ارسطو نے ادب کی ماہیئت دریافت کرنے اور اس پر جامع و مکمل رائے دینے کےلئے تجزیاتی اور منطقی طریقہ کار اختیار کیا

ارسطو نے ادب کی ماہیئت دریافت کرنے اور اس پر جامع و مکمل رائے دینے کےلئے ...
ارسطو نے ادب کی ماہیئت دریافت کرنے اور اس پر جامع و مکمل رائے دینے کےلئے تجزیاتی اور منطقی طریقہ کار اختیار کیا

  

تحریر: ملک اشفاق

قسط: 42

 بوطیقا(Poetics)

 افلاطون نے اپنی کتاب جمہوریہ میں جو اعتراضات شعر و شاعری پر کئے تھے۔ ان کا ذکر ہو چکا ہے۔ افلاطون کے زمانے تک یونانی زبان میں بہت سا ادب تخلیق ہو چکا تھا۔ یونانی لوگ ہومر کی ”ایلیڈ“ اور ”اوڈیسی“ کو بلند پایہ ادبی تخلیقات تصور کرتے تھے اور حقیقت بھی یہی تھی۔ اس کے علاوہ بہت سے ڈرامہ نگاروں نے اعلیٰ درجے کے حزنیہ اور طربیہ ڈرامے تصنیف کئے تھے۔ جن کو سال بہ سال سٹیج کیا جاتا تھا۔یہ لوگوں کی ذہنی نشوونما اور تفریحِ طبع کا بہت بڑا سامان تھا۔ تاہم افلاطون کے پائے کے فلسفی اور سیاست دان کا شعر و شاعری کو حقارت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھنا اور اسے تیسرے درجے کی نقالی قرار دینا علمیاتی نقطہ نگاہ سے اس فن کےلئے یقینا مہلک ثابت ہو سکتا تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ شاعری پر مخرب اخلاق ہونے کے سنگین الزام نے تو اس کے وجود کو اور بھی خطرے میں ڈال دیا تھا۔ ایسے حالات میں افلاطون کے اعتراضات کا جواب دینے، شاعری کا دفاع کرنے اور اس کے چہرے سے تمام بدنما دھبے دھو ڈالنے کےلئے خود افلاطون ایسا رتبہ رکھنے والے فلسفی کی ضرورت تھی۔ قدرت نے اس سلسلے میں کسی تاخیر سے کام نہیں لیا بلکہ اس عظیم خدمت کو انجام دینے کےلئے خود افلاطون کے نامور شاگرد ارسطو کو متعین کر دیا۔ ارسطو نے افلاطون سے تعلیم و تربیت حاصل کی تھی۔ اسے افلاطون کے جن نظریات سے اختلافات تھا ان میں سے ایک اس کا نظریہ ادب بھی تھا۔ چنانچہ ارسطو نے ”حزنیہ“ پر ایک جامع کتاب تصنیف کی جس میں اس نے اس فن کی ماہیئت پر روشنی ڈالی۔ اس کے مختلف پہلوﺅں کو اجاگر کیا اور ضمناً افلاطون کے اعتراضات کے جوابات دیئے۔

 چونکہ ارسطو بنیادی طور پر ایک فلسفی تھا اور اسے منطق میں مہارت حاصل تھی۔ اس نے ادب کی ماہیئت دریافت کرنے اور اس پر ایک جامع و مکمل رائے دینے کےلئے تجزیاتی اور منطقی طریقہ کار اختیار کیا۔ اس نے بڑے بڑے فن پاروں کا بنظرِ غائر مطالعہ کیا۔ شعر و شاعری کی اصناف میں بحیثیت خصوصیات امتیاز کیا۔ ہر صنف کا تجزیہ کرکے اس کی خصوصیات بیان کیں۔ ان کی نوعیت و ماہیت پر گراں قدر افکار پیش کئے اور ان کے عیوب و محاسن کا احاطہ کیا۔ شعر و شاعری پر اس کی صرف ایک تصنیف ہم تک پہنچی ہے۔ دوسری تصنیف جو طربیہ پر تھی دستبردِ زمانہ کی نذر ہوگئی۔ اس تصنیف میں اس نے حزنیہ یا المیہ ڈرامے پر بحث کی ہے۔ اس کا نام’ ’بوطیقا“(Poetics) یعنی شعر و شاعری کے فن کا علم ہے۔ گویا یہ کتاب ارسطو کے تصورِ المیہ کو پیش کرتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ حزنیہ پر بحث کرتے ہوئے ارسطو نے تمام شعر و شاعری کی ماہیت پر روشنی ڈالی ہے۔ اس کے افکار کا اطلاق تقریباً تمام تخیلی ادب پر ہوتا ہے۔ اس نے حزنیہ ڈرامے پر مخصوص بحث سے جو عام نتیجے نکالے ہیں وہ آج تک بھی علم تنقید کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ان افکار کی تشریح و تعبیر ہر زمانے میں خاص حالات اور خاص ماحول کے مطابق ہوتی آئی ہے۔ جدید زمانے کے نقادوں نے ارسطو کے افکار کو نہایت دقت نظر اور جدت طبع کے ساتھ جانچ پرکھ کر ان پر سیر حاصل تبصرے سپرد قلم کئے ہیں۔ بوطیقا پر تنقیدی تصنیفات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کتاب کی اہمیت تقریباً اڑھائی ہزار برس گزر چکنے کے باوجود آج بھی قائم ہے اور ارسطو کے افکار کا سہارا لیے بغیر تنقید میں قلم اٹھانا آج بھی سخت مشکل بلکہ محال ہے۔(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -