وفاقی محکموں میں لاٹھی اور بھینس کا تعلق،معمر پنشنروں کی دہائی!

وفاقی محکموں میں لاٹھی اور بھینس کا تعلق،معمر پنشنروں کی دہائی!
وفاقی محکموں میں لاٹھی اور بھینس کا تعلق،معمر پنشنروں کی دہائی!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کابینہ ڈویژن کی طرف سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنسوں میں فوری طور پر50فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے،اتحادی حکومت کی طرف سے ملازمین کو دی جانے والی مراعات میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے بعد یہ ایک اور رعایت ہے۔گریڈ 1 سے22 تک سرکاری فرائض کی ادائیگی کے دوران تعیناتی کے مقام سے دوسرے مقام یا شہر کی طرف سفر کریں اور اس دوران ان کو رہائش بھی رکھنا پڑے تو ان کو سفر کے علاوہ ڈیلی الاؤنس بھی دیا جاتا تھا جو ناکافی تصور کیا جاتا رہا،اب وزیراعظم کی ہدایت پر اتحادی حکومت کے آخری دن بعض شعبوں کو بونس دینے کے علاوہ سفری اور روزانہ الاؤنسوں میں 50فیصد اضافے کی رعایت دی گئی، نوٹیفکیشن میں گریڈ1سے22 تک کی تفصیل دی گئی ہے۔ یہ حکم نیم سرکاری اداروں کے وفاقی ملازمین پر بھی لاگو ہو گا تاہم ابھی تک ایسے اداروں کی طرف سے کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔وفاقی حکومت نے بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں جو اضافہ کیا وہ نافذ العمل ہو چکا تاہم اس ملک کے بدقسمت سینئر سٹیزن اعلان کے مطابق پنشن میں اضافے سے محروم ہیں وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں اعلان کیا اور ای او بی آئی کی طرف سے اعلامیہ جاری کیا گیا کہ بزرگوں کی پنشن میں اضافہ کر کے10ہزار روپے ماہوار کر دی گئی ہے، سب ملازمین بجٹ کی منظوری والی مراعات سے سرفراز ہوئے لیکن ای او بی آئی کے پنشنر محروم ہیں۔


بعض سرکاری ملازمین کی طرف سے کچھ حقائق بیان کیے گئے ہیں جن سے احساس ہوتا ہے کہ جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کا مقولہ بلاوجہ نہیں،یہ بہت بڑی حقیقت ہے جو عام زندگی ہی نہیں مختلف شعبہ ہائے زندگی اور محکموں میں بھی رائج ہے اِس کا اندازہ یوں لگائیں کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دو سالوں میں دو بار یہ حکم دیا کہ جن سرکاری ملازمین کو ایک ہی گریڈ میں ملازمت کے دس سال ہو گئے ہیں ان کو اگلے گریڈ میں ترقی دے دی جائے یہ اسے16 گریڈ تک کے لئے لازم قرار دیا گیا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ وفاقی حکومت کے ہر محکمہ اور ہر شعبہ میں اس ہدایت پر دونوں مرتبہ عمل کر دیا گیا لیکن متروکہ وقف املاک جیسے سرکاری ادارے کے ملازمین کے تمام ریکارڈ کی پڑتال اور سکروٹنی کے باوجود ان کو اگلے گریڈ میں ترقی نہ دی گئی،ایسا اِکا دُکا اور نیم سرکاری اداروں میں بھی ہوا،اب اگر کسی ملازم نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا لیا تو ان محکموں کو واجبات بھی ادا کرنا پڑیں گے اور اس نقصان کا ذمہ دار بھی کوئی نہیں ٹھہرے گا۔


اب ای او بی آئی کے بزرگ اور سینئر سٹیزن کہلانے والے درجنوں پنشنروں نے شکایت کی بلکہ فریاد کی کہ وزیر خزانہ نے اپنے معمول کے خلاف بجٹ تقریر میں اعلان کیا اور انسٹیٹیوٹ کی طرف سے پریس ریلیز کے ذریعے اعلان بتایا گیا کہ پنشن میں ڈیڑھ ہزار روپے ماہوار کا اضافہ کر کے اب پنشن10ہزار روپے ماہوار کر دی گئی ہے لیکن یہ لالی پاپ رہا کہ جولائی کو جو پنشن آئی اس میں نہ تو اضافہ شامل کیا گیا اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ ایسا کیوں ہوا اور کیا،اضافے کا اعلان طفل تسلی تھی اور اتحادی حکومت نے معمر افراد سے مذاق کیا۔ملتان سے تعلق رکھنے والے ایک پنشنر کو گلہ ہے کہ عدالت عظمیٰ نے بے شمار سیاسی امور کے حوالے سے سوؤ موٹو نوٹس لئے لیکن ان پنشنروں کی فریاد پر توجہ نہ دی، حالانکہ عدالت عظمیٰ میں ای او بی آئی امور کے متعلق مسئلہ بھی زیر سماعت ہے اس میں بھی لمبی لمبی تاریخیں دی جاتی ہیں،اس بزرگ کے مطابق ایک سابق سیاسی بخشش والے چیئرمین کے خلاف اربوں روپے خورد برد کرنے کا الزام ہے۔ وہ نیب کی حراست میں تھے اور پھر جیل چلے گئے،ان صاحب نے عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا تو وہاں سے ضمانت مل گئی، پھر یہ ایسے گم ہوئے کہ تاریخ سماعت پر متعلقہ عدالت میں بھی پیش نہ ہوئے اور نہ ہی عدالت عظمیٰ نے کوئی نوٹس لیا۔


