میرے لئے اپنے چہرے کی بناﺅ سنگھار کے سامان سے زیبائش کرنا ایک پُر لطف سرگرمی تھی

 میرے لئے اپنے چہرے کی بناﺅ سنگھار کے سامان سے زیبائش کرنا ایک پُر لطف ...
 میرے لئے اپنے چہرے کی بناﺅ سنگھار کے سامان سے زیبائش کرنا ایک پُر لطف سرگرمی تھی

  

مترجم:علی عباس

قسط: 43

اپنی زندگی کے اس موڑ پر میں شعوری اور لاشعوری طور پر کچھ تلاش کر رہا تھا۔اب میں نوجوان تھا اور کچھ دباﺅ اور وسوسوں کا شکار تھا کہ میں اپنی زندگی کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہوں۔ میں اپنے مواقع کا جائزہ لے رہا تھا اور فیصلے کرنے کی تیاری کر رہا تھا جس کے بہت سارے ردِعمل ہو سکتے تھے۔’ ’ دی وِز“ کے سیٹ پر ہونا ایک بڑے سکول میں زیرِ تعلیم ہونے کے مانند تھا۔ میری رنگت تاحال خراب تھی چنانچہ فلم میں کام کرنے کے دوران میں حقیقتاً بناﺅ سنگھار کے عمل سے لطف اندوز ہوا۔ یہ بناﺅ سنگھار کی ایک خوش کُن سرگرمی تھی۔ میں اسے کرنے میں 5 گھنٹے لگاتا تھا اور ایسا مجھے ہفتے کے 6 روز کرنا ہوتا تھا: ہم اتوار کو شوٹنگ نہیں کرتے تھے۔ ہم نے بالآخر خاصی طویل شوٹنگ کے بعد اسے پورے4 گھنٹے کے دورانئے میں سمیٹ لیا تھا۔ دوسرے لوگ جو بناﺅ سنگھار کراتے، وہ حیران ہوتے کہ میں وہاں اتنے گھنٹوں تک بیٹھنے کا بُرا نہیں مناتا تھا۔ وہ اس سے نفرت کرتے تھے لیکن میرے لئے اپنے چہرے کی بناﺅ سنگھار کے سامان سے زیبائش کرنا ایک پُر لطف سرگرمی تھی۔ جب میں "Scarecrow"کے کردار میں تبدیل ہو جاتا، یہ میرے لئے دنیا کی سب سے خوبصورت چیز ہوتی۔ میں اپنی ذات کے خول سے باہر نکل کر کچھ اور بن جاتا۔ بچے سیٹ پر آتے تھے اور میں اُن کے ساتھ مستیاں کیا کرتا اور انہیں ایک "Scarecrow"کی طرح جواب دیتا۔

میں نے خود کو فلموں میں ہمیشہ شاندار کردار ادا کرتے ہوئے تصور کیا تھا لیکن نیویارک میں میرا بناﺅ سنگھار، کاسٹیوم اور معاونت پر مامور لوگوں کے ساتھ کام کا یہ اولین تجربہ تھا جس سے مجھے فلم بنانے کے عمل کے اس دوسرے شاندار پہلو کے بارے میں ادراک ہوا۔ میں ہمیشہ چارلی چپلن کی فلموں کا قدر دان رہا ہوں اور اُسے خاموش فلموں کے دور میں کبھی کسی نے اداکاری کی متعین حدود سے باہر نکلتے ہوئے نہیں دیکھا۔ میں اُس کے کرداروں کی چنداں خصوصیات اپنے "Scarecrow" میں منتقل کرنا چاہتا تھا۔ مجھے رسی کی ٹانگوں سے ٹماٹر کے ناک اور خوفزدہ کر دینے والی وگ تک اپنے لباس کی بابت ہر چیز پسند تھی۔ حتیٰ کہ میں نے سفید جرسی پہنی ہوتی اور مالٹے پکڑے ہوتے جو مجھے اپنے کاسٹیوم کے ساتھ ملتے تھے اور برسوں بعد میں نے یہ انداز ایک فوٹو سیشن میں بھی اختیار کیا تھا۔

