاب ”مسلم لیگ اورتحریکِ پاکستان“ سے اقتباس (نوٹ : یہ کتاب بک ہوم نے شائع کی ہے، ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔ )

مزید :

بلاگ -