ای او بی آئی کے حوالے سے لاہور سے سلیمی صاحب اور ملتان کے ہمارے انہی سینئر شہری کا موقف ہے کہ یہ پنشن کی جو رقم ہے اس کا قومی خزانے سے ایسا کوئی تعلق  نہیں کہ حکومت فیصلہ کرے۔یہ تو ایک رفاہی فنڈ ہے جو ذوالفقار علی بھٹو نے بزرگ شہریوں کی اعانت کے لئے شروع کیا،اس فنڈ میں برسر روزگار ملازم کی تنخواہوں میں سے ایک حصہ ہر ماہ کٹتا اور دوسرے  تناسب سے آجر اپنا حصہ شامل کرتا ہے یوں یہ فنڈ جمع ہوتا ہے۔دوران ملازمت کسی ملازم کا کوئی حق نہیں،تاہم جب یہ ریٹائر ہو جائے تو آجر ادارے کے سرٹیفکیٹ کی بناء پر پنشن کا حق دار ہوتا ہے جو تاحیات ہے۔یہ پنشن ایک ہزار سے شروع ہوئی اور قریباً آٹھ دہائیوں کے بعد آٹھ ہزار روپے ماہوار تک پہنچی اِس وقت چار لاکھ سے زیادہ معمر افراد اس فہرست میں شامل ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ ای او بی آئی ایک ادارہ ہے جس کا بورڈ آف ڈائریکٹر، چیئرمین اور ڈائریکٹر ہیں۔مرکز میں متعدد جنرل منیجرز اور دیگر افسر ہیں جبکہ اضلاع میں ڈائریکٹر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر حضرات کے ماتحت دفاتر اور عملہ ہے۔ اس ادارے کا کام ”امانت“ کا تحفظ ہے کہ رجسٹرڈ اداروں اور حکومت سے مقررہ حصہ وصول کر کے استحقاق رکھنے والوں کو پنشن دی جائے۔اس فنڈ میں اربوں روپے جمع ہوئے اور تاحال ہو رہے ہیں اور مال مفت دِل بے رحم کے مطابق لوٹ بھی مچی ہوئی ہے۔چیئرمین سے ڈائریکٹر صاحبان اور منیجرز حضرات تک بھاری مشاعرے لیتے اور ان کو کاروں سمیت دیگر مراعات بھی حاصل ہیں جو سب مزدوروں کے خون پسینے کی کمائی سے لی جاتی ہیں اور پھر خورد برد الگ ہے۔یہ بھی بتایا گیا کہ2011ء سے 2016ء کے دوران یہ طے ہوا کہ پنشن کی رقم حکومت کی طرف سے مزدور کی مقرر کردہ کم از کم اجرت کے مطابق ہو گی اس بارے میں تمام قانونی تقاضے پورے ہو چکے تھے لیکن عمل اب تک نہیں ہوا، اور اب 10ہزار کا اعلان بھی ہوا میں تحلیل ہو گیا ہے،معمر پنشنر حضرات نے نہ صرف عدالت عظمیٰ بلکہ وفاقی محتسب سے اپیل کی کہ ان کا غصب شدہ حق دلایا جائے اور مال غریباں خورد برد کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔


میں نے یہ سب تحقیق کے بعد تحریر کیا ہے اور کوئی بھی ادارہ یہ تحقیقات کرا سکتا ہے۔ آج کے دور میں مہنگائی کا جو عالم ہے اس کے مطابق آٹھ ہزار اور دس ہزار روپے کیا معنی رکھتے ہیں یہ تو کسی بوڑھے  کے لئے ادویات بھی پوری نہیں کر سکتے، چہ جائیکہ کہ ”بابے“ کوئی ”بسکٹ عیاشی“ کر سکیں۔ پنشنر حضرات کے مطابق یہ ان پر ظلم ہے اور اس کا ازالہ ضروری ہے، کیا اب ہو گا؟ یہ بھی سوال ہے۔

مزید :

رائے -کالم -