جنوبی ہندوستان کے مسلمانوں نے نظریۂ آزادی کےلئے بے پناہ قربانیاں دیں

جنوبی ہندوستان کے مسلمانوں نے نظریۂ آزادی کےلئے بے پناہ قربانیاں دیں
جنوبی ہندوستان کے مسلمانوں نے نظریۂ آزادی کےلئے بے پناہ قربانیاں دیں

  

 تحریر : پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی

قسط: 12 

مجھے بین الاقوامی ڈینٹل کانفرنس میں شرکت کرنے اور مقالہ پیش کرنے کےلئے مدراس جانا پڑا۔ وہاں پر میں نے اپنا تحقیقی مقالہ پڑھا جو دانتوں کی حفاظتی امور کے بارے میں تھا۔ اس سیمینار میں ہندوستان کے مرکزی اور صوبائی سطح کے اور ریاستوں کے چوٹی کے محققین اور ڈینٹل سرجن آئے ہوئے تھے۔ کچھ ان میں اعتدال پسند تھے اور کچھ کٹر متعصّب نظر آرہے تھے۔میرا ایک طریقہ یہ ہے کہ میں کسی مقالے کو پیش کرنے سے پہلے مضمون سے مختلف5 سلائیڈ دکھاتا ہوں۔ چوتھی سلائیڈ میرے قائدکی ہوتی ہے۔ جس کی رہنمائی میں ہم نے علیٰحدہ وطن حاصل کیا۔ پانچویں اور آخری سلائیڈ مملکت پاکستان کی ہوتی ہے جو جغرافیائی پوزیشن ظاہر کرتی ہے۔ ایسا کرنا میری ثقافت اور فکر اور نظم و ضبط کاحصہ ہے۔ آخری سلائیڈ دکھانے پر کچھ بھارتی ہندو پروفیسرز نے بگڑنے کی کوشش کی کہ پاکستان کی سلائیڈ میں کشمیر کا متنازعہ حصہ دکھایا گیا۔ مجلس میں خلل ڈالنے کی کوشش کی مگر چیئرمین نے معاملہ طے کر دیا۔یہا ںپر آل انڈیا پوسٹ گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ دہلی کے ڈین وپروفیسر ایس ایس سندھوبھی موجود تھے۔جنہوں نے مجھے اپنے انسٹی ٹیوٹ میں آنے کی دعوت دی کہ میں بین الاقوامی سیمینارسے خاتمے پر جب دہلی آﺅں تو ان کے انسٹی ٹیوٹ میں بھی پوسٹ گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ کے طلباءاور ڈینٹل ڈاکٹروں کو لیکچردوں۔میںنے حامی بھرلی انہوں نے مجھے فون نمبر دیا تاکہ میں اُن سے رابطہ کرسکوں چنانچہ دہلی میں آنے کے بعد میرا لیکچر رکھا گیا۔ شاید پہلا پاکستانی ہوں جس نے اتنے بڑے ادارے میں خطاب کیا۔

 برصغیر کے مسلمانوں نے خاص طور پر ساﺅتھ ہندوستان کے لوگوں نے نظریۂ  آزادی کےلئے بے پناہ قربانیاں دیں۔ حالانکہ ان کو معلوم تھا کہ ہندﺅوں کی مخالفت کرنے کے بعد وہ پولیس کی لاٹھیاں کھائیں گے۔مجھے یہ علم تھا کہ مدراس میں مسلمان زیادہ متحد مسلم لیگی ہیں محمد رضا جنہوں نے برصغیر کی آزادی کے متعلق ایک بڑی عمدہ کتاب لکھی ہے” آزادی کی کیا قیمت ہے“ وہ قائداعظمؒ کے شیدائی تھے۔ ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہ رہے تھے۔ وہ سابق ممبر لےجسلیٹو اسمبلی بھی رہ چکے ہیں۔ میں ان سے ملنے گیا تاکہ ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کروں۔ وہ بڑے عمدہ انسان تھے۔ ان کے ہاتھ چومے ، ان ہاتھوں سے انہوں نے ایک اعلیٰ کتاب لکھی جو قائداعظمؒکی بڑائی بیان کرتی ہے جس مسلمان ڈاکٹر پروفیسر نے مجھے مدراس مدعو کیا ہوا تھاوہ بھی ایک فلیٹ میں مقیم تھا۔ وہ پروفیسر ڈینٹل سرجن تھا۔ ان کے پاس 4کرسیاں بھی نہیں تھیں۔ان کی کاردھکا سٹارٹ تھی۔وہ مدراس میں واحد مسلمان پروفیسر تھے۔ اقتصادی طور پر وہاں مسلمان نہایت کمزور نظر آئے۔ مسلمانوں کا ایک کالج تھا، میں نے اظہار کیا کہ اس کالج میں جا کر نماز پڑھنا چاہتا ہوں۔جب میں کالج پہنچا تو کالج کے پرنسپل عبدالودود خان کھڑے ہوگئے۔ میرا استقبال مسلمانوں کی سوچ کے خلاف ہاتھ باندھ کر کیا کہ ”مہاراج آئیے “ ۔میں نے سلام کیا اور خواہش ظاہر کی کہ مجھے آپ کے کالج میں نماز پڑھنے کی سعادت چاہئے۔ انہوں نے مجھے جائے نمازپرنسپل آفس میں بچھادی۔نمازادا کی، پرنسپل آفس بھی معمولی قسم کا دفتر تھا۔ مسلمان اساتذہ کے چہروں سے خوشی کی بجائے مایوسی ٹپک رہی تھی۔میں نے کالج کی سیر کی،لیکچر روم لیبارٹری لائبریری اوردفاتر دیکھے۔سب کے سب غیر معیاری پائے گئے۔ مسلمانوں کے ہر کالج میں ایسا ہی حال ہے۔ کیونکہ ہندو اکثریت کی جماعت کانگریس بجٹ بناتی ہے۔مسلمانوں کےلئے رقم کم رکھی جاتی ہے۔ بجٹ کی عدم ادائیگی یا کمی میں تعلیمی اداروں کی سب سرگرمیاں ختم ہوجاتی ہیں یا مدھم پڑجاتی ہیں۔میں نے کئی طلباءسے تبادلہ خیال کیا اور ان کے مستقبل کے بارے میں سوال کیے ۔ سرکاری نوکری کے متعلق پوچھنا چاہا تو وہ جواب دینے سے قاصر رہے۔ ایک دوسرے کے منہ کو دیکھنے لگے۔ انہوں نے مختصر سی مایوسی کی آڑ میں مجھے بتایا کہ اگر ہم ایم اے کرلیں تو ہمیں معمولی سی نوکری بڑی کوشش کرنے کے بعد ملتی ہے۔ہمارا راستہ ہر طرح سے ہندﺅوں نے روک رکھا ہے۔ ہماری ترقی کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔ اگر ہم کسی پرائیویٹ ادارے میں نوکری کرنا چاہیں یا ٹیچر بننا چاہیں۔ ہماری تعلیم ایم اے ہو تو تنخواہ ڈیڑھ سو روپے ماہانہ ملتی ہے اور اس کے برعکس ہندﺅ ٹیچر کی تنخواہ ساڑھے سات سو روپے ہے ۔ ہم نے اسی طرح جینا ہے۔ سرکاری ملازمت سے ہم مایوس اور بددل ہیں۔ کیونکہ کانگریس اور ہندو مہاسبھا مل کر سرتوڑ کوشش کرتے ہیں کہ مسلمان کو اصولی طور پر آسانی میسّر نہ آئے۔جس طرح ہندو اور انگریز نے مسلمانوں کےلئے سرکاری نوکری کے دروازے بند کر رکھے تھے۔ہندو کے مسلّمہ اصول ہیں۔وہ ان پرڈٹے ہوئے ہیں۔ہم ہمت سے ان حالات کا مقابلہ کررہے ہیں اور مشکلات کو ہم نے گلے لگایاہواہے۔ 

 ہمیں یہ خوشی ہے کہ14اگست1947ءکو پاکستان معرضِ وجود میں آگیا۔ پاکستان کے مسلمان ہر میدان میں ترقی کررہے ہیں اور ہر لحاظ سے ہمارے لیے فخر کا باعث ہیں۔ہماری قسمت دیکھتے ہیں کہ یہ سلسلہ کب تک چلتا ہے۔ جو مسلمان کارخانہ دارتھے وہ سکڑتے جارہے ہیں کیونکہ ان اداروں کی پیداوار فروخت نہیں ہوتی ۔ایک عزیز نے بتایا کہ وہ سائنس کے اوزاروں کا کارخانہ چلاتے تھے۔ان کی پیداوار اچھی تھی۔فروخت اچھی ہو رہی تھی۔تعلیمی اداروں میں انسٹی ٹیوشن میں ایڈیٹر متعصّب ہندو ہیں اور وہ تعلیمی اداروں پر اعتراض کرتے ہیں کہ تمہیں کسی ہندو کارخانے کی پیداوار کا علم نہیں۔اس لیے ہمارے کارخانے کی مشینری اور اوزار بیکار رہتے ہیں اور ہم کارخانے بند کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں اگر کارخانہ کسی مسلمان کا چل رہا ہے تو نوجوان ہندواسے لوٹنے اور آگ لگانے آجاتے ہیں۔ہماری نقل و حرکت کو مشکل بنایا جارہا ہے۔ہمیں اقتصادی طور پرپیچھے رکھا جارہا ہے۔ یہی سلسلہ مشرقی بنگال میں انگریزوں نے کیا تھا۔1757ءمیں مسلمانوں سے انگریز نے حکومت لی تھی۔ بھارت ہماری برآمدات کو پھلنے پھولنے نہیں دیتا۔ہماری پوری کی پوری معیشت ہندوﺅں کے ہاتھوں میں ہے۔پہلے بھی ہندو کارخانے دار تھے۔ تاجر اور اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ اب بھی ہیں، وہ ہماری تجارت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ 

 جب میں دہلی پہنچا تو آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ ایک وسیع ادارہ ہے۔ جس میں سارے ہندوستان کے دور دراز کے ڈاکٹر، ڈاکٹریٹ کی ماسٹر ڈگری کی تعلیم حاصل کرنے کےلئے آتے ہیں۔صرف ایک مسلمان سارے انسٹی ٹیوٹ میں پروفیسر صدیقی تھا۔ ان سے میراتعارف بطور پاکستانی سکالر کروایا گیا وہ گرم جوشی سے ملے۔پروفیسر صدیقی سے باتوں باتوں میں یہ سوال پوچھا کہ آپ کے پاس کون سی کار (گاڑی ) ہے؟ انہوں نے نہایت معصوم انداز میں کہاکہ ہمیں کار کی ضرورت نہیں پڑتی ہم بسوں میں سفر کرلیتے ہیں۔ دیکھئے پروفیسر کے مالی وسائل محدود ہیں جس کی وجہ سے ان کےلئے کار لینا ناممکن ہے۔ ہمارے ہاں ایک ڈاکٹر کے ہاں چار چار کاریں ہیں۔ مجھے لیکچر میں کوئی پوسٹ گریجویٹ مسلمان ڈاکٹر نظر نہیں آیا۔ ہندو اور سکھ ہی تھے جو مجھ سے سوال کرتے اور بات چیت بھی کرتے رہے۔معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ مسلمانوں کی مالی حالت اتنی کمزور ہے کہ وہ کسی صورت میں تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے۔ ( جاری ہے ) 

کتاب ”مسلم لیگ اورتحریکِ پاکستان“ سے اقتباس (نوٹ : یہ کتاب بک ہوم نے شائع کی ہے، ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔ )

مزید :

بلاگ -