فلم شاندار تھی، اس میں پیچیدہ ڈانس نمبرز شامل تھے اور اُنہیں سیکھنا کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن یہ میرے ساتھی فنکاروں کےلئے غیر متوقع مسئلہ بن رہا تھا۔

جب میں ابھی ایک بچہ تھا، میں کسی شخص کو ناچتے ہوئے دیکھتا اور فوری طور پر یہ جان جاتا کہ اُس نے یہ کیسے کیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک دوسرے شخص کورقص کی تمام حرکات کے بارے میں بتایا جاتا اور کہا جاتا کہ وہ ان کی گنتی کرے اور اپنی ٹانگ کو یہاں رکھے اور کولہے کو دائیں طرف کرے۔ جب کولہا بائیں جانب حرکت کرے تو اپنی گردن کو اس طرف موڑنا ہے۔۔۔ یوں انہیں اس بارے میں بتایا جاتا لیکن اگر میں اُسے دیکھوں تو اُسے کر سکتا ہوں۔

ہم جب ’ ’دی وز“ میں کام کر رہے تھے تو مجھے اپنے ساتھی فنکاروں ٹِن مین، لائن اور ڈیانا روز کے ہمراہ کوریوگرافی کے بارے میں ہدایات دی گئی تھیں۔۔۔ اور وہ مجھ پر چڑھ دوڑے تھے۔ میں یہ نہیں بتا سکتا تھا کہ کیا غلط ہوا ہے تا وقتیکہ ڈیانا مجھے ایک طرف لے گئی اور بتایا کہ میں اُسے پریشان کر رہا ہوں۔ میں حیرت سے اُسے تکنے لگا۔ ڈیانا روز کو پریشان کیا ہے؟ میں نے؟ اُس نے کہا کہ وہ جانتی ہے کہ میں اس کے بارے میں آگاہ نہیں تھا لیکن میںرقص بہت زیادہ خاموشی سے سیکھ رہا تھا۔ یہ اُس کے لئے اور دوسروں کےلئے پریشان کُن تھا جو کوریوگرافر کو محض دیکھ کر ہی رقص نہیں سیکھ سکتے تھے۔کوریوگرافر نے کہا کہ وہ ہمیں کوئی چیز دکھانا چاہتا ہے اور میں یہاں سے باہر نکلوں اور یہ کروں۔ جب اُس نے دوسروں کو یہ کرنے کا کہا، تو سیکھنے میں زیادہ وقت صرف ہوا۔ ہم اس کاذکر کرکے مسکرا دیئے لیکن میں نے پُرسکون رہنے کی کوشش کی کیونکہ یوں میں نے رقص کے سٹیپ جلدی سیکھ لئے تھے۔

 اکثر جب میں کیمرے کے سامنے سنجیدہ منظر فلمبند کرانے کی کوشش کر رہا ہوتاتو دوسرے کرداروں میں سے کئی میری طرف دیکھ کر منہ چڑانے لگتے۔ وہ مجھے ہنسانے کی کوشش کیا کرتے۔ میں نے یہ بھی سیکھا کہ یہ فلم بنانے کے کاروبار کا خفیف طرح پر بدنما رخ ہو سکتا ہے۔ میں نے ہمیشہ پیشہ ورانہ متانت اور ہمہ وقت چوکس رہنے کا مظاہرہ کیا اور اس لئے میں نے سوچا کہ یہ فضول حرکت تھی۔ وہ اداکار آگاہ تھا کہ میں نے آج کچھ اہم مکالمے ادا کرنے تھے، اس کے باوجود اُس نے پاگلوں والے چہرے بنا کر میری توجہ ہٹانے کی کوشش کی۔ میں نے اسے خود غرضی اور بیہودگی سے کچھ زیادہ خیال کیا۔)جